<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:02:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:02:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سانحہ 9 مئی: ایم پی او کے تحت گرفتار 3 ہزار 511 افراد کو رہا کردیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1236309/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب حکومت نے  لاہور ہائی کورٹ  کو بتایا ہے کہ صوبے میں 9 مئی کے فسادات کے بعد سے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت زیر حراست 4 ہزار 770 ’شرپسندوں‘ میں سے 3 ہزار 511  کو رہا کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1841813/3511-held-under-mpo-since-may-9-freed#:~:text=LAHORE%3A%20The%20Punjab%20government%20on,9%20riots%20have%20been%20released."&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق چیف سیکریٹری کی جانب سے پیر کو دائر کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے میں 4 ہزار 770  شرپسندوں کے خلاف 3 ہزار 232  نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کہا گیا ہے، 3 ہزار 511  قیدیوں کو ان کے نظر بندی کے احکامات واپس لینے کے بعد رہا کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ایک درخواست کے جواب میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں 9 مئی کے فسادات کے بعد ایم پی او کے تحت جاری یا واپس لیے گئے حراستی احکامات کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی  رہنما زینب عمیر کی جانب سے دائر درخواست میں صوبے کے ڈپٹی کمشنرز (ڈی سی) کی جانب سے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے ایم پی او آرڈیننس 1960 کے سیکشن 26 کے تحت اپنے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو 2017 میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تفویض کیے تھے تاکہ معقول پابندی کے ساتھ نظر بندی کے احکامات جاری کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کو نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ حال ہی میں راولپنڈی میں چار نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد امجد رفیق نے کیس کی سماعت 28 جون تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے کہا تھا کہ حکومت نے 9 مئی کے واقعہ کے تناظر میں ایم پی او کے سیکشن 3 اور 16 کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے حراستی کے احکامات جاری کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے کہنے پر  ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور درخواست گزار کی پارٹی سے وابستہ سیکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف  بغیر کسی وجہ کے نظربندی کے احکامات جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینب عمیر  نے  سوال اٹھایا کہ  اگر ان احکامات کا مقصد احتیاطی حراست ہے تو کارکنوں ، رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپے اور ان کی املاک کیؤؤو نقصان کیواں پہنچایا گیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی دارالحکومت کے احاطے میں ایم پی او کے استعمال کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب حکومت نے  لاہور ہائی کورٹ  کو بتایا ہے کہ صوبے میں 9 مئی کے فسادات کے بعد سے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت زیر حراست 4 ہزار 770 ’شرپسندوں‘ میں سے 3 ہزار 511  کو رہا کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1841813/3511-held-under-mpo-since-may-9-freed#:~:text=LAHORE%3A%20The%20Punjab%20government%20on,9%20riots%20have%20been%20released.">رپورٹ</a></strong> کے مطابق چیف سیکریٹری کی جانب سے پیر کو دائر کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے میں 4 ہزار 770  شرپسندوں کے خلاف 3 ہزار 232  نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے۔</p>
<p>اس میں کہا گیا ہے، 3 ہزار 511  قیدیوں کو ان کے نظر بندی کے احکامات واپس لینے کے بعد رہا کیا گیا۔</p>
<p>ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ایک درخواست کے جواب میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں 9 مئی کے فسادات کے بعد ایم پی او کے تحت جاری یا واپس لیے گئے حراستی احکامات کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی  رہنما زینب عمیر کی جانب سے دائر درخواست میں صوبے کے ڈپٹی کمشنرز (ڈی سی) کی جانب سے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے ایم پی او آرڈیننس 1960 کے سیکشن 26 کے تحت اپنے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو 2017 میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تفویض کیے تھے تاکہ معقول پابندی کے ساتھ نظر بندی کے احکامات جاری کیے جائیں۔</p>
<p>درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کو نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ حال ہی میں راولپنڈی میں چار نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔</p>
<p>جسٹس محمد امجد رفیق نے کیس کی سماعت 28 جون تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔</p>
<p>درخواست گزار نے کہا تھا کہ حکومت نے 9 مئی کے واقعہ کے تناظر میں ایم پی او کے سیکشن 3 اور 16 کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے حراستی کے احکامات جاری کیے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے کہنے پر  ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور درخواست گزار کی پارٹی سے وابستہ سیکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف  بغیر کسی وجہ کے نظربندی کے احکامات جاری کیے۔</p>
<p>زینب عمیر  نے  سوال اٹھایا کہ  اگر ان احکامات کا مقصد احتیاطی حراست ہے تو کارکنوں ، رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپے اور ان کی املاک کیؤؤو نقصان کیواں پہنچایا گیا؟</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی دارالحکومت کے احاطے میں ایم پی او کے استعمال کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1236309</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Jun 2024 09:37:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/250934557911da3.jpg?r=093525" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/250934557911da3.jpg?r=093525"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
