<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:20:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:20:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کے پاس رفح کے لوگوں کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد منصوبہ نہیں، بلنکن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233087/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کو ساڑھے 3ہزار بموں کی فراہمی روکنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ اسرائیل کے پاس رفح کے لوگوں کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد منصوبے کا فقدان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان ساڑھے 3ہزار بموں کو رفح میں پناہ لینے والے 14لاکھ باشندوں پر استعمال کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن اسرائیل کے دفاع کے لیے ان کی مدد کے لیے پرعزم ہیں اور 2ہزار اور 500 پاؤنڈ وزنی ساڑھے تین ہزار بموں کی کھیپ وہ واحد امریکی ہتھیاروں کا پیکج ہے جسے روکا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل رفح پر بڑے پیمانے پر حملہ کرتا ہے تو یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے رفح پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹونی بلنکن نے کہا کہ جو بائیڈن نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ رفح میں اس بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کرتا ہے، تو کچھ ایسے نظام موجود ہیں جو وہ اسرائیل کی سپورٹ اور اسلحہ سپلائی نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ہمیں ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے حقیقی خدشات ہیں، اسرائیل کو شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک واضح اور قابل اعتبار منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایسا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفح میں اس وقت تقریباً 14 لاکھ فلسطینی باشندے موجود ہیں جن میں سے اکثر غزہ میں تباہی کے بعد نقل مکانی کر کے وہاں پہنچنے ہیں اور اسرائیل کی شدید بمباری کے خوف کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی آپریشن میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینی باشندوں کی تعداد 35ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب جنوبی اسرائیل پر حماس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 1200 افراد کو مار ڈالا تھا اور 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 ماہ سے زجاری لڑائی میں اس کے 620 فوجی مارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کو ساڑھے 3ہزار بموں کی فراہمی روکنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ اسرائیل کے پاس رفح کے لوگوں کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد منصوبے کا فقدان ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان ساڑھے 3ہزار بموں کو رفح میں پناہ لینے والے 14لاکھ باشندوں پر استعمال کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن اسرائیل کے دفاع کے لیے ان کی مدد کے لیے پرعزم ہیں اور 2ہزار اور 500 پاؤنڈ وزنی ساڑھے تین ہزار بموں کی کھیپ وہ واحد امریکی ہتھیاروں کا پیکج ہے جسے روکا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل رفح پر بڑے پیمانے پر حملہ کرتا ہے تو یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے رفح پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>انٹونی بلنکن نے کہا کہ جو بائیڈن نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ رفح میں اس بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کرتا ہے، تو کچھ ایسے نظام موجود ہیں جو وہ اسرائیل کی سپورٹ اور اسلحہ سپلائی نہیں کریں گے۔</p>
<p>امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ہمیں ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے حقیقی خدشات ہیں، اسرائیل کو شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک واضح اور قابل اعتبار منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایسا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔</p>
<p>رفح میں اس وقت تقریباً 14 لاکھ فلسطینی باشندے موجود ہیں جن میں سے اکثر غزہ میں تباہی کے بعد نقل مکانی کر کے وہاں پہنچنے ہیں اور اسرائیل کی شدید بمباری کے خوف کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔</p>
<p>غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی آپریشن میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینی باشندوں کی تعداد 35ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔</p>
<p>اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب جنوبی اسرائیل پر حماس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 1200 افراد کو مار ڈالا تھا اور 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔</p>
<p>اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 ماہ سے زجاری لڑائی میں اس کے 620 فوجی مارے جا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233087</guid>
      <pubDate>Sun, 12 May 2024 22:36:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/12223503c438347.png?r=223526" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/12223503c438347.png?r=223526"/>
        <media:title>امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
