<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:28:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:28:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ، یورپی ممالک نے پاکستانیوں کی ویزا درخواستیں مسترد کرکے کروڑوں روپے بٹور لیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1235526/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ اور یورپی کمیشن کے ممالک نے پاکستانی شہریوں کی مسترد ویزا درخواستوں کی فیس کی مد میں لاکھوں پاؤنڈ اور یورو کمالیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1839140/uk-schengen-states-make-millions-off-rejected-visas"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ انکشاف رواں ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین، پالیسی سازوں اور ڈیزائنرز  کی ایک برادری ’لاگو کلیکٹو‘ کی جانب سے جاری کردہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.lagocollective.org/material/f/visas/rejected-by-gdp/#year-ending-december-2023"&gt;تجزیاتی رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دکھاتی ہے کہ 2023 کے دوران  پاکستانی شہریوں کی جانب سے برطانیہ کے لیے دی گئیں 40 فیصد ویزا درخواستیں مسترد کردی گئیں  جب کہ پاکستانی شہریوں نے ان ویزا درخواستوں کے سلسلے میں 53 لاکھ پاؤنڈز خرچ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسی برس میں یورپی کمیشن کے ممالک کے لیے پاکستانیوں کی جانب سے دی گئی 50 فیصد درخواستیں مسترد کردی گئیں جن پر شہریوں نے 33 لاکھ 44 ہزار  یوروز خرچ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204118"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار  ای یو آبزرور کے اشتراک سے شائع کیے گئے، ای یو آبزرور نے رپورٹ کیا کہ یورپی یونین کی حکومتیں مسترد شدہ ویزا درخواستوں کی فیس کی مد میں  13 کروڑ یوروز کما لیتی ہیں، یہ حکومتیں اس پیسے کو (ریورس ریمٹینس) کا نام دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاگو کلیکٹو میں مارٹا فوریسٹی اینڈ اوتھو مانٹیگازا کی جانب سے مرتب کردہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ 2023 میں یورپی کمیشن کے ممالک کے لیے مسترد شدہ ویزا درخواستوں پر  13 کروڑ یوروز خرچ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں فوریسٹی نے کہا کہ ویزوں سے متعلق عدم مساوات کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور دنیا کے غریب ترین لوگ اس کی قیمت چکاتے ہں، آپ مسترد شدہ ویزوں کی لاگت کو ’ریورس ریمٹننس‘ کا نام دے سکتے ہیں، پیسہ غریب ممالک سے امیر ملکوں میں منتقل ہو رہا ہے، ہم نے امداد اور ہجرت کے حوالے سے بحث و مباحثہ کرتے ہوئے کبھی اس لاگت سے متعلق نہیں سنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1169175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اور یورپی کمیشن ممالک کے مختصر مدت کے ویزوں کے لیے پاکستان سے موصول ہونے والی مسترد درخواستوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو کہ تقریبا 40 فیصد بنتا ہے، اس کی وجہ سے درخواست گزاروں کو بھاری لاگت کا نقصان برداشت کرنی پڑتا ہے، پاکستان، یورپی کمیشن اور برطانیہ کے درمیان متعدد معاہدوں کے تناظر  میں یہ کافی حیران کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوریسٹی جو  کہ لاگو کلیکٹو کے بانی اور  او ڈی آئی  کے سینئر وزٹنگ فیلو  ہیں، نے مزید کہا کہ  ’اس طرح سے پاکستانی شہریوں کے لیے قانونی ذرائع سے یورپ پہنچنے کے لیے درپیش چیلنجز ایک سال قبل اس وقت المناک طور پر واضح ہو گئے جب یونان کے سمندر میں کشتی الٹنے سے سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے،  لوگوں کے پاس پرخطر سفر  کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای یو آبزرور  کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2024 میں مجموعی رقم بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ 11 جون سے  یورپی یونین میں سفر کے لیے ویزا درخواست فیس میں بالغ افراد کے لیے 80 سے بڑھ کر 90 اضافہ کردیا جائے گا،  اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے مسترد شدہ ویزوں کی فیس کی مد میں 4 کروڑ 40 لاکھ پاؤنڈز جمع کیے ہیں، جو کہ  نتیجہ سے قطع نظر نا قابل واپسی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کمیشن کے مسترد شدہ ویزوں کے اخراجات کا 90 فیصد بوجھ افریقی اور ایشیائی ممالک برداشت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیاتی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ یورپی کمیشن کے ممالک کے لیے مختصر مدت کے ویزوں کی درخواست کی فیس 80 یوروز ہے اور برطانیہ کے لیے فیس 100 پاؤنڈز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے لیے دی گئی ویزا درخواست مسترد کیے جانے کی سب سے زیادہ شرح والے ممالک میں نائیجیریا، پاکستان، بنگلا دیش اور الجیریا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ اور یورپی کمیشن کے ممالک نے پاکستانی شہریوں کی مسترد ویزا درخواستوں کی فیس کی مد میں لاکھوں پاؤنڈ اور یورو کمالیے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1839140/uk-schengen-states-make-millions-off-rejected-visas">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ انکشاف رواں ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔</p>
<p>محققین، پالیسی سازوں اور ڈیزائنرز  کی ایک برادری ’لاگو کلیکٹو‘ کی جانب سے جاری کردہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.lagocollective.org/material/f/visas/rejected-by-gdp/#year-ending-december-2023">تجزیاتی رپورٹ</a></strong> دکھاتی ہے کہ 2023 کے دوران  پاکستانی شہریوں کی جانب سے برطانیہ کے لیے دی گئیں 40 فیصد ویزا درخواستیں مسترد کردی گئیں  جب کہ پاکستانی شہریوں نے ان ویزا درخواستوں کے سلسلے میں 53 لاکھ پاؤنڈز خرچ کیے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسی برس میں یورپی کمیشن کے ممالک کے لیے پاکستانیوں کی جانب سے دی گئی 50 فیصد درخواستیں مسترد کردی گئیں جن پر شہریوں نے 33 لاکھ 44 ہزار  یوروز خرچ کیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204118"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ اعداد و شمار  ای یو آبزرور کے اشتراک سے شائع کیے گئے، ای یو آبزرور نے رپورٹ کیا کہ یورپی یونین کی حکومتیں مسترد شدہ ویزا درخواستوں کی فیس کی مد میں  13 کروڑ یوروز کما لیتی ہیں، یہ حکومتیں اس پیسے کو (ریورس ریمٹینس) کا نام دیتی ہیں۔</p>
<p>لاگو کلیکٹو میں مارٹا فوریسٹی اینڈ اوتھو مانٹیگازا کی جانب سے مرتب کردہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ 2023 میں یورپی کمیشن کے ممالک کے لیے مسترد شدہ ویزا درخواستوں پر  13 کروڑ یوروز خرچ کیے گئے۔</p>
<p>ڈان کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں فوریسٹی نے کہا کہ ویزوں سے متعلق عدم مساوات کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور دنیا کے غریب ترین لوگ اس کی قیمت چکاتے ہں، آپ مسترد شدہ ویزوں کی لاگت کو ’ریورس ریمٹننس‘ کا نام دے سکتے ہیں، پیسہ غریب ممالک سے امیر ملکوں میں منتقل ہو رہا ہے، ہم نے امداد اور ہجرت کے حوالے سے بحث و مباحثہ کرتے ہوئے کبھی اس لاگت سے متعلق نہیں سنا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1169175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>برطانیہ اور یورپی کمیشن ممالک کے مختصر مدت کے ویزوں کے لیے پاکستان سے موصول ہونے والی مسترد درخواستوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو کہ تقریبا 40 فیصد بنتا ہے، اس کی وجہ سے درخواست گزاروں کو بھاری لاگت کا نقصان برداشت کرنی پڑتا ہے، پاکستان، یورپی کمیشن اور برطانیہ کے درمیان متعدد معاہدوں کے تناظر  میں یہ کافی حیران کن ہے۔</p>
<p>فوریسٹی جو  کہ لاگو کلیکٹو کے بانی اور  او ڈی آئی  کے سینئر وزٹنگ فیلو  ہیں، نے مزید کہا کہ  ’اس طرح سے پاکستانی شہریوں کے لیے قانونی ذرائع سے یورپ پہنچنے کے لیے درپیش چیلنجز ایک سال قبل اس وقت المناک طور پر واضح ہو گئے جب یونان کے سمندر میں کشتی الٹنے سے سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے،  لوگوں کے پاس پرخطر سفر  کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔</p>
<p>ای یو آبزرور  کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2024 میں مجموعی رقم بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ 11 جون سے  یورپی یونین میں سفر کے لیے ویزا درخواست فیس میں بالغ افراد کے لیے 80 سے بڑھ کر 90 اضافہ کردیا جائے گا،  اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے مسترد شدہ ویزوں کی فیس کی مد میں 4 کروڑ 40 لاکھ پاؤنڈز جمع کیے ہیں، جو کہ  نتیجہ سے قطع نظر نا قابل واپسی ہیں۔</p>
<p>یورپی کمیشن کے مسترد شدہ ویزوں کے اخراجات کا 90 فیصد بوجھ افریقی اور ایشیائی ممالک برداشت کرتے ہیں۔</p>
<p>تجزیاتی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ یورپی کمیشن کے ممالک کے لیے مختصر مدت کے ویزوں کی درخواست کی فیس 80 یوروز ہے اور برطانیہ کے لیے فیس 100 پاؤنڈز ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے لیے دی گئی ویزا درخواست مسترد کیے جانے کی سب سے زیادہ شرح والے ممالک میں نائیجیریا، پاکستان، بنگلا دیش اور الجیریا شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1235526</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Jun 2024 15:17:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/11145331d3a380b.jpg?r=150826" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/11145331d3a380b.jpg?r=150826"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/11150125bd6178b.jpg?r=150808" type="image/jpeg" medium="image" height="438" width="797">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/11150125bd6178b.jpg?r=150808"/>
        <media:title>یہ گراف ان 6 ممالک کا ڈیٹا دکھاتا ہے جن کی سب سے زیادہ ویزا درخواستیں مسترد کی گئیں، اگرچہ پاکستانیوں کے مسترد ویزوں کی شرح سب سے کم ہے، لیکن درخواست گزاروں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ان سے وصول رقم زیادہ ہے—فوٹو:ریحان احمد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
