<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 16:08:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 16:08:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی سرکار نے کشمیر سے متعلق بیان پر اروندھتی رائے کیخلاف مقدمہ چلانے کا عندیہ دے دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1235864/</link>
      <description>&lt;p&gt;دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے معروف ناول نگار اروندھتی رائے کے خلاف 2010 میں کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا پرچار کرنے والی ایک کانفرنس  میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق دی ہندو اخبار نے کہا کہ حکم نامے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 13 کا حوالہ دیا گیا ہے، وی کے سکسینہ نے گزشتہ سال تعزیرات ہند کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ گورنر   نے کشمیر کی سینٹرل یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے سابق پروفیسر شیخ شوکت حسین کے خلاف  2010 میں نئی ​​دہلی میں منعقد ہونے والی اسی  کانفرنس ’آزادی - واحد راستہ‘ میں  ان کے مبینہ بیانات پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی  منظوری بھی دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204501"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی دانشوروں کی ایک بڑی تعداد اس سخت قانون کے تحت بغیر کسی مقدمے کے کئی سالوں سے جیلوں میں بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے پی اے  کی دفعہ 13 کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی وکالت، حوصلہ افزائی یا اکسانے سے متعلق ہے اور اس کی سزا 7 سال تک قید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اروندھتی رائے اور ڈاکٹر حسین کے خلاف ایف آئی آر اکتوبر 2010 میں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ، نئی دہلی کی عدالت کے حکم کے بعد سشیل پنڈت کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی تھی، مقدمے کے دیگر دو ملزمان ، ایک بھارت مخالف کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی،  اور دہلی یونیورسٹی کے لیکچرار سید عبدالرحمٰن گیلانی کی  موت ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اکتوبر میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ   نے انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت قابل سزا جرائم کے ارتکاب کے الزام میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت ملزمین کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی تھی جس میں 124 اے، 153 اے، 153 بی، 504 اور 505 کی دفعات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے معروف ناول نگار اروندھتی رائے کے خلاف 2010 میں کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا پرچار کرنے والی ایک کانفرنس  میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق دی ہندو اخبار نے کہا کہ حکم نامے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 13 کا حوالہ دیا گیا ہے، وی کے سکسینہ نے گزشتہ سال تعزیرات ہند کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی تھی۔</p>
<p>لیفٹیننٹ گورنر   نے کشمیر کی سینٹرل یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے سابق پروفیسر شیخ شوکت حسین کے خلاف  2010 میں نئی ​​دہلی میں منعقد ہونے والی اسی  کانفرنس ’آزادی - واحد راستہ‘ میں  ان کے مبینہ بیانات پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی  منظوری بھی دے دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204501"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عوامی دانشوروں کی ایک بڑی تعداد اس سخت قانون کے تحت بغیر کسی مقدمے کے کئی سالوں سے جیلوں میں بند ہے۔</p>
<p>یو اے پی اے  کی دفعہ 13 کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی وکالت، حوصلہ افزائی یا اکسانے سے متعلق ہے اور اس کی سزا 7 سال تک قید ہے۔</p>
<p>اروندھتی رائے اور ڈاکٹر حسین کے خلاف ایف آئی آر اکتوبر 2010 میں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ، نئی دہلی کی عدالت کے حکم کے بعد سشیل پنڈت کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی تھی، مقدمے کے دیگر دو ملزمان ، ایک بھارت مخالف کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی،  اور دہلی یونیورسٹی کے لیکچرار سید عبدالرحمٰن گیلانی کی  موت ہو چکی ہے۔</p>
<p>گزشتہ اکتوبر میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ   نے انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت قابل سزا جرائم کے ارتکاب کے الزام میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت ملزمین کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی تھی جس میں 124 اے، 153 اے، 153 بی، 504 اور 505 کی دفعات شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1235864</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Jun 2024 12:40:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/16123645f191d7a.png?r=124042" type="image/png" medium="image" height="355" width="641">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/16123645f191d7a.png?r=124042"/>
        <media:title>اروندھتی رائے۔ فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
