<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:30:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:30:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹیریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست، رجسٹرار آفس کے اعتراض دور کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234336/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی کے  مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے  آپریشن کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض دور کرنے کی ہدایت  جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمر ایوب کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض دور کرنے کی ہدایت کی، وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ اعتراض دور کرکے نمبر لگوائیں، درخواست دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما کی جانب سے دائر درخواست میں سی ڈی اے کی جانب سے مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، اس میں مؤقف اپنایا گیا کہ  ارشد داد اور نسیم الرحمٰن دونوں پی ٹی آئی کے ممبران ہیں، ارشد داد اور نسیم الرحمٰن نے 17 جولائی 2020 کو ایک  معاہدے کے بعد کمرشل پلاٹ خریدا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234089"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مزید بتایا گیا کہ 29 جولائی 2020 کو جی 8 کے اس پلاٹ کے مالک سراج علی نے سی ڈی اے کو ٹرانسفر کا خط لکھا ، سراج علی کے خط کے بعد سی ڈی اے نے پلاٹ پی ٹی آئی کے نام الاٹ کر دیا،  23 مئی 2024 کو اچانک رات  11 بج کر 15 منٹ  پر مجھے پتا چلا کہ وہاں سی ڈی اے کا آپریشن ہوا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234242/"&gt;25 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں اپنا مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے آپریشن کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234089"&gt;24 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) اتھارٹی نے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سیکرٹریٹ کو سیل کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234124/"&gt;24 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو  اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) نے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیل کیے گئے اسلام آباد سیکرٹریٹ کی عمارت کے ایک حصے کو مسمار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سی ڈی اے انتظامیہ نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹریٹ میں آپریشن کے دوران اسے تجاوزات قرار دے کر ایک حصہ کو گرا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی اے کے مطابق کارروائی تجاوزات قائم کرنے اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے، سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ کارروائی تجاوزات کے قیام اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے جس میں بھاری مشینری نے حصہ لیا اور سینٹرل سیکریٹریٹ کے ارد گرد رکھے کنٹینرز، سیکیورٹی بیریئرز اور دیگر مبینہ تجاوزات کو مسمار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سی ڈی اے حکام نے اسلام آباد پولیس کی نگرانی میں رات گئے جی8 سیکٹر میں کارروائی کی تھی اور تحریک انصاف کے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ عمارت سرتاج علی نامی شخص کے نام ہے جسے رہائشی عمارت سے سیاسی دفتر میں بدلا گیا جس پر متعلقہ مالک کو بارہا نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ سیکٹر جی 8 میں سیاسی جماعت کے ایک پلاٹ پر تجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پلاٹ پر بلڈنگ بائی لاز کے خلاف ایک اضافی منزل بھی تعمیر کی گئی تھی جبکہ اس کے علاوہ بھی پلاٹ پر مالک کی طرف سے متعدد دیگر خلاف ورزیاں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں پلاٹ کے مالک کو متعدد بار نوٹسسز جاری کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ نوٹسز 19 نومبر 2020، 22 فروری 2021 اور 14 جون 2022 کو جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 4 ستمبر2023 کو خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جبکہ 10 مئی کو پلاٹ کو سر بمہر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشن کی اطلاع ملنے پر چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب موقع پر پہنچ گئے تھے اور اسے مسترد کرتے ہوئے آپریشن کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ سی ڈی اے کی جانب سے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کو کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے معاملے پر آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے چیئرمین کے خلاف ایوان میں تحریک استحقاق لانے کا اعلان کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر ایوب نے کہا تھا کہ اگر بلڈنگ پر اعتراض تھا تو ہمارے پاس آتے، ہمیں تجاوزات کے حوالے سے بتایا جاتا، ہم ان کو الگ کرتے، ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے والے آتے، ہم ان کو اور وہ ہمیں دستاویزات دکھاتے تو احسن طریقے سے معاملے کو نمٹایا جاسکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان چونکہ پاکستان میں آئین کی بات کر رہے ہیں اس لیے یہ سب ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی کے  مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے  آپریشن کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض دور کرنے کی ہدایت  جاری کردی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمر ایوب کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض دور کرنے کی ہدایت کی، وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔</p>
<p>سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ اعتراض دور کرکے نمبر لگوائیں، درخواست دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما کی جانب سے دائر درخواست میں سی ڈی اے کی جانب سے مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، اس میں مؤقف اپنایا گیا کہ  ارشد داد اور نسیم الرحمٰن دونوں پی ٹی آئی کے ممبران ہیں، ارشد داد اور نسیم الرحمٰن نے 17 جولائی 2020 کو ایک  معاہدے کے بعد کمرشل پلاٹ خریدا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234089"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس میں مزید بتایا گیا کہ 29 جولائی 2020 کو جی 8 کے اس پلاٹ کے مالک سراج علی نے سی ڈی اے کو ٹرانسفر کا خط لکھا ، سراج علی کے خط کے بعد سی ڈی اے نے پلاٹ پی ٹی آئی کے نام الاٹ کر دیا،  23 مئی 2024 کو اچانک رات  11 بج کر 15 منٹ  پر مجھے پتا چلا کہ وہاں سی ڈی اے کا آپریشن ہوا ہے،</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234242/">25 مئی</a></strong> کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں اپنا مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے آپریشن کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234089">24 مئی</a></strong> کو اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) اتھارٹی نے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سیکرٹریٹ کو سیل کردیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234124/">24 مئی</a></strong> کو  اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) نے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیل کیے گئے اسلام آباد سیکرٹریٹ کی عمارت کے ایک حصے کو مسمار کردیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد میں سی ڈی اے انتظامیہ نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹریٹ میں آپریشن کے دوران اسے تجاوزات قرار دے کر ایک حصہ کو گرا دیا تھا۔</p>
<p>سی ڈی اے کے مطابق کارروائی تجاوزات قائم کرنے اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے، سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ کارروائی تجاوزات کے قیام اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے جس میں بھاری مشینری نے حصہ لیا اور سینٹرل سیکریٹریٹ کے ارد گرد رکھے کنٹینرز، سیکیورٹی بیریئرز اور دیگر مبینہ تجاوزات کو مسمار کر دیا۔</p>
<p>اسلام آباد میں سی ڈی اے حکام نے اسلام آباد پولیس کی نگرانی میں رات گئے جی8 سیکٹر میں کارروائی کی تھی اور تحریک انصاف کے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کر دیا تھا۔</p>
<p>سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ عمارت سرتاج علی نامی شخص کے نام ہے جسے رہائشی عمارت سے سیاسی دفتر میں بدلا گیا جس پر متعلقہ مالک کو بارہا نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ سیکٹر جی 8 میں سیاسی جماعت کے ایک پلاٹ پر تجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پلاٹ پر بلڈنگ بائی لاز کے خلاف ایک اضافی منزل بھی تعمیر کی گئی تھی جبکہ اس کے علاوہ بھی پلاٹ پر مالک کی طرف سے متعدد دیگر خلاف ورزیاں کی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اعلامیے میں پلاٹ کے مالک کو متعدد بار نوٹسسز جاری کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ نوٹسز 19 نومبر 2020، 22 فروری 2021 اور 14 جون 2022 کو جاری کیے گئے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 4 ستمبر2023 کو خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جبکہ 10 مئی کو پلاٹ کو سر بمہر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔</p>
<p>آپریشن کی اطلاع ملنے پر چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب موقع پر پہنچ گئے تھے اور اسے مسترد کرتے ہوئے آپریشن کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔</p>
<p>چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ سی ڈی اے کی جانب سے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کو کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے معاملے پر آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے چیئرمین کے خلاف ایوان میں تحریک استحقاق لانے کا اعلان کردیا تھا۔</p>
<p>عمر ایوب نے کہا تھا کہ اگر بلڈنگ پر اعتراض تھا تو ہمارے پاس آتے، ہمیں تجاوزات کے حوالے سے بتایا جاتا، ہم ان کو الگ کرتے، ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے والے آتے، ہم ان کو اور وہ ہمیں دستاویزات دکھاتے تو احسن طریقے سے معاملے کو نمٹایا جاسکتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان چونکہ پاکستان میں آئین کی بات کر رہے ہیں اس لیے یہ سب ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234336</guid>
      <pubDate>Mon, 27 May 2024 09:58:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتابویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/27095805e011d71.jpg?r=095817" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/27095805e011d71.jpg?r=095817"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسلام آباد ہائی کورٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
