<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:31:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 15:31:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کیس: سیکریٹری برائے ماحولیاتی تبدیلی، چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234887/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس میں آئندہ سماعت پر  سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز کو طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق عدالت نے چاروں چیف سیکریٹریز کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ  نے استفسار کیا کہ اتھارٹی تو قائم ہوگئی لیکن یہ فعال کب ہوگی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اتھارٹی کے ممبران کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کر دیا، دو ماہ میں عمل مکمل ہوگا،  عدالت نے مزید دریافت کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے تو بتا دیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا کہ اس میں شک نہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا رویہ سنجیدہ نہیں، جسٹس منصور علی شاہ  نے ریمارکس دیے کہ  پنجاب حکومت اب تک موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کیوں نہیں بنا سکی؟  پنجاب حکومت نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ  متعلقہ محکموں سے رپورٹس منگوائی ہیں، عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کوئی عملی اقدام کیا ہے تو بتا دیں، جسٹس منسور علی شاہ کا کہنا تھا کہ  حیرت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ جنرل پنجاب موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی عمل اقدام پیش نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں  ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا  نے کہا کہ خیبرپختونخوا  حکومت نے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا، منصوبے کے تحت 70 لاکھ درخت لگائے گئے، اقوام متحدہ نے بھی بلین ٹری سونامی منصوبے کو تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ  نے ریمارکس دیے کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت لگائے آدھے درخت ختم ہوچکے ہیں، صرف درخت لگانا نہیں ہوتا ان کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے، تمام چیف سیکریٹریز سے پوچھیں گے کہ پالیسیز بنانے اور عملدرآمد پر کیا پیشرفت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے صوبائی چیف سیکریٹریز اور   سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی  کو طلب کرتے ہوئے  سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1832748"&gt;11 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 کے تحت  پندرہ دن کے اندر اتھارٹی قائم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فنڈز کا قیام مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے پبلک انٹرسٹ لاء ایسوسی ایشن آف پاکستان کی طرف سے ایڈووکیٹ سید فیصل حسین نقوی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی، جس میں ماحولیاتی تبدیلی سے ملک کو لاحق خطرے کو اجاگر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;21 مارچ کو ہونے والی سماعت میں، اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایکٹ کے تحت ایک ماہ کے اندر کونسل کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ فنڈ سے متعلق سوالات کو حل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233479/"&gt;17 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی منظوری پاکستان موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2017 کے تحت دی گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234290"&gt;26 مئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کے لیے اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تقرری کے عمل کا آغاز کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس میں آئندہ سماعت پر  سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز کو طلب کر لیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق عدالت نے چاروں چیف سیکریٹریز کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>دوران سماعت وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیا۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ  نے استفسار کیا کہ اتھارٹی تو قائم ہوگئی لیکن یہ فعال کب ہوگی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اتھارٹی کے ممبران کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کر دیا، دو ماہ میں عمل مکمل ہوگا،  عدالت نے مزید دریافت کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے تو بتا دیں؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا کہ اس میں شک نہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا رویہ سنجیدہ نہیں، جسٹس منصور علی شاہ  نے ریمارکس دیے کہ  پنجاب حکومت اب تک موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کیوں نہیں بنا سکی؟  پنجاب حکومت نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟</p>
<p>اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ  متعلقہ محکموں سے رپورٹس منگوائی ہیں، عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کوئی عملی اقدام کیا ہے تو بتا دیں، جسٹس منسور علی شاہ کا کہنا تھا کہ  حیرت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔</p>
<p>ایڈووکیٹ جنرل پنجاب موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی عمل اقدام پیش نہ کر سکے۔</p>
<p>بعد ازاں  ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا  نے کہا کہ خیبرپختونخوا  حکومت نے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا، منصوبے کے تحت 70 لاکھ درخت لگائے گئے، اقوام متحدہ نے بھی بلین ٹری سونامی منصوبے کو تسلیم کیا۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ  نے ریمارکس دیے کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت لگائے آدھے درخت ختم ہوچکے ہیں، صرف درخت لگانا نہیں ہوتا ان کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے، تمام چیف سیکریٹریز سے پوچھیں گے کہ پالیسیز بنانے اور عملدرآمد پر کیا پیشرفت ہے؟</p>
<p>بعد ازاں عدالت نے صوبائی چیف سیکریٹریز اور   سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی  کو طلب کرتے ہوئے  سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1832748">11 مئی</a></strong> کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 کے تحت  پندرہ دن کے اندر اتھارٹی قائم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فنڈز کا قیام مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>بینچ نے پبلک انٹرسٹ لاء ایسوسی ایشن آف پاکستان کی طرف سے ایڈووکیٹ سید فیصل حسین نقوی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی، جس میں ماحولیاتی تبدیلی سے ملک کو لاحق خطرے کو اجاگر کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>21 مارچ کو ہونے والی سماعت میں، اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایکٹ کے تحت ایک ماہ کے اندر کونسل کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ فنڈ سے متعلق سوالات کو حل کیا جائے گا۔</p>
<p>بعد ازاں <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1233479/">17 مئی</a></strong> کو وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔</p>
<p>وزیراعظم کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی منظوری پاکستان موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2017 کے تحت دی گئی ۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1234290">26 مئی</a></strong> کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کے لیے اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تقرری کے عمل کا آغاز کردیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234887</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Jun 2024 11:50:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبداللہ مومندویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/0311482083c614c.jpg?r=114912" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/0311482083c614c.jpg?r=114912"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
