<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:46:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:46:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں صدارتی انتخابات کیلئے خاتون سمیت 17 امیدوار میدان میں آگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234825/</link>
      <description>&lt;p&gt;ریاستی میڈیا نے بتایا ہے امریکا کی طرف سے  پابندی کا سامنے کرنے والے پاسداران انقلاب کے کمانڈر واحد ہاغانین ان امیدواروں میں شامل ہیں جنہوں نے  ہیلی کاپٹر حادثے میں ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران کے صدر کے طور پر انتخاب لڑنے کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1837159/woman-among-17-hopefuls-registered-to-replace-raisi"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;  کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی واحد ہاغانین نے رجسٹریشن کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ان کی اہلیت صدر اور رہبر کے دفتر میں  45 سال خدمات انجام دینے کے تجربے پر مبنی ہے، امریکی ٹریژری نے 2019 میں ہاغانین کو آیت اللہ خامنہ ای کے اندرونی حلقے میں ملکی اور غیر ملکی جبر کے  ذمہ دار  9 افراد کی فہرست  میں شامل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران کا کہنا ہے کہ زیادہ تر امریکی پابندیاں بے بنیاد الزامات کی وجہ سے لگائی گئی ہیں، سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی بھی جمعے کو رجسٹر ہونے والے امیدواروں میں شامل ہیں، اس کے علاوہ   مرکزی بینک کے سابق گورنر  عبدالناصر ہمتی  بھی صدارتی امیدوار  ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1162306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک انتخابی اہلکار نے ہفتے کو صحافیوں کو بتایا کہ 28 جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے رجسٹریشن  شروع ہونے کے بعد سے 17 امید واروں نے  رجسٹریشن کروائی ہے، علما کی زیر قیادت امیدواروں کی جانچ کرنے والا ادارہ گارجین کونسل  11 جون کو اہل امیدواروں کی فہرست شائع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر کے  انتخاب کے لیے  خواتین پر لگی  پابندی کے باوجود قدامت پسند سابق قانون ساز زہرہ الہیان نے بھی  ہفتے کو  انتخاب کے لیے  رجسٹریشن کرائی ہے، انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا نصب العین ایک صحت مند حکومت، ایک صحت مند معیشت اور ایک صحت مند معاشرہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گارجین کونسل نے گزشتہ انتخابات میں فیصلہ دیا تھا کہ ایران کے اسلامی قوانین خاتون کو صدر بننے سے روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ریاستی میڈیا نے بتایا ہے امریکا کی طرف سے  پابندی کا سامنے کرنے والے پاسداران انقلاب کے کمانڈر واحد ہاغانین ان امیدواروں میں شامل ہیں جنہوں نے  ہیلی کاپٹر حادثے میں ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران کے صدر کے طور پر انتخاب لڑنے کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1837159/woman-among-17-hopefuls-registered-to-replace-raisi">رپورٹ</a></strong>  کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی واحد ہاغانین نے رجسٹریشن کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ان کی اہلیت صدر اور رہبر کے دفتر میں  45 سال خدمات انجام دینے کے تجربے پر مبنی ہے، امریکی ٹریژری نے 2019 میں ہاغانین کو آیت اللہ خامنہ ای کے اندرونی حلقے میں ملکی اور غیر ملکی جبر کے  ذمہ دار  9 افراد کی فہرست  میں شامل کیا تھا۔</p>
<p>تاہم ایران کا کہنا ہے کہ زیادہ تر امریکی پابندیاں بے بنیاد الزامات کی وجہ سے لگائی گئی ہیں، سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی بھی جمعے کو رجسٹر ہونے والے امیدواروں میں شامل ہیں، اس کے علاوہ   مرکزی بینک کے سابق گورنر  عبدالناصر ہمتی  بھی صدارتی امیدوار  ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1162306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک انتخابی اہلکار نے ہفتے کو صحافیوں کو بتایا کہ 28 جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے رجسٹریشن  شروع ہونے کے بعد سے 17 امید واروں نے  رجسٹریشن کروائی ہے، علما کی زیر قیادت امیدواروں کی جانچ کرنے والا ادارہ گارجین کونسل  11 جون کو اہل امیدواروں کی فہرست شائع کرے گا۔</p>
<p>صدر کے  انتخاب کے لیے  خواتین پر لگی  پابندی کے باوجود قدامت پسند سابق قانون ساز زہرہ الہیان نے بھی  ہفتے کو  انتخاب کے لیے  رجسٹریشن کرائی ہے، انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا نصب العین ایک صحت مند حکومت، ایک صحت مند معیشت اور ایک صحت مند معاشرہ ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گارجین کونسل نے گزشتہ انتخابات میں فیصلہ دیا تھا کہ ایران کے اسلامی قوانین خاتون کو صدر بننے سے روکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234825</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Jun 2024 12:27:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/021224021ca2f7a.jpg?r=122633" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/021224021ca2f7a.jpg?r=122633"/>
        <media:title>زہرہ الہیان ۔ فائل فوٹ: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
