<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 13:03:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 13:03:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیصل واڈا پریس کانفرنس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233572/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ڈان نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، دونوں کو اپنے کیے کی وضاحت کا موقع دیتے ہوئے شوکاز جاری کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/yiXxHPKVrlI?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکمنامے میں ٹی وی چینلز کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز مواد چلانا یا دوبارہ نشر کرنے والے چینلز توہین عدالت کر رہے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233467/"&gt;گزشتہ روز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سپریم کورٹ میں سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر &lt;strong&gt;[16 مئی کو]&lt;/strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233412/"&gt;2&lt;/a&gt;  لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے فیصل واڈا اور مصطفیٰ کمال کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 5 جون تک ملتوی کردی تھی، عدالت عظمیٰ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا  تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="فیصل-واڈا-نے-کیا-کہا-تھا" href="#فیصل-واڈا-نے-کیا-کہا-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیصل واڈا نے کیا کہا تھا؟&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233290/"&gt;15 مئی کو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سابق وفاقی وزیر فیصل واڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پاکستان میں کوئی پگڑی اچھالے گا تو ہم ان کی پگڑیوں کی فٹبال بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا، 15 روز ہوگئےجواب نہیں آیا، 19 اے کے تحت مجھے جواب دیا جائے، بابر ستار کہتے ہیں کہ جج بننے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ بھیجی، ہم نے کہا کہ اس کے حوالے سے ریکارڈ روم کے اندر کوئی چیز ہوگی تحریری طور پر لیکن اس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آرڈر دیا کہ ہر پاکستانی بات کسی سے بھی پوچھ سکتا ہے تو پاکستانی تو دور کی بات ایک سینیٹر کو جواب نہیں مل رہا تو اب ابہام بڑھ رہا ہے، شک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ اس کے پیچھے منطق کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے چیزیں ہوئیں، ایک سال بعد یاد آئیں، تو ایک سال پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اب پھر مداخلت ہوئی پرسوں تو الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب آپ کو ثبوت دینے پڑیں گے کہ کس نے مداخلت کی، کیوں کی اور اس کے شواہد دیں تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ورنہ تو میں بھی فون اٹھا کر کہوں کہ جج نے کہہ دیا ہے کہ قتل کردو تو اس کا ٹرائل تھوڑی ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل واڈا نے کہا تھا کہ ہمیں جواب نہیں مل رہا، ہمیں بتایا جائے کہ کیا ریکارڈ کے اندر یہ سب لکھا گیا ہے اور اگر ریکارڈ کا حصہ نہیں تو اس کے نتائج ہوں گے، اطہر من اللہ صاحب تو تاریخی فیصلے کرتے ہیں، میرا گمان ہے کہ وہ اصول پسند آدمی ہیں، وہ کسی دباؤ میں نہیں آتے، کسی سے رات کے اندھیرے میں نہیں ملتے تو وہ ایسی غلطی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے تحریری طور پر چیز نہ لی ہو، وہ ریکارڈ ہمیں ملنا چاہیے، ہم اسے کیوں نا مانگیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="مصفطیٰ-کمال-نے-کیا-کہا-تھا" href="#مصفطیٰ-کمال-نے-کیا-کہا-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مصفطیٰ کمال نے کیا کہا تھا؟&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233403"&gt;16 مئی کو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ایک غریب اور مڈل کلاس آدمی بغیر پیسا خرچ کیے انصاف کی امید نہیں رکھ سکتا، ایک جج دہری شہریت پر عوامی نمائندے کو گھر بھیج سکتا ہے تو خود اس کے لیے یہ پابندی کیوں نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل ہی سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران 5 رکنی لارجر بینچ کے رکن جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججوں کوپراکسی کے ذریعے دھمکانا شروع کردیا؟ کیا آپ پگڑیوں کی فٹبال بنائیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے، میں اس بات کا حامی نہیں ہوں،اس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ نہ تو اس سے کوئی جج متاثر ہوگا، نہ ہراساں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔</p>
<p>’ڈان نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، دونوں کو اپنے کیے کی وضاحت کا موقع دیتے ہوئے شوکاز جاری کیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/yiXxHPKVrlI?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکمنامے میں ٹی وی چینلز کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز مواد چلانا یا دوبارہ نشر کرنے والے چینلز توہین عدالت کر رہے ہوں گے۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233467/">گزشتہ روز</a></strong> سپریم کورٹ میں سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر <strong>[16 مئی کو]</strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233412/">2</a>  لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ میں شامل تھے۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے فیصل واڈا اور مصطفیٰ کمال کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 5 جون تک ملتوی کردی تھی، عدالت عظمیٰ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا  تھا۔</p>
<h4><a id="فیصل-واڈا-نے-کیا-کہا-تھا" href="#فیصل-واڈا-نے-کیا-کہا-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیصل واڈا نے کیا کہا تھا؟</h4>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233290/">15 مئی کو</a></strong> سابق وفاقی وزیر فیصل واڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پاکستان میں کوئی پگڑی اچھالے گا تو ہم ان کی پگڑیوں کی فٹبال بنائیں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا، 15 روز ہوگئےجواب نہیں آیا، 19 اے کے تحت مجھے جواب دیا جائے، بابر ستار کہتے ہیں کہ جج بننے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ بھیجی، ہم نے کہا کہ اس کے حوالے سے ریکارڈ روم کے اندر کوئی چیز ہوگی تحریری طور پر لیکن اس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آرڈر دیا کہ ہر پاکستانی بات کسی سے بھی پوچھ سکتا ہے تو پاکستانی تو دور کی بات ایک سینیٹر کو جواب نہیں مل رہا تو اب ابہام بڑھ رہا ہے، شک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ اس کے پیچھے منطق کیا ہے؟</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے چیزیں ہوئیں، ایک سال بعد یاد آئیں، تو ایک سال پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اب پھر مداخلت ہوئی پرسوں تو الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب آپ کو ثبوت دینے پڑیں گے کہ کس نے مداخلت کی، کیوں کی اور اس کے شواہد دیں تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ورنہ تو میں بھی فون اٹھا کر کہوں کہ جج نے کہہ دیا ہے کہ قتل کردو تو اس کا ٹرائل تھوڑی ہوجائے گا۔</p>
<p>فیصل واڈا نے کہا تھا کہ ہمیں جواب نہیں مل رہا، ہمیں بتایا جائے کہ کیا ریکارڈ کے اندر یہ سب لکھا گیا ہے اور اگر ریکارڈ کا حصہ نہیں تو اس کے نتائج ہوں گے، اطہر من اللہ صاحب تو تاریخی فیصلے کرتے ہیں، میرا گمان ہے کہ وہ اصول پسند آدمی ہیں، وہ کسی دباؤ میں نہیں آتے، کسی سے رات کے اندھیرے میں نہیں ملتے تو وہ ایسی غلطی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے تحریری طور پر چیز نہ لی ہو، وہ ریکارڈ ہمیں ملنا چاہیے، ہم اسے کیوں نا مانگیں؟</p>
<p>بعد ازاں گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹر فیصل واڈا کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس لے لیا تھا۔</p>
<h4><a id="مصفطیٰ-کمال-نے-کیا-کہا-تھا" href="#مصفطیٰ-کمال-نے-کیا-کہا-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مصفطیٰ کمال نے کیا کہا تھا؟</h4>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233403">16 مئی کو</a></strong> متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ایک غریب اور مڈل کلاس آدمی بغیر پیسا خرچ کیے انصاف کی امید نہیں رکھ سکتا، ایک جج دہری شہریت پر عوامی نمائندے کو گھر بھیج سکتا ہے تو خود اس کے لیے یہ پابندی کیوں نہیں؟</p>
<p>یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل ہی سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران 5 رکنی لارجر بینچ کے رکن جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججوں کوپراکسی کے ذریعے دھمکانا شروع کردیا؟ کیا آپ پگڑیوں کی فٹبال بنائیں گے؟</p>
<p>اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے، میں اس بات کا حامی نہیں ہوں،اس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ نہ تو اس سے کوئی جج متاثر ہوگا، نہ ہراساں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233572</guid>
      <pubDate>Sat, 18 May 2024 15:25:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/181455315b02900.png?r=151721" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/181455315b02900.png?r=151721"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/181517020f441f0.jpg?r=151721" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/181517020f441f0.jpg?r=151721"/>
        <media:title>—فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
