<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:49:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:49:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہتک عزت بل پنجاب اسمبلی واپس بھیجنے کیلئے گورنر پنجاب کو خط ارسال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233895/</link>
      <description>&lt;p&gt;جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے ہتک عزت بل 2024 کو  پنجاب اسمبلی واپس بھیجنے کے لیے خط ارسال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی سے منظور کیے گئے ہتک عزت بل 2024 کو صوبائی اسمبلی واپس بھیجنے کے لیے گورنر پنجاب کو ایک خط لکھا گیا ہے، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مراسلہ گورنر پنجاب کو بھجوایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ ہتک عزت کا قانون آئین کے  آرٹیکل 19 کےمنافی ہے، اس قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار رائے کو روکا گیا جو بنیادی حق کے خلاف ہے، ہتک عزت قانون معلومات تک رسائی کے شہریوں کے حق میں بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید کہا گیا کہ ہتک عزت قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار کا گلہ کاٹ دیا گیا، اس بل کی منظوری شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے، جب کہ بل کے نفاذ کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے کا خدشہ ہے لہذا گورنر پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو منظور کیے بغیر اسمبلی واپس بھجوائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233759"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ صوبائی اسمبلی نے کل ہتک عزت بل 2024 منظور کیا تھا، اس دوران سنی اتحاد کونسل اور پارلیمانی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے بھرپور احتجاج کیا، جب کہ اپوزیشن کی تجویز کردہ تمام ترامیم کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا اور اس بل کو آزاد میڈیا پر پابندی کے مترادف قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، میڈیا کی نمائندہ تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے بل  کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ رات کی تاریکی میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر قانون بنایا گیا، اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور حکومت پنجاب کے بل کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے ہتک عزت بل 2024 کو  پنجاب اسمبلی واپس بھیجنے کے لیے خط ارسال کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی سے منظور کیے گئے ہتک عزت بل 2024 کو صوبائی اسمبلی واپس بھیجنے کے لیے گورنر پنجاب کو ایک خط لکھا گیا ہے، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مراسلہ گورنر پنجاب کو بھجوایا۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ ہتک عزت کا قانون آئین کے  آرٹیکل 19 کےمنافی ہے، اس قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار رائے کو روکا گیا جو بنیادی حق کے خلاف ہے، ہتک عزت قانون معلومات تک رسائی کے شہریوں کے حق میں بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>خط میں مزید کہا گیا کہ ہتک عزت قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار کا گلہ کاٹ دیا گیا، اس بل کی منظوری شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے، جب کہ بل کے نفاذ کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے کا خدشہ ہے لہذا گورنر پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو منظور کیے بغیر اسمبلی واپس بھجوائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233759"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ صوبائی اسمبلی نے کل ہتک عزت بل 2024 منظور کیا تھا، اس دوران سنی اتحاد کونسل اور پارلیمانی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے بھرپور احتجاج کیا، جب کہ اپوزیشن کی تجویز کردہ تمام ترامیم کو مسترد کردیا۔</p>
<p>اس موقع پر پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا اور اس بل کو آزاد میڈیا پر پابندی کے مترادف قرار دیا۔</p>
<p>بعد ازاں، میڈیا کی نمائندہ تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے بل  کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ رات کی تاریکی میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر قانون بنایا گیا، اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور حکومت پنجاب کے بل کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233895</guid>
      <pubDate>Wed, 22 May 2024 11:51:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/2211482446c4fc0.jpg?r=115024" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/2211482446c4fc0.jpg?r=115024"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
