<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 17:19:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Apr 2026 17:19:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: سنجدی میں کوئلے کی کان میں دم گھٹنے سے 11 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234944/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دم گھٹنے سے 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق یوسی سنجدی میں کوئلے کان میں دم گھٹنے سے 11 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 9 کان کن، ایک ٹھیکیدار اور ایک مائن منیجر شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف مائنز انسپکٹر عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ تمام جاں بحق افراد کا تعلق سوات سے ہے اور حادثہ گیس لیکج کے سبب دم گھٹنے کے باعث پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھاکہ حادثے کا شکار کوئلہ کان کو سیل کردیا گیا جبکہ کان کنوں کی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوسی سنجدی کوئٹہ شہر سے 40 کلو میٹر دور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان حکومت سے 24 گھنٹے میں واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں کوئلے کی لاتعداد کانیں موجود ہیں جس میں بداحتیاطی اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہرسال لاتعداد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ مئی میں ہی بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 اپریل کو بلوچستان کے علاقے ہرنائی اور دکی میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے سے 4 کان کن جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں کوئلے کے کان میں گیس بھرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد سمیت 4 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دم گھٹنے سے 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق یوسی سنجدی میں کوئلے کان میں دم گھٹنے سے 11 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 9 کان کن، ایک ٹھیکیدار اور ایک مائن منیجر شامل ہے۔</p>
<p>چیف مائنز انسپکٹر عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ تمام جاں بحق افراد کا تعلق سوات سے ہے اور حادثہ گیس لیکج کے سبب دم گھٹنے کے باعث پیش آیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھاکہ حادثے کا شکار کوئلہ کان کو سیل کردیا گیا جبکہ کان کنوں کی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کی جارہی ہیں۔</p>
<p>یوسی سنجدی کوئٹہ شہر سے 40 کلو میٹر دور ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان حکومت سے 24 گھنٹے میں واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔</p>
<p>بلوچستان میں کوئلے کی لاتعداد کانیں موجود ہیں جس میں بداحتیاطی اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہرسال لاتعداد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ مئی میں ہی بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p>24 اپریل کو بلوچستان کے علاقے ہرنائی اور دکی میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے سے 4 کان کن جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>
<p>اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں کوئلے کے کان میں گیس بھرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد سمیت 4 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234944</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jun 2024 00:34:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/032237477728bc4.jpg?r=223809" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/032237477728bc4.jpg?r=223809"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
