<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:54:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:54:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف مذاکرات: پاکستان نے ایس آئی ایف سی کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرادی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233283/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان نئے بیل آوٹ پیکج کے لیے مذاکرات جاری ہیں جس دوران پاکستان نے  آئی ایم ایف کو خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی میں سرمایہ کاری پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت کی جائے گی، ایس آئی ایف سی  فورم کے ذریعے سرمایہ کاری کے غیر مساوی مواقع پیدا نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید کہا کہ کسی قسم کی ترغیبات یا گارنٹی شدہ واپسی کا کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا، ایس آئی ایف سی کے لیے عالمی معیار کے مطابق شفافیت کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو مسخ نہ کرنے اور  سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی آپریشنل کپیسٹی بہتر بنانے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232896"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232896/"&gt;10 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو پاکستان کے ساتھ نئےقرض پروگرام پر مذاکرات کے لیے پہلے مرحلے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تکنیکی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ نئے قرض پروگرام پر مذاکرات کا آغاز 15 مئی سے شیڈول ہے، آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر وفد کی قیادت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا تھا کہ ماہرین کی ٹیم وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام سے ملاقاتیں کریں گی، مذاکرات سے پہلے ماہرین کی ٹیم حکومت کے ساتھ ڈیٹا پربات چیت کرے گی، وزارت خزانہ نئے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ نیا قرض پروگرام 6 سے 8 ارب ڈالرز اور دورانیہ تین سال یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان نئے بیل آوٹ پیکج کے لیے مذاکرات جاری ہیں جس دوران پاکستان نے  آئی ایم ایف کو خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرادی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی میں سرمایہ کاری پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت کی جائے گی، ایس آئی ایف سی  فورم کے ذریعے سرمایہ کاری کے غیر مساوی مواقع پیدا نہیں ہوں گے۔</p>
<p>ذرائع نے مزید کہا کہ کسی قسم کی ترغیبات یا گارنٹی شدہ واپسی کا کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا، ایس آئی ایف سی کے لیے عالمی معیار کے مطابق شفافیت کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو مسخ نہ کرنے اور  سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی آپریشنل کپیسٹی بہتر بنانے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232896"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232896/">10 مئی</a></strong> کو پاکستان کے ساتھ نئےقرض پروگرام پر مذاکرات کے لیے پہلے مرحلے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تکنیکی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ نئے قرض پروگرام پر مذاکرات کا آغاز 15 مئی سے شیڈول ہے، آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر وفد کی قیادت کریں گے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا تھا کہ ماہرین کی ٹیم وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام سے ملاقاتیں کریں گی، مذاکرات سے پہلے ماہرین کی ٹیم حکومت کے ساتھ ڈیٹا پربات چیت کرے گی، وزارت خزانہ نئے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ نیا قرض پروگرام 6 سے 8 ارب ڈالرز اور دورانیہ تین سال یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233283</guid>
      <pubDate>Wed, 15 May 2024 13:51:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکثناء اللہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/151342544bfbf1b.jpg?r=134449" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/151342544bfbf1b.jpg?r=134449"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
