<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:27:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:27:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش اور بھارت میں سمندری طوفان، 21 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234415/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش اور  بھارت  میں  طاقتور طوفان کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے، ہزاروں گھر تباہ، سمندری دیواریں ٹوٹ گئیں اور شہروں میں سیلاب آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1836150/sixteen-killed-after-cyclone-batters-bangladesh-and-india"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیے مطابق پیر کو  ’سائیکلون ریمل‘ کے ٹکرانے کے ایک دن بعد آندھی  اور موسلا دھار بارش نے انا سامان بچانے کی کوشش کرنے والے علاقہ مکینوں کے لیے مشکلات کھڑی کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/05/28110133fa7a601.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے آفات کے وزیر مملکت محب الرحمٰن نے صحافیوں کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے، ان میں چند  لوگ ڈوب گئے جبکہ دوسرے گھروں کے منہدم ہونے سے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار سمیت گپتا کے مطابق پڑوسی ملک بھارت میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے، اس میں سے 3 لوگ بجلی کا کرنٹ لگنے سے  جبکہ  دیگر  ملبے کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ علاقے کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ طوفانی لہروں سے گاؤں تباہ ہوگئے، ٹین کی چھتیں اکھڑ گئیں، درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور بجلی کی تاریں کٹ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/05/281103228771be7.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بنگلہ دیش میں ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ   طوفان کے نتیجے میں کل  37 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، طوفان سے 35 ہزار 483 گھر تباہ ہوئے اور مزید  ایک لاکھ 15 ہزار 992 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بنگلہ دیش کے موسمی ماہرین نے منگل کو کہا کہ یہ مہلک طوفان  سب سے زیادہ دیرپا تھا اور اس  کا ذمہ دار موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش اور  بھارت  میں  طاقتور طوفان کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے، ہزاروں گھر تباہ، سمندری دیواریں ٹوٹ گئیں اور شہروں میں سیلاب آ گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1836150/sixteen-killed-after-cyclone-batters-bangladesh-and-india">رپورٹ</a></strong> کیے مطابق پیر کو  ’سائیکلون ریمل‘ کے ٹکرانے کے ایک دن بعد آندھی  اور موسلا دھار بارش نے انا سامان بچانے کی کوشش کرنے والے علاقہ مکینوں کے لیے مشکلات کھڑی کردیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/05/28110133fa7a601.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک کے آفات کے وزیر مملکت محب الرحمٰن نے صحافیوں کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے، ان میں چند  لوگ ڈوب گئے جبکہ دوسرے گھروں کے منہدم ہونے سے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔</p>
<p>ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار سمیت گپتا کے مطابق پڑوسی ملک بھارت میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے، اس میں سے 3 لوگ بجلی کا کرنٹ لگنے سے  جبکہ  دیگر  ملبے کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔</p>
<p>متاثرہ علاقے کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ طوفانی لہروں سے گاؤں تباہ ہوگئے، ٹین کی چھتیں اکھڑ گئیں، درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور بجلی کی تاریں کٹ گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/05/281103228771be7.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بنگلہ دیش میں ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ   طوفان کے نتیجے میں کل  37 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، طوفان سے 35 ہزار 483 گھر تباہ ہوئے اور مزید  ایک لاکھ 15 ہزار 992 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب بنگلہ دیش کے موسمی ماہرین نے منگل کو کہا کہ یہ مہلک طوفان  سب سے زیادہ دیرپا تھا اور اس  کا ذمہ دار موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234415</guid>
      <pubDate>Tue, 28 May 2024 11:03:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/280955406cf9a52.png?r=095714" type="image/png" medium="image" height="457" width="761">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/280955406cf9a52.png?r=095714"/>
        <media:title>فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
