<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:24:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:24:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی ٹی ڈی دفتر سے شہری بازیاب، افسران اور اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1233897/</link>
      <description>&lt;p&gt;محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے دفتر سے بازیاب ہونے والے   شہری عالیان  کے ماموں نے سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق  مقدمہ اغوا برائے تاوان کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے، اس میں بتایا گیا کہ میں پاکستان رینجرز میں بحیثیت لانس نائیک ڈیوٹی کرتا ہوں، 19 مئی کو میرا بھانجا محمد عالیان عراق سے کراچی پہنچا تھا، شاہراہ فیصل پر میرے بھانجے کو سرکاری پولیس موبائل نے روکا جس کے  ساتھ ایک ڈبل کیبن بھی موجود تھی اور وہ  اسے  ٹیکسی سے اتار کر  اپنے ہمراہ لے گئے، دو روز بعد مجھے موبائل فون کال موصول ہوئی، کالر نے اپنا تعلق سی ٹی ڈی سے بتایا اور مجھ سے کہا کہ اگر تم بھانجے کی رہائی چاہتے ہو تو 15 لاکھ روپے تاوان ادا کرو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی اہلکار سے ایک لاکھ روپے میں معاملات طے ہوا اور  مجھے رقم لے کر سول لائن سی ٹی ڈی تھانہ پہنچنے کا کہا گیا میں شام 4 بجے وہاں پہنچا جہاں پر موجود ایک شخص نے کہا کہ بھانجے کے لیے آئے ہو تو رقم مجھے دے دو، میں نے کہا کہ پہلے میرے بھانجے کو لاؤ پھر رقم دوں گا، تاہم رقم دینے کے بعد ہی میرے بھانجے کو مجھے دیا گیا، اسی کے ساتھ رینجرز اہلکار سی ٹی ڈی کے دفتر میں داخل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221741"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز رینجرز نے سی ٹی ڈی دفتر پر چھاپا مارتے ہوئے مغوی شہری عالیان کو بازیاب کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب رینجرز کی جانب سے محکمہ انسداد دہشتگردی  (سی ٹی ڈی) کے دفتر پر مغوی شہری عالیان  کی بازیابی کے لیے چھاپے کے بعد پولیس نے  اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) سی ٹی ڈی امداد خواجہ کو معطل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کی ٹیم کو گزشتہ روز اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار  کیا گیا تھا، ایس ایچ او امداد خواجہ گرفتار ہونے والی ٹیم کی سربراہی کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری عالیان کو حراست میں لینے اور بازیابی کی اطلاع امداد خواجہ کو بھی تھی تاہم پولیس افسران نے امداد خواجہ کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی بلکہ ان کو  معطل کرکے محفوظ راستہ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھی ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کے خلاف سینٹرل پولیس آفس میں کئی شکایات موصول ہوچکی ہیں، امداد خواجہ پر شہریوں کو مختصر مدت کے لیے  اغوا کرنے   کا الزام بھی ہے، ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کو  اس سے قبل بھی عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے دفتر سے بازیاب ہونے والے   شہری عالیان  کے ماموں نے سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق  مقدمہ اغوا برائے تاوان کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے، اس میں بتایا گیا کہ میں پاکستان رینجرز میں بحیثیت لانس نائیک ڈیوٹی کرتا ہوں، 19 مئی کو میرا بھانجا محمد عالیان عراق سے کراچی پہنچا تھا، شاہراہ فیصل پر میرے بھانجے کو سرکاری پولیس موبائل نے روکا جس کے  ساتھ ایک ڈبل کیبن بھی موجود تھی اور وہ  اسے  ٹیکسی سے اتار کر  اپنے ہمراہ لے گئے، دو روز بعد مجھے موبائل فون کال موصول ہوئی، کالر نے اپنا تعلق سی ٹی ڈی سے بتایا اور مجھ سے کہا کہ اگر تم بھانجے کی رہائی چاہتے ہو تو 15 لاکھ روپے تاوان ادا کرو۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی اہلکار سے ایک لاکھ روپے میں معاملات طے ہوا اور  مجھے رقم لے کر سول لائن سی ٹی ڈی تھانہ پہنچنے کا کہا گیا میں شام 4 بجے وہاں پہنچا جہاں پر موجود ایک شخص نے کہا کہ بھانجے کے لیے آئے ہو تو رقم مجھے دے دو، میں نے کہا کہ پہلے میرے بھانجے کو لاؤ پھر رقم دوں گا، تاہم رقم دینے کے بعد ہی میرے بھانجے کو مجھے دیا گیا، اسی کے ساتھ رینجرز اہلکار سی ٹی ڈی کے دفتر میں داخل ہوگئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1221741"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز رینجرز نے سی ٹی ڈی دفتر پر چھاپا مارتے ہوئے مغوی شہری عالیان کو بازیاب کروایا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب رینجرز کی جانب سے محکمہ انسداد دہشتگردی  (سی ٹی ڈی) کے دفتر پر مغوی شہری عالیان  کی بازیابی کے لیے چھاپے کے بعد پولیس نے  اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) سی ٹی ڈی امداد خواجہ کو معطل کردیا۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کی ٹیم کو گزشتہ روز اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار  کیا گیا تھا، ایس ایچ او امداد خواجہ گرفتار ہونے والی ٹیم کی سربراہی کررہے تھے۔</p>
<p>شہری عالیان کو حراست میں لینے اور بازیابی کی اطلاع امداد خواجہ کو بھی تھی تاہم پولیس افسران نے امداد خواجہ کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی بلکہ ان کو  معطل کرکے محفوظ راستہ دے دیا۔</p>
<p>اس سے قبل بھی ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کے خلاف سینٹرل پولیس آفس میں کئی شکایات موصول ہوچکی ہیں، امداد خواجہ پر شہریوں کو مختصر مدت کے لیے  اغوا کرنے   کا الزام بھی ہے، ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کو  اس سے قبل بھی عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1233897</guid>
      <pubDate>Wed, 22 May 2024 11:41:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکمحمد بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/22113918e5d0679.png?r=113956" type="image/png" medium="image" height="448" width="747">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/22113918e5d0679.png?r=113956"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
