<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:38:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 15:38:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی مشن ’چینگ ای 6‘ کامیابی سے چاند پر اتر گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234848/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کا چینگ ای 6 قمری مشن نمونے جمع کرنے کے لیے چاند کے دور دراز حصے  پر کامیابی کے ساتھ اتر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چین کی قومی خلائی انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے کہا کہ چینگ ای  بہت بڑے جنوبی قطب-آٹکن بیسن میں اترا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ چینگ ای 6 پہلا مشن ہے جو چاند کے اس حصے پر اترا ہے جو سب سے دور سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق، یہ پہلی بار ہے کہ چاند کے شاذ و نادر ہی دریافت کیے گئے علاقے سے نمونے جمع کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینگ ای 6 تکنیکی طور پر پیچیدہ 53 روزہ مشن پر ہے جو 3 مئی کو شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232334"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے ایک اہلکار ہوانگ وو نے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو بتایا کہ اتوار کو اس نے چاند سے تقریباً 200 کلومیٹر (124 میل) اوپر اپنے مدار سے اتر کر لینڈنگ سائٹ کے لیے سطح کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے کہا نیچے مدار میں میں کچھ خطرات تھے، اس لیے ہمیں (مشن) کو اس کے پہلے سے طے شدہ رفتار پر ڈالنے کے لیے درست کنٹرول کے طریقہ کار کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہمیں چاند کے لیے اس کی نسبتی رفتار کو 15 منٹ کے اندر صفر تک تیزی سے کم کرنا پڑا، جس کے لیے پروپیلنٹ کی بھاری مقدار کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب کہ پروب اتر چکا ہے تو یہ چاند کی مٹی اور چٹانوں کو اٹھانے اور لینڈنگ زون میں دیگر تجربات کرنے کی کوشش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژنہوا نے کہا کہ یہ عمل دو دنوں کے اندر مکمل ہونا چاہیے، یہ مشن  سطح کے نیچے نمونے جمع کرنے کے لیے ڈرل اور سطح سے نمونوں کو اکٹھا کرنے کے لیے روبوٹک بازو  استعمال کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232334"&gt;3 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو  چین کے خلائی مشن ’چینگ ای 6‘ کے ساتھ پاکستان کا سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کا چینگ ای 6 قمری مشن نمونے جمع کرنے کے لیے چاند کے دور دراز حصے  پر کامیابی کے ساتھ اتر گیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چین کی قومی خلائی انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے کہا کہ چینگ ای  بہت بڑے جنوبی قطب-آٹکن بیسن میں اترا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ چینگ ای 6 پہلا مشن ہے جو چاند کے اس حصے پر اترا ہے جو سب سے دور سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق، یہ پہلی بار ہے کہ چاند کے شاذ و نادر ہی دریافت کیے گئے علاقے سے نمونے جمع کیے جائیں گے۔</p>
<p>چینگ ای 6 تکنیکی طور پر پیچیدہ 53 روزہ مشن پر ہے جو 3 مئی کو شروع ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232334"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے ایک اہلکار ہوانگ وو نے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو بتایا کہ اتوار کو اس نے چاند سے تقریباً 200 کلومیٹر (124 میل) اوپر اپنے مدار سے اتر کر لینڈنگ سائٹ کے لیے سطح کا جائزہ لیا۔</p>
<p>انہوں  نے کہا نیچے مدار میں میں کچھ خطرات تھے، اس لیے ہمیں (مشن) کو اس کے پہلے سے طے شدہ رفتار پر ڈالنے کے لیے درست کنٹرول کے طریقہ کار کی ضرورت تھی۔</p>
<p>اس کے بعد ہمیں چاند کے لیے اس کی نسبتی رفتار کو 15 منٹ کے اندر صفر تک تیزی سے کم کرنا پڑا، جس کے لیے پروپیلنٹ کی بھاری مقدار کی ضرورت تھی۔</p>
<p>اب جب کہ پروب اتر چکا ہے تو یہ چاند کی مٹی اور چٹانوں کو اٹھانے اور لینڈنگ زون میں دیگر تجربات کرنے کی کوشش کرے گا۔</p>
<p>ژنہوا نے کہا کہ یہ عمل دو دنوں کے اندر مکمل ہونا چاہیے، یہ مشن  سطح کے نیچے نمونے جمع کرنے کے لیے ڈرل اور سطح سے نمونوں کو اکٹھا کرنے کے لیے روبوٹک بازو  استعمال کرے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232334">3 مئی</a></strong> کو  چین کے خلائی مشن ’چینگ ای 6‘ کے ساتھ پاکستان کا سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234848</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Jun 2024 16:28:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/02161525c16d713.jpg?r=161655" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/02161525c16d713.jpg?r=161655"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
