<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:25:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:25:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دماغی کینسر کے علاج کی ایم این آر ویکسین تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1232942/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ماہرین نے کورونا سے تحفظ کی ٹیکنالوجی کی طرز پر دماغی کینسر کے علاج کی نئی ویکسین تیار کرلی، جس کے ابتدائی آزمائش کے نتائج حوصلہ کن آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0092867424003982?via%3Dihub"&gt;&lt;strong&gt;سیل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شائع تحقیق کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہرین نے ایم آر این اے ٹیکنالوجی کی ویکسین تیار کرکے پہلے اس کی آزمائش جانوروں پر کی، اس کے بعد اسے انسانوں پر بھی آزمایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے دماغی کینسر یعنی برین ٹیومر اور گلیوبلاسٹوما (Glioblastoma) کے علاج کی ویکسین تیار کی، جسے ابتدائی طور پر دماغی کینسر اور برین ٹیومر میں مبتلا 10 کتوں پر آزمایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے کتوں کے ایک گروپ کو نئی ویکسین دی جب کہ ایک گروپ کے کتوں کا روایتی انداز سے علاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232589"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران روایتی علاج کروانے والے کتے پروگرام کے 60 دن کے اندر ہی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے جب کہ جنہیں ایم آر این اے ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ویکسین دی گئی وہ 139 دن تک زندہ رہے، یعنی ان میں بیماری بڑھنے کی رفتار سست ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتوں پر کامیاب آزمائش کے بعد ماہرین نے اسے انسانوں پر بھی آزمایا اور دماغی کینسر میں مبتلا چار انسانوں کو پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے برین ٹیومر میں مبتلا مریضوں کو نئی ویکسین دینے کے بعد ان کے دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ویکسین دیے جانے کے دو دن بعد مریض انسانوں کے دماغ میں تبدیلیاں ہونا شروع ہوئیں اور برین ٹیومر پگھلنا یا نرم ہونا شروع ہوگیا جو کہ کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے کئی ہفتوں بعد نرم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے نئی ویکسین کے لیے زیادہ سے زیادہ مریضوں پر آزمائش کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا کہ ویکسین لگانے کے بعد انسان میں بیماری بڑھنے کی شرح سست ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر بنائی گئی ویکسین انسانی جسم اور خصوصی طور پر بیمار سیلز کو پروٹین یعنی طاقت فراہم کرکے انہیں جسم کے اندر پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی بار کورونا کی ویکسین میں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا تھا، تاہم مذکورہ ٹیکنالوجی پہلے سے ہی موجود تھی لیکن اس پر ویکسین اب بنانا شروع کیے گئے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو سب سے موثر قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ماہرین نے کورونا سے تحفظ کی ٹیکنالوجی کی طرز پر دماغی کینسر کے علاج کی نئی ویکسین تیار کرلی، جس کے ابتدائی آزمائش کے نتائج حوصلہ کن آئے ہیں۔</p>
<p>طبی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0092867424003982?via%3Dihub"><strong>سیل</strong></a> میں شائع تحقیق کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہرین نے ایم آر این اے ٹیکنالوجی کی ویکسین تیار کرکے پہلے اس کی آزمائش جانوروں پر کی، اس کے بعد اسے انسانوں پر بھی آزمایا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے دماغی کینسر یعنی برین ٹیومر اور گلیوبلاسٹوما (Glioblastoma) کے علاج کی ویکسین تیار کی، جسے ابتدائی طور پر دماغی کینسر اور برین ٹیومر میں مبتلا 10 کتوں پر آزمایا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے کتوں کے ایک گروپ کو نئی ویکسین دی جب کہ ایک گروپ کے کتوں کا روایتی انداز سے علاج کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232589"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق کے دوران روایتی علاج کروانے والے کتے پروگرام کے 60 دن کے اندر ہی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے جب کہ جنہیں ایم آر این اے ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ویکسین دی گئی وہ 139 دن تک زندہ رہے، یعنی ان میں بیماری بڑھنے کی رفتار سست ہوگئی۔</p>
<p>کتوں پر کامیاب آزمائش کے بعد ماہرین نے اسے انسانوں پر بھی آزمایا اور دماغی کینسر میں مبتلا چار انسانوں کو پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے برین ٹیومر میں مبتلا مریضوں کو نئی ویکسین دینے کے بعد ان کے دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ویکسین دیے جانے کے دو دن بعد مریض انسانوں کے دماغ میں تبدیلیاں ہونا شروع ہوئیں اور برین ٹیومر پگھلنا یا نرم ہونا شروع ہوگیا جو کہ کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے کئی ہفتوں بعد نرم ہوتا ہے۔</p>
<p>ماہرین نے نئی ویکسین کے لیے زیادہ سے زیادہ مریضوں پر آزمائش کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا کہ ویکسین لگانے کے بعد انسان میں بیماری بڑھنے کی شرح سست ہوجاتی ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر بنائی گئی ویکسین انسانی جسم اور خصوصی طور پر بیمار سیلز کو پروٹین یعنی طاقت فراہم کرکے انہیں جسم کے اندر پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔</p>
<p>پہلی بار کورونا کی ویکسین میں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا تھا، تاہم مذکورہ ٹیکنالوجی پہلے سے ہی موجود تھی لیکن اس پر ویکسین اب بنانا شروع کیے گئے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو سب سے موثر قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1232942</guid>
      <pubDate>Fri, 10 May 2024 23:15:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/10195311922edcf.jpg?r=195422" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/10195311922edcf.jpg?r=195422"/>
        <media:title>—فوٹو: پکچر الائنس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
