<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:24:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:24:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان پر حملہ کرنے کی صورت میں بھارت کی امریکی حمایت پر ایٹمی خطرے کا انتباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233249/</link>
      <description>&lt;p&gt;یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں  پاکستان پر حملہ کرنے کی صورت میں بھارت کی امریکی حمایت پر  کشیدگی میں خطرناک اضافہ اور ایٹمی خطرے سے خبر دار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1833588/us-warned-against-full-support-for-india-if-it-attacks-pakistan"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سینئر امریکی سفارت کاروں اور اسکالرز کے ایک گروپ کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیقی رپورٹ میں مصنفین نے امریکی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ ’یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بھارتی حکومت کو پاکستان اور افغانستان میں فوجی کارروائی کی اجازت دینا مزید کشیدگی اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے، اس سے بھارت کی توجہ بحرالکاہل خطے میں چین کا مقابلہ کرنے سے ہٹ سکتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مؤقف اپنایا کہ صورتحال مزید بگڑنے سے  پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے بعد چین کی شمولیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں امریکا بھی کردار ادا کرسکتا ہے اور ممکنہ طور پر جغرافیائی سیاست میں ایک بڑے عالمی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230247"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مصنفین میں سفیر این پیٹرسن، ڈاکٹر ٹریسیا بیکن، سفیر مائیکل پی میک کینلے، ڈاکٹر جوشوا وائٹ، اور ڈاکٹر برائن فنوکین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سابق امریکی سفیر پیٹرسن نے بتایا کہ  امریکی پالیسی سازوں نے افغانستان سے انخلا کے بعد جنوبی ایشیا میں انسداد دہشت گردی پر توجہ کم کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں باہمی تعلقات کے امکانات کو تسلیم کیا گیا ہے، دونوں ممالک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں شہریوں، سیکورٹی فورسز اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکا اور دیگر ممالک تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پاکستان-کے-بارے-میں-امریکا-کا-رویہ" href="#پاکستان-کے-بارے-میں-امریکا-کا-رویہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان کے بارے میں امریکا کا رویہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ امریکا کے پاس پاکستان کے حوالے سے دو آپشن ہیں، پہلا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان سے  بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بھارت کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی حوصلہ شکنی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا آپشن یہ ہے کہ امریکی حکومت بھارت مخالف دہشت گرد گروپوں سمیت دیگر خطرات کے خلاف پاکستانی کارروائی پر مجبور کرنے کے لیے ایک طریقہ اپنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229201"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا آپشن جس میں محتاط دباؤ کے ساتھ تعاون شامل ہے، کو خطے کے جغرافیہ اور پاکستان کی بھارت مخالف گروہوں کی حمایت کی تاریخ کی وجہ سے عملی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور وسطی ایشیا میں امریکا  فوجی کی عدم موجودگی کے باعث افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستانی زمینی راستے اور فضائی حدود اہم ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی سے لڑنے کا کوئی بھی منصوبہ جو پاکستان کو نظر انداز کرتا ہے ان لاجسٹک مسائل کی وجہ سے کام کرنا مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا آپشن کا مطلب ٹرمپ انتظامیہ کی ابتدائی پالیسیوں کی طرح پاکستان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کرنا ہوگا، تاہم یہ نقطہ نظر جغرافیائی رکاوٹوں کو دور نہیں کرسکتا اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی مدد نہیں کر سکتا، پاکستان بین الاقوامی خطرات پر تعاون سے انکار اور اپنی فضائی حدود بند کر کے جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں  پاکستان پر حملہ کرنے کی صورت میں بھارت کی امریکی حمایت پر  کشیدگی میں خطرناک اضافہ اور ایٹمی خطرے سے خبر دار کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1833588/us-warned-against-full-support-for-india-if-it-attacks-pakistan">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سینئر امریکی سفارت کاروں اور اسکالرز کے ایک گروپ کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیقی رپورٹ میں مصنفین نے امریکی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ ’یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بھارتی حکومت کو پاکستان اور افغانستان میں فوجی کارروائی کی اجازت دینا مزید کشیدگی اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے، اس سے بھارت کی توجہ بحرالکاہل خطے میں چین کا مقابلہ کرنے سے ہٹ سکتی ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے مؤقف اپنایا کہ صورتحال مزید بگڑنے سے  پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے بعد چین کی شمولیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں امریکا بھی کردار ادا کرسکتا ہے اور ممکنہ طور پر جغرافیائی سیاست میں ایک بڑے عالمی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230247"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مصنفین میں سفیر این پیٹرسن، ڈاکٹر ٹریسیا بیکن، سفیر مائیکل پی میک کینلے، ڈاکٹر جوشوا وائٹ، اور ڈاکٹر برائن فنوکین شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں سابق امریکی سفیر پیٹرسن نے بتایا کہ  امریکی پالیسی سازوں نے افغانستان سے انخلا کے بعد جنوبی ایشیا میں انسداد دہشت گردی پر توجہ کم کر دی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں باہمی تعلقات کے امکانات کو تسلیم کیا گیا ہے، دونوں ممالک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں شہریوں، سیکورٹی فورسز اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکا اور دیگر ممالک تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔</p>
<h3><a id="پاکستان-کے-بارے-میں-امریکا-کا-رویہ" href="#پاکستان-کے-بارے-میں-امریکا-کا-رویہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان کے بارے میں امریکا کا رویہ</h3>
<p>رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ امریکا کے پاس پاکستان کے حوالے سے دو آپشن ہیں، پہلا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان سے  بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بھارت کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی حوصلہ شکنی کرے۔</p>
<p>دوسرا آپشن یہ ہے کہ امریکی حکومت بھارت مخالف دہشت گرد گروپوں سمیت دیگر خطرات کے خلاف پاکستانی کارروائی پر مجبور کرنے کے لیے ایک طریقہ اپنا سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229201"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پہلا آپشن جس میں محتاط دباؤ کے ساتھ تعاون شامل ہے، کو خطے کے جغرافیہ اور پاکستان کی بھارت مخالف گروہوں کی حمایت کی تاریخ کی وجہ سے عملی سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور وسطی ایشیا میں امریکا  فوجی کی عدم موجودگی کے باعث افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستانی زمینی راستے اور فضائی حدود اہم ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی سے لڑنے کا کوئی بھی منصوبہ جو پاکستان کو نظر انداز کرتا ہے ان لاجسٹک مسائل کی وجہ سے کام کرنا مشکل ہوگا۔</p>
<p>دوسرا آپشن کا مطلب ٹرمپ انتظامیہ کی ابتدائی پالیسیوں کی طرح پاکستان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کرنا ہوگا، تاہم یہ نقطہ نظر جغرافیائی رکاوٹوں کو دور نہیں کرسکتا اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی مدد نہیں کر سکتا، پاکستان بین الاقوامی خطرات پر تعاون سے انکار اور اپنی فضائی حدود بند کر کے جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233249</guid>
      <pubDate>Wed, 15 May 2024 09:48:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/150850172e6c28f.jpg?r=085110" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/150850172e6c28f.jpg?r=085110"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
