<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:24:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:24:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: بی جے پی کو انتخاب میں مشکلات کا سامنا، آر ایس ایس مدد کے لیے میدان میں اتر گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233785/</link>
      <description>&lt;p&gt;اندرونی ذرائع نے کہا ہے کہ ووٹرز کی انتخابات میں عدم دلچسپی  اور بھارت کے بڑے پیمانے پر ہونے والے الیکشن میں  اپوزیشن کی طرف سے مزاحمت کا  سامنا کرنے والے  وزیر اعظم نریندر مودی کی مدد کے لیے  ان کی پارٹی کے ہندو قوم پرست سپاہی  میدان میں اتر گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1834772/rss-steps-in-as-modis-bjp-faces-resistance-fatigue-in-election"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  6 ہفتے تک جاری رہنے والے انتخابات میں اب  2 ہفتے سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے، اس انتخابات میں ووٹرز  ٹرن آؤٹ پچھلے انتخابات سے کم رہا  جس سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اندر تشویش پیدا ہوگئی ہے کہ اس کے کچھ بنیادی حامیوں نے ووٹنگ  میں حصہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی کی پارٹی کو چند ریاستوں میں توقع سے زیادہ مضبوط مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جون کو  ووٹنگ مکمل ہونے تک کسی ایگزٹ پول کی اجازت نہیں، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ امیدواروں کی کارکردگی کتنی اچھی یا خراب رہی لیکن زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 4 جون کو ووٹوں کی گنتی کے وقت نریندر مودی  543 نشستوں والی پارلیمنٹ میں اکثریت برقرار رکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ووٹنگ کے پہلے دو مرحلوں کے بعد  تجزیہ کاروں اور سیاسی کارکنوں نے کہا کہ   بی جے پی کے دوتہائی اکثریت یا  362 سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نئی دہلی کے علاقے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) گروپ کے سینئر پبلسٹی اہلکار رتیش اگروال نے کہا کہ آر ایس ایس کے رضاکار لوگوں کو باہر  نکلنے اور ووٹ ڈالنے کے لیے راضی کرنے کے لیے ان کے گھروں میں میٹنگز کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کے تین  ترجمانوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ آر ایس ایس ووٹر ٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے میں مدد  کر رہی ہے لیکن انہوں نے اس عمل  سے بی جے پی پر کیا اثر پڑے گا پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان شہزاد پونا والا نے بتایا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بی جے پی کمزور پوزیشن میں ہے، کم ٹرن آؤٹ نے تمام پارٹیوں کو متاثر کیا ہے اور پہلے دو مرحلوں کے بعد ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اندرونی ذرائع نے کہا ہے کہ ووٹرز کی انتخابات میں عدم دلچسپی  اور بھارت کے بڑے پیمانے پر ہونے والے الیکشن میں  اپوزیشن کی طرف سے مزاحمت کا  سامنا کرنے والے  وزیر اعظم نریندر مودی کی مدد کے لیے  ان کی پارٹی کے ہندو قوم پرست سپاہی  میدان میں اتر گئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1834772/rss-steps-in-as-modis-bjp-faces-resistance-fatigue-in-election">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  6 ہفتے تک جاری رہنے والے انتخابات میں اب  2 ہفتے سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے، اس انتخابات میں ووٹرز  ٹرن آؤٹ پچھلے انتخابات سے کم رہا  جس سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اندر تشویش پیدا ہوگئی ہے کہ اس کے کچھ بنیادی حامیوں نے ووٹنگ  میں حصہ نہیں لیا۔</p>
<p>نریندر مودی کی پارٹی کو چند ریاستوں میں توقع سے زیادہ مضبوط مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>یکم جون کو  ووٹنگ مکمل ہونے تک کسی ایگزٹ پول کی اجازت نہیں، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ امیدواروں کی کارکردگی کتنی اچھی یا خراب رہی لیکن زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 4 جون کو ووٹوں کی گنتی کے وقت نریندر مودی  543 نشستوں والی پارلیمنٹ میں اکثریت برقرار رکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم، ووٹنگ کے پہلے دو مرحلوں کے بعد  تجزیہ کاروں اور سیاسی کارکنوں نے کہا کہ   بی جے پی کے دوتہائی اکثریت یا  362 سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب نئی دہلی کے علاقے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) گروپ کے سینئر پبلسٹی اہلکار رتیش اگروال نے کہا کہ آر ایس ایس کے رضاکار لوگوں کو باہر  نکلنے اور ووٹ ڈالنے کے لیے راضی کرنے کے لیے ان کے گھروں میں میٹنگز کر رہے ہیں۔</p>
<p>بی جے پی کے تین  ترجمانوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ آر ایس ایس ووٹر ٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے میں مدد  کر رہی ہے لیکن انہوں نے اس عمل  سے بی جے پی پر کیا اثر پڑے گا پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔</p>
<p>ترجمان شہزاد پونا والا نے بتایا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بی جے پی کمزور پوزیشن میں ہے، کم ٹرن آؤٹ نے تمام پارٹیوں کو متاثر کیا ہے اور پہلے دو مرحلوں کے بعد ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233785</guid>
      <pubDate>Tue, 21 May 2024 10:38:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/21105202aa12164.png?r=105210" type="image/png" medium="image" height="432" width="721">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/21105202aa12164.png?r=105210"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
