<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:06:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:06:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکس پر عریاں مواد شائع کرنے کی باضابطہ اجازت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1235029/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) نے پہلی بار اپنی مواد پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے حیران کن طور پر عریاں مواد کی اشاعت کی بھی باضابطہ اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://fortune.com/2024/06/03/does-x-allow-nudes-elon-musk-twitter-x-social-media-meta-instagram-facebook-onlyfans/"&gt;&lt;strong&gt;فورچون&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایکس کی جانب سے مواد پالیسی کو تبدیل کردیا گیا، اب ہر کوئی فحش اور جنسی مواد بھی سرعام شائع کر سکے گا، تاہم اس کے لیے مواد اپلوڈ کرنے والے کو انتباہ کا لیبل لگانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فحش اور جنسی تشدد اور تسکین پر مبنی مواد کو اپلوڈ کرتے وقت صارف کو لیبل لگانا پڑے گا کہ مذکورہ مواد نابالغ افراد کے لیے نہیں ہے اور ساتھ ہی بتانا پڑے گا کہ مذکورہ مواد ممکنہ طور پر کسی کی دل آزاری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1220729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق فحش مواد از خود 18 سال سے کم عمر ایکس صارفین کو نظر نہیں آئے گا اور نہ ہی ایسے صارفین مواد کو دیکھ پائیں گے، جن کی پروفائل پر ان کی تاریخ پیدائش درج نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں فحش مواد کو اپلوڈ کیے جانے کے بعد کمپنی خود بخود خفیہ رکھے گی اور کسی بھی صارف کی جانب سے مواد پر دوبار کلک کرنے پر اسے فحش مواد تک رسائی دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ اس طرح کے فحش مواد کو بھی لیبل کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس نے فحش فلموں میں اداکاری کرنے والے اداکاروں و ماڈلز کو پہلے ہی ایسا مواد اپلوڈ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور اب ایسے اداکار مختلف فیچرز کے تحت پیسوں کے عوض صارفین کو فحش مواد ایکس پر دکھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک نے گزشتہ ماہ ہی ٹوئٹر کی ویب سائٹ کا یو آر ایل ایڈریس تبدیل کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ایکس بنا دیا تھا جب کہ انہوں نے پلیٹ فارم کو خریدنے کے بعد اس میں متعدد تبدیلیاں کردی ہیں اور اس میں مزید کئی تبدیلیاں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) نے پہلی بار اپنی مواد پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے حیران کن طور پر عریاں مواد کی اشاعت کی بھی باضابطہ اجازت دے دی۔</p>
<p>امریکی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://fortune.com/2024/06/03/does-x-allow-nudes-elon-musk-twitter-x-social-media-meta-instagram-facebook-onlyfans/"><strong>فورچون</strong></a> کے مطابق ایکس کی جانب سے مواد پالیسی کو تبدیل کردیا گیا، اب ہر کوئی فحش اور جنسی مواد بھی سرعام شائع کر سکے گا، تاہم اس کے لیے مواد اپلوڈ کرنے والے کو انتباہ کا لیبل لگانا پڑے گا۔</p>
<p>فحش اور جنسی تشدد اور تسکین پر مبنی مواد کو اپلوڈ کرتے وقت صارف کو لیبل لگانا پڑے گا کہ مذکورہ مواد نابالغ افراد کے لیے نہیں ہے اور ساتھ ہی بتانا پڑے گا کہ مذکورہ مواد ممکنہ طور پر کسی کی دل آزاری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1220729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمپنی کے مطابق فحش مواد از خود 18 سال سے کم عمر ایکس صارفین کو نظر نہیں آئے گا اور نہ ہی ایسے صارفین مواد کو دیکھ پائیں گے، جن کی پروفائل پر ان کی تاریخ پیدائش درج نہیں ہوگی۔</p>
<p>علاوہ ازیں فحش مواد کو اپلوڈ کیے جانے کے بعد کمپنی خود بخود خفیہ رکھے گی اور کسی بھی صارف کی جانب سے مواد پر دوبار کلک کرنے پر اسے فحش مواد تک رسائی دی جائے گی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ اس طرح کے فحش مواد کو بھی لیبل کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔</p>
<p>ایکس نے فحش فلموں میں اداکاری کرنے والے اداکاروں و ماڈلز کو پہلے ہی ایسا مواد اپلوڈ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور اب ایسے اداکار مختلف فیچرز کے تحت پیسوں کے عوض صارفین کو فحش مواد ایکس پر دکھاتے ہیں۔</p>
<p>ایلون مسک نے گزشتہ ماہ ہی ٹوئٹر کی ویب سائٹ کا یو آر ایل ایڈریس تبدیل کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ایکس بنا دیا تھا جب کہ انہوں نے پلیٹ فارم کو خریدنے کے بعد اس میں متعدد تبدیلیاں کردی ہیں اور اس میں مزید کئی تبدیلیاں کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1235029</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jun 2024 22:16:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/0420074197450ed.jpg?r=200849" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/0420074197450ed.jpg?r=200849"/>
        <media:title>—فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
