<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 18:01:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 18:01:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک اے آئی مواد پر لیبل لگائے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233518/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے تیار مواد پر از خود لیبل لگانا شروع کردے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کی طرح انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز نے بھی اے آئی مواد پر لیبل لگانے کا آغاز کیا ہے جب کہ زیادہ تر پلیٹ فارم مواد کو اپ لوڈ کرتے وقت صارف کو آپشن بھی دیتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ مذکورہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا یا نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کی مدد سے تیار شدہ مواد کی وجہ سے بہت سارے لوگ پریشان بھی دکھائی دیتے ہیں، اس لیے اب ٹک ٹاک ایسے تمام مواد پر از خود لیبل لگانا شروع کردے گا جسے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہاں تک کہ اگر کسی دوسرے اے آئی پلیٹ فارم پر بھی مواد تیار کیا جائےگا لیکن اسے جیسے ہی ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کیا جائے گا تو کمپنی از خود اس پر اے آئی کانٹینٹ کا لیبل لگا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211863"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ٹک ٹاک متعدد کمپنیوں کے اشتراک سے اس بات کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے کہ اے آئی مواد کی واضح نشاندہی کی جا سکے تاکہ صارفین اصلی اور اے آئی مواد میں واضح فرق کو محسوس کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفافیت کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے  ٹک ٹاک جلد ہی اپنے تمام مواد میں کانٹنٹ  کریڈینشل کو توسیع دے گا جو میٹا ڈیٹاکے ڈاؤن لوڈ ہونے پر بھی مواد کے ساتھ منسلک رہ سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں میڈیا وائز (MediaWise) اور وٹنیس(WITNESS) کے اشتراک سے ٹک ٹاک تعلیمی کمپینز کا ایک سلسلہ بھی شروع کرے گا، جس کا مقصد میڈیا میں ٹیکنالوجی سے متعلق خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات صارفین کو آن لائن معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے اور بااختیار بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کردہ حقیقی اور گمراہ مواد کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی منصوبے کے ستحت سال بھر میں ٹک ٹاک میڈیا وائز کے تعاون سے 12 ویڈیوز کی ایک سیریز جاری کرے گا جس کا مقصد عالمی سطح پر میڈیا میں خواندگی اور مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے تیار مواد پر از خود لیبل لگانا شروع کردے گا۔</p>
<p>ٹک ٹاک کی طرح انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز نے بھی اے آئی مواد پر لیبل لگانے کا آغاز کیا ہے جب کہ زیادہ تر پلیٹ فارم مواد کو اپ لوڈ کرتے وقت صارف کو آپشن بھی دیتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ مذکورہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا یا نہیں؟</p>
<p>اے آئی کی مدد سے تیار شدہ مواد کی وجہ سے بہت سارے لوگ پریشان بھی دکھائی دیتے ہیں، اس لیے اب ٹک ٹاک ایسے تمام مواد پر از خود لیبل لگانا شروع کردے گا جسے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہوگا۔</p>
<p>کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہاں تک کہ اگر کسی دوسرے اے آئی پلیٹ فارم پر بھی مواد تیار کیا جائےگا لیکن اسے جیسے ہی ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کیا جائے گا تو کمپنی از خود اس پر اے آئی کانٹینٹ کا لیبل لگا دے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211863"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمپنی کے مطابق ٹک ٹاک متعدد کمپنیوں کے اشتراک سے اس بات کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے کہ اے آئی مواد کی واضح نشاندہی کی جا سکے تاکہ صارفین اصلی اور اے آئی مواد میں واضح فرق کو محسوس کر سکیں۔</p>
<p>شفافیت کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے  ٹک ٹاک جلد ہی اپنے تمام مواد میں کانٹنٹ  کریڈینشل کو توسیع دے گا جو میٹا ڈیٹاکے ڈاؤن لوڈ ہونے پر بھی مواد کے ساتھ منسلک رہ سکے گا۔</p>
<p>علاوہ ازیں میڈیا وائز (MediaWise) اور وٹنیس(WITNESS) کے اشتراک سے ٹک ٹاک تعلیمی کمپینز کا ایک سلسلہ بھی شروع کرے گا، جس کا مقصد میڈیا میں ٹیکنالوجی سے متعلق خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>یہ اقدامات صارفین کو آن لائن معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے اور بااختیار بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کردہ حقیقی اور گمراہ مواد کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>اسی منصوبے کے ستحت سال بھر میں ٹک ٹاک میڈیا وائز کے تعاون سے 12 ویڈیوز کی ایک سیریز جاری کرے گا جس کا مقصد عالمی سطح پر میڈیا میں خواندگی اور مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233518</guid>
      <pubDate>Fri, 17 May 2024 22:51:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/172021192d38eff.jpg?r=202156" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/172021192d38eff.jpg?r=202156"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
