<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:55:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:55:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کے اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی سے حماس مضبوط ہوگا، ڈیوڈ کیمرون</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233066/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیار دینے  پر پابندی سے حماس کو تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے کو &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/uk-politics-68992105?src_origin=BBCS_BBC#lx-stream"&gt;انٹرویو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دیتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک رفح میں داخل نہ ہو جب تک کہ وہ شہریوں کے تحفظ کا کوئی منصوبہ نہیں بنا لیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیل نے شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی پلان/منصوبہ نہیں بنایا اس لیے ہم رفح میں کسی بھی بڑے آپریشن کی حمایت نہیں کرتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ’بہتر آپشن یہ ہے کہ حماس کو یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدے پر راضی ہوجانا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزیرخارجہ  نے مزید کہا کہ ’ہم ہتھیاروں کی برآمدات کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں گے، برطانیہ اگر اسرائیل پر ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی عائد کرے گا تو اس سے حماس مضبوط ہوگا اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے امکانات کم ہوں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا کہ اسلحے کی فروخت پر امریکا کا مؤقف برطانیہ سے بالکل مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ صیہونی فوج کی جانب سے رفح پر حملے کی دھمکی کے بعد امریکا نے اسرائیل کو بارودی مواد کی کھیپ روک دی تھی جو اسرائیلی فورسز غزہ میں جنگ کے لیے استعمال کیے جارہے تھے، جس کے نتیجے میں 7 اکتوبر سے اب تک 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد 8 مئی کو امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پہلی بار اعلانیہ خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کے شہر رفح پر بڑا حملہ کیا تو وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے  کہا تھا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہم تنہا کھڑے ہوں گے، کم وسائل میں بھی لڑیں گے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیار دینے  پر پابندی سے حماس کو تقویت ملے گی۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے کو <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/uk-politics-68992105?src_origin=BBCS_BBC#lx-stream">انٹرویو</a></strong> دیتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک رفح میں داخل نہ ہو جب تک کہ وہ شہریوں کے تحفظ کا کوئی منصوبہ نہیں بنا لیتے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیل نے شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی پلان/منصوبہ نہیں بنایا اس لیے ہم رفح میں کسی بھی بڑے آپریشن کی حمایت نہیں کرتے‘۔</p>
<p>ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ’بہتر آپشن یہ ہے کہ حماس کو یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدے پر راضی ہوجانا چاہیے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>برطانوی وزیرخارجہ  نے مزید کہا کہ ’ہم ہتھیاروں کی برآمدات کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں گے، برطانیہ اگر اسرائیل پر ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی عائد کرے گا تو اس سے حماس مضبوط ہوگا اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے امکانات کم ہوں گے۔‘</p>
<p>ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا کہ اسلحے کی فروخت پر امریکا کا مؤقف برطانیہ سے بالکل مختلف ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ صیہونی فوج کی جانب سے رفح پر حملے کی دھمکی کے بعد امریکا نے اسرائیل کو بارودی مواد کی کھیپ روک دی تھی جو اسرائیلی فورسز غزہ میں جنگ کے لیے استعمال کیے جارہے تھے، جس کے نتیجے میں 7 اکتوبر سے اب تک 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔</p>
<p>جس کے بعد 8 مئی کو امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پہلی بار اعلانیہ خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کے شہر رفح پر بڑا حملہ کیا تو وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دیں گے۔</p>
<p>تاہم امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے  کہا تھا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہم تنہا کھڑے ہوں گے، کم وسائل میں بھی لڑیں گے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233066</guid>
      <pubDate>Sun, 12 May 2024 15:57:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/121403476458cce.jpg?r=141127" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/121403476458cce.jpg?r=141127"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
