<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 07:40:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 07:40:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت 12 کھرب 80 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اکٹھا کرنے کی خواہاں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1235656/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے مالی سال  2025-2024 میں پیٹرولیم لیوی کے ذریعے  12 کھرب 80 ارب روپے اکٹھا کرنے کا  ہدف مقرر کیا ہے، جو پچھلے سال کے ہدف کے مقابلے میں 47.4 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1839588/govt-eyes-rs128tr-in-pdl-collection"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق گزشتہ مالی سال میں، حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے 960 ارب روپے اکٹھے کیے، جو 869 ارب روپے کے اصل ہدف کو عبور کر گئے تھے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 321 ارب روپے کے اضافی منصوبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، خام تیل پر عائد محصول سے 28 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے، یہی رقم 35 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے  گزشتہ مالی سال میں جمع کی گئی تھی، گیس پر نئے متعارف کرائے گئے لیوی سے 40 کروڑ  روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، حالانکہ 24-2023 کے اصل بجٹ میں اسے شامل نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس مد میں 22 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل اور گیس کمپنیوں سے متفرق وصولیوں سے  2025-2024 میں  15 کھرب 20 ارب  روپے کی آمدنی متوقع ہے، موجودہ مالی سال میں، نظرثانی شدہ ہدف کی وجہ سے 11 کھرب 40 ارب  روپے کے اصل بجٹ تخمینے کے مقابلے میں 11 کھرب 90 ارب روپے کی وصولی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232111"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی وصولی کا ہدف 2024-25 کے لیے 2.5 ارب روپے پر برقرار ہے،  2024-2023 کا اصل ہدف 40 ارب روپے تھا، لیکن اصل وصولی صرف 2.5 ارب روپے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچرل گیس ڈیولپمنٹ سرچارج (جی ڈی ایس) کے لیے، جو صوبوں کے لیے مختص گیس کی مقررہ اور فروخت کی قیمت کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے، حکومت اگلے مالی سال کے لیے 25.61 ارب روپے کا منصوبہ رکھتی ہے،  2024-2023 کے لیے اصل تخمینہ 40 ارب روپے تھا، لیکن اصل وصولی 27.16 ارب روپے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت  2025–2024 میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 3.53 ارب روپے جمع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جو موجودہ سال میں جمع کیے گئے 3.51 ارب روپے سے تھوڑا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024-25 کے بجٹ میں خام تیل کی مقامی قیمتوں پر رعایت کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے 25 ارب روپے شامل ہیں، جو موجودہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ کے مطابق ہے لیکن 20 ارب روپے کے اصل بجٹ سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، بجٹ میں خام تیل پر رائلٹی میں کمی اور صوبوں کے لیے قدرتی گیس پر رائلٹی میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ خام تیل پر رائلٹی 58.65 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ قدرتی گیس پر رائلٹی  2024-2025 کے لیے 103.751 ارب روپے رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے مالی سال  2025-2024 میں پیٹرولیم لیوی کے ذریعے  12 کھرب 80 ارب روپے اکٹھا کرنے کا  ہدف مقرر کیا ہے، جو پچھلے سال کے ہدف کے مقابلے میں 47.4 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1839588/govt-eyes-rs128tr-in-pdl-collection">رپورٹ</a></strong> کے مطابق گزشتہ مالی سال میں، حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے 960 ارب روپے اکٹھے کیے، جو 869 ارب روپے کے اصل ہدف کو عبور کر گئے تھے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 321 ارب روپے کے اضافی منصوبے شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، خام تیل پر عائد محصول سے 28 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے، یہی رقم 35 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے  گزشتہ مالی سال میں جمع کی گئی تھی، گیس پر نئے متعارف کرائے گئے لیوی سے 40 کروڑ  روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، حالانکہ 24-2023 کے اصل بجٹ میں اسے شامل نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس مد میں 22 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے تھے۔</p>
<p>تیل اور گیس کمپنیوں سے متفرق وصولیوں سے  2025-2024 میں  15 کھرب 20 ارب  روپے کی آمدنی متوقع ہے، موجودہ مالی سال میں، نظرثانی شدہ ہدف کی وجہ سے 11 کھرب 40 ارب  روپے کے اصل بجٹ تخمینے کے مقابلے میں 11 کھرب 90 ارب روپے کی وصولی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232111"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی وصولی کا ہدف 2024-25 کے لیے 2.5 ارب روپے پر برقرار ہے،  2024-2023 کا اصل ہدف 40 ارب روپے تھا، لیکن اصل وصولی صرف 2.5 ارب روپے ہوئی۔</p>
<p>نیچرل گیس ڈیولپمنٹ سرچارج (جی ڈی ایس) کے لیے، جو صوبوں کے لیے مختص گیس کی مقررہ اور فروخت کی قیمت کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے، حکومت اگلے مالی سال کے لیے 25.61 ارب روپے کا منصوبہ رکھتی ہے،  2024-2023 کے لیے اصل تخمینہ 40 ارب روپے تھا، لیکن اصل وصولی 27.16 ارب روپے ہوئی۔</p>
<p>حکومت  2025–2024 میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 3.53 ارب روپے جمع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جو موجودہ سال میں جمع کیے گئے 3.51 ارب روپے سے تھوڑا زیادہ ہے۔</p>
<p>2024-25 کے بجٹ میں خام تیل کی مقامی قیمتوں پر رعایت کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے 25 ارب روپے شامل ہیں، جو موجودہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ کے مطابق ہے لیکن 20 ارب روپے کے اصل بجٹ سے زیادہ ہے۔</p>
<p>مزید برآں، بجٹ میں خام تیل پر رائلٹی میں کمی اور صوبوں کے لیے قدرتی گیس پر رائلٹی میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ خام تیل پر رائلٹی 58.65 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ قدرتی گیس پر رائلٹی  2024-2025 کے لیے 103.751 ارب روپے رکھی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1235656</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Jun 2024 11:28:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/131045466693933.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/131045466693933.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
