<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:41:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:41:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی لیکس کی تحقیقات ایف آئی اے، نیب سے کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233552/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی لیکس کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور قومی احتساب بیورو (نیب) سے کرانے کے لیے درخواست دائر لاہور ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کے ذریعے  لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی، جس میں وفاقی حکومت، نیب ، ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ دبئی لیکس میں کئی پاکستانی سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کے نام آئے، ہر سیاستدان پر اپنی تمام ملکی و غیر ملکی پراپرٹی ظاہر کرنا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ ایف آئی اے، نیب اور دیگر متعلقہ اداروں کو دبئی لیکس کی تحقیقات کا حکم دے، تحقیقات ہونی چاہئیں کہ دبئی میں خریدی گئی پراپرٹیز منی لانڈرنگ سے تو نہیں بنائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ دبئی میں غیر قانونی پراپرٹی ثابت ہونے پر مالکان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 14 مئی کو پاناما لیکس کے کئی سال بعد عالمی رہنماؤں، سیاستدانوں اور دیگر طاقتور افراد کی خفیہ دولت کی تفصیلات کے حوالے سے ’دبئی اَن لاکڈ‘ کے نام سے ایک اور لیک سامنے آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے) طرز کے ایک اور تحقیقاتی کنسورشیم آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے ڈیٹا لیک کی شکل میں جاری کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی ان لاکڈ کی تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے چوٹی کے امیر افراد کی دبئی میں اربوں ڈالرز کی جائیدادیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی ڈیٹا لیکس میں 17 ہزار پاکستانی شہری دبئی میں رہائشی املاک کے مالکان کے طور پر ظاہر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا میں پاکستانیوں کی جانب سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کُل سرمایہ کاری کی مالیت ساڑھے 12 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی لیکس کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور قومی احتساب بیورو (نیب) سے کرانے کے لیے درخواست دائر لاہور ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی۔</p>
<p>درخواست شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کے ذریعے  لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی، جس میں وفاقی حکومت، نیب ، ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ دبئی لیکس میں کئی پاکستانی سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کے نام آئے، ہر سیاستدان پر اپنی تمام ملکی و غیر ملکی پراپرٹی ظاہر کرنا لازم ہے۔</p>
<p>استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ ایف آئی اے، نیب اور دیگر متعلقہ اداروں کو دبئی لیکس کی تحقیقات کا حکم دے، تحقیقات ہونی چاہئیں کہ دبئی میں خریدی گئی پراپرٹیز منی لانڈرنگ سے تو نہیں بنائی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ دبئی میں غیر قانونی پراپرٹی ثابت ہونے پر مالکان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 14 مئی کو پاناما لیکس کے کئی سال بعد عالمی رہنماؤں، سیاستدانوں اور دیگر طاقتور افراد کی خفیہ دولت کی تفصیلات کے حوالے سے ’دبئی اَن لاکڈ‘ کے نام سے ایک اور لیک سامنے آئی تھیں۔</p>
<p>تفصیلات تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے) طرز کے ایک اور تحقیقاتی کنسورشیم آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے ڈیٹا لیک کی شکل میں جاری کی تھیں۔</p>
<p>دبئی ان لاکڈ کی تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے چوٹی کے امیر افراد کی دبئی میں اربوں ڈالرز کی جائیدادیں موجود ہیں۔</p>
<p>دبئی ڈیٹا لیکس میں 17 ہزار پاکستانی شہری دبئی میں رہائشی املاک کے مالکان کے طور پر ظاہر کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ڈیٹا میں پاکستانیوں کی جانب سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کُل سرمایہ کاری کی مالیت ساڑھے 12 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233552</guid>
      <pubDate>Sat, 18 May 2024 10:06:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلالویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/181004030a58408.jpg?r=100519" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/181004030a58408.jpg?r=100519"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
