<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:21:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:21:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پارک لین، توشہ خانہ ریفرنس: آصف علی زرداری کو صدارتی استثنیٰ مل گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1232989/</link>
      <description>&lt;p&gt;پارک لین اور توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو صدارتی استثنیٰ مل گیا، احتساب عدالت اسلام آباد نےآصف علی زرداری کے خلاف کارروائی روک دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے صدر مملکت آصف زرداری کی نیب کیسز میں صدارتی استثنیٰ کی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر مملکت ہیں ان کے خلاف کیسز کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 (2) کے تحت درخواست دائر کی گئی، درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آصف زرداری جب تک صدر مملکت ہیں کیسز کی کرمنل کارروائی جاری نہیں رہ سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229112"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ پراسکیوشن کی جانب سے ان درخواستوں پر کوئی بھی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ ہی مخالفت کی گئی، آئین کے آرٹیکل 248 (2) کے تحت صدر مملکت کے خلاف کوئی کیس ہوسکتا اور نا کوئی کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتساب عدالت کا کہنا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی کیسز سے صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 19 مارچ کو احتساب عدالت اسلام آباد نے صدر مملکت آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں اور تحائف وصول کرنے سے متعلق ریفرنس میں آئندہ سماعت پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے رپورٹ طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں اور تحائف وصول کرنے سے متعلق نیب ریفرنس کی سماعت جج کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="توشہ-خانہ-ریفرنس" href="#توشہ-خانہ-ریفرنس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;توشہ خانہ ریفرنس&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے کاروں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیورو نے الزام عائد کیا کہ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری نے ستمبر اور اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے مسلح گاڑیاں (بی ایم ڈبلیو 750 لی ماڈل 2005، لیکسز جیپ ماڈل 2007 اور لیبیا سے بی ایم ڈبلیو 760 لی ماڈل 2008) حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ریفرنس کے مطابق وہ فوری طور پر اس کی اطلاع دینے اور کابینہ ٖڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا نہ ہی انہیں نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ سال 2008 میں نواز شریف کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا اس کے باوجود اپریل تا دسمبر 2008 میں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کوئی درخواست دیے بغیر اپنے فائدے کے لیے کابینہ ڈویژن کے تحت طریقہ کار میں بے ایمانی اور غیر قانونی طور پر نرمی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس کے مطابق خواجہ انور مجید نے ایم ایس انصاری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے آواری ٹاور کے نیشنل بینک کے ایک اکاؤنٹ سے 92 لاکھ روپے آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انہوں نے ایک اکاؤنٹ کے ذریعے آصف زرداری کی جانب سے ایک کروڑ 11 لاکھ 17 ہزار 557 روپے کی ادائیگی کی، ملزم نے اپنی غیر قانونی اسکیم کے سلسلے میں آصف زرداری کے ناجائز فوائد کے لیے مجموی طور پر 2 کروڑ 3 لاکھ 17 ہزار 557 روپے ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خواجہ عبدالغنی مجید نے آصف زرداری کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے 3 ہزار 716 ملین (371 کروڑ 60 لاکھ) روپے کی خطیر ادائیگیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب نے ان افراد پر بدعنوانی کا جرم کرنے اور نیب قوانین کے تحت واضح کی گئیں کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہنے کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان ملزمان پر مقدمہ چلا کر سخت ترین جیل کی سزا دی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پارک لین اور توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو صدارتی استثنیٰ مل گیا، احتساب عدالت اسلام آباد نےآصف علی زرداری کے خلاف کارروائی روک دی۔</p>
<p>احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے صدر مملکت آصف زرداری کی نیب کیسز میں صدارتی استثنیٰ کی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر مملکت ہیں ان کے خلاف کیسز کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 (2) کے تحت درخواست دائر کی گئی، درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آصف زرداری جب تک صدر مملکت ہیں کیسز کی کرمنل کارروائی جاری نہیں رہ سکتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229112"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ پراسکیوشن کی جانب سے ان درخواستوں پر کوئی بھی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ ہی مخالفت کی گئی، آئین کے آرٹیکل 248 (2) کے تحت صدر مملکت کے خلاف کوئی کیس ہوسکتا اور نا کوئی کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔</p>
<p>احتساب عدالت کا کہنا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی کیسز سے صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 19 مارچ کو احتساب عدالت اسلام آباد نے صدر مملکت آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں اور تحائف وصول کرنے سے متعلق ریفرنس میں آئندہ سماعت پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے رپورٹ طلب کی تھی۔</p>
<p>اس سے قبل احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں اور تحائف وصول کرنے سے متعلق نیب ریفرنس کی سماعت جج کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کردی تھی۔</p>
<h1><a id="توشہ-خانہ-ریفرنس" href="#توشہ-خانہ-ریفرنس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>توشہ خانہ ریفرنس</h1>
<p>احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔</p>
<p>اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے کاروں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔</p>
<p>بیورو نے الزام عائد کیا کہ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔</p>
<p>ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری نے ستمبر اور اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے مسلح گاڑیاں (بی ایم ڈبلیو 750 لی ماڈل 2005، لیکسز جیپ ماڈل 2007 اور لیبیا سے بی ایم ڈبلیو 760 لی ماڈل 2008) حاصل کیں۔</p>
<p>مذکورہ ریفرنس کے مطابق وہ فوری طور پر اس کی اطلاع دینے اور کابینہ ٖڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا نہ ہی انہیں نکالا گیا۔</p>
<p>نیب ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ سال 2008 میں نواز شریف کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا اس کے باوجود اپریل تا دسمبر 2008 میں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کوئی درخواست دیے بغیر اپنے فائدے کے لیے کابینہ ڈویژن کے تحت طریقہ کار میں بے ایمانی اور غیر قانونی طور پر نرمی حاصل کی۔</p>
<p>ریفرنس کے مطابق خواجہ انور مجید نے ایم ایس انصاری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے آواری ٹاور کے نیشنل بینک کے ایک اکاؤنٹ سے 92 لاکھ روپے آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔</p>
<p>اس کے علاوہ انہوں نے ایک اکاؤنٹ کے ذریعے آصف زرداری کی جانب سے ایک کروڑ 11 لاکھ 17 ہزار 557 روپے کی ادائیگی کی، ملزم نے اپنی غیر قانونی اسکیم کے سلسلے میں آصف زرداری کے ناجائز فوائد کے لیے مجموی طور پر 2 کروڑ 3 لاکھ 17 ہزار 557 روپے ادا کیے۔</p>
<p>دوسری جانب خواجہ عبدالغنی مجید نے آصف زرداری کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے 3 ہزار 716 ملین (371 کروڑ 60 لاکھ) روپے کی خطیر ادائیگیاں کیں۔</p>
<p>نیب نے ان افراد پر بدعنوانی کا جرم کرنے اور نیب قوانین کے تحت واضح کی گئیں کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہنے کا الزام لگایا۔</p>
<p>نیب نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان ملزمان پر مقدمہ چلا کر سخت ترین جیل کی سزا دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1232989</guid>
      <pubDate>Sat, 11 May 2024 13:26:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/111302154065ab6.jpg?r=130227" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/111302154065ab6.jpg?r=130227"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
