<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:45:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:45:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234107/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جاں بحق ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ان کے ساتھیوں کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ابتدائی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trtworld.com/middle-east/iran-preliminary-report-indicates-no-foul-play-in-raisis-helicopter-crash-18165759?fbclid=IwZXh0bgNhZW0CMTEAAR0QnAA2wOAMwKInQnEhbwGpQ3X-GqZlE-UrEFV5sdqftYVy1IyQ4BXWT2E_aem_AWqdBIpCcoS9DE0ugK_J7Avex6jPhoBFuaqqmB_TYWDBI3AdvI3gS5Go8VXPzUO7jlB5h820P_kd0yZGfKS8cGwV"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں حادثے سے متعلق تکنیکی معلومات اور نتائج کو اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کا جائزہ لیا گیا ہے، کچھ ڈیٹا کی جانچ کے لیے مزید وقت درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹر بغیر کسی تبدیلی کے اپنے  طے شدہ راستے پر پرواز کررہا تھا، پائلٹ نے دیگر دو ہیلی کاپٹروں کے پائلٹس سے حادثے سے ڈیڑھ منٹ پہلے رابطہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر  پر گولی لگنے یا اس جیسے کسی نقصان کے نشانات نہیں ملے اور حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر میں آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقے میں ناہموار راستے، سرد موسم اور دھند کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات ہوئیں اور ریسکیو اہلکار جائے حادثہ پر 20 مئی کی صبح کو پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلائٹ کے عملے کے ساتھ کنٹرول ٹاور کی بات چیت میں کوئی مشکوک صورت حال سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنٹرول ٹاور اور فلائٹ عملے کے درمیان رابطے میں کوئی مشکوک  بات سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کی حتمی رپورٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد شیئر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کے ریسکیو گروپ کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جس ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان کی موت ہوئی تھی اس میں یا تو سگنل بھیجنے والا آلہ ٹرانسپونڈر بند تھا یا موجود ہی بند تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کےعلاوہ ایرانی حکومت کو پہلے ہی پرانے ہیلی کاپٹروں کی خراب حالت سے متعلق خبردار کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جس ہیلی کاپٹر میں سفر کررہے تھے وہ امریکا کا تیار کردہ ’بیل 212‘ (Bell 212) ہیلی کاپٹر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حادثے-کا-پسِ-منظر" href="#حادثے-کا-پسِ-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حادثے کا پسِ منظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر 19 مئی کو آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان و دیگر حکام جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے 20مئی صبح ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سمیت دیگر کی موت کی تصدیق کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیلی کاپٹر میں 9 افراد سوار تھے، جن میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، تبریز کے امام سید محمد الہاشم،صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے جاں بحق ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ان کے ساتھیوں کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔</p>
<p>ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ابتدائی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trtworld.com/middle-east/iran-preliminary-report-indicates-no-foul-play-in-raisis-helicopter-crash-18165759?fbclid=IwZXh0bgNhZW0CMTEAAR0QnAA2wOAMwKInQnEhbwGpQ3X-GqZlE-UrEFV5sdqftYVy1IyQ4BXWT2E_aem_AWqdBIpCcoS9DE0ugK_J7Avex6jPhoBFuaqqmB_TYWDBI3AdvI3gS5Go8VXPzUO7jlB5h820P_kd0yZGfKS8cGwV">رپورٹ</a></strong> میں حادثے سے متعلق تکنیکی معلومات اور نتائج کو اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کا جائزہ لیا گیا ہے، کچھ ڈیٹا کی جانچ کے لیے مزید وقت درکار ہے۔</p>
<p>ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹر بغیر کسی تبدیلی کے اپنے  طے شدہ راستے پر پرواز کررہا تھا، پائلٹ نے دیگر دو ہیلی کاپٹروں کے پائلٹس سے حادثے سے ڈیڑھ منٹ پہلے رابطہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر  پر گولی لگنے یا اس جیسے کسی نقصان کے نشانات نہیں ملے اور حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر میں آگ لگ گئی۔</p>
<p>علاقے میں ناہموار راستے، سرد موسم اور دھند کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات ہوئیں اور ریسکیو اہلکار جائے حادثہ پر 20 مئی کی صبح کو پہنچے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلائٹ کے عملے کے ساتھ کنٹرول ٹاور کی بات چیت میں کوئی مشکوک صورت حال سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنٹرول ٹاور اور فلائٹ عملے کے درمیان رابطے میں کوئی مشکوک  بات سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>تحقیقات کی حتمی رپورٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد شیئر کی جائے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کے ریسکیو گروپ کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جس ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان کی موت ہوئی تھی اس میں یا تو سگنل بھیجنے والا آلہ ٹرانسپونڈر بند تھا یا موجود ہی بند تھا۔</p>
<p>اس کےعلاوہ ایرانی حکومت کو پہلے ہی پرانے ہیلی کاپٹروں کی خراب حالت سے متعلق خبردار کردیا گیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جس ہیلی کاپٹر میں سفر کررہے تھے وہ امریکا کا تیار کردہ ’بیل 212‘ (Bell 212) ہیلی کاپٹر تھا۔</p>
<h3><a id="حادثے-کا-پسِ-منظر" href="#حادثے-کا-پسِ-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حادثے کا پسِ منظر</h3>
<p>یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر 19 مئی کو آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان و دیگر حکام جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>
<p>ایرانی حکام نے 20مئی صبح ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سمیت دیگر کی موت کی تصدیق کی تھی۔</p>
<p>ہیلی کاپٹر میں 9 افراد سوار تھے، جن میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، تبریز کے امام سید محمد الہاشم،صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234107</guid>
      <pubDate>Fri, 24 May 2024 10:29:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/2410203734efdf9.png?r=102351" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/2410203734efdf9.png?r=102351"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ارنا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
