<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:52:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:52:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرکٹ میں ’ڈی ایل ایس‘ کے شریک موجد فرینک ڈک ورتھ انتقال کرگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1236399/</link>
      <description>&lt;p&gt;کرکٹ میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن (ڈی ایل ایس) کے شریک موجد فرینک ڈک ورتھ 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیلوں کی ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.espncricinfo.com/story/frank-duckworth-co-inventor-of-dls-method-dies-at-the-age-of-84-1440876"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق فرینک ڈک ورتھ کا شمار  ان دو افراد میں ہوتا ہے، جنہوں نے کرکٹ میں میچ سے متاثرہ میچز کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک فارمولہ ڈک ورتھ لوئس (بعد میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن) ایجاد کیا، جسے عام طور پر ہم ڈک ورتھ لوئس سسٹم یا فارمولہ بھی کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر یہ ڈک ورتھ لوئس کا اصل طریقہ کار انگریزی کے ماہر شماریات فرینک ڈک ورتھ اور ٹونی لیوس نے بنایا، اور اسے پہلے بار انٹرنیشنل کرکٹ میں 1997 میں استعمال کیا گیا، جب کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بارش سے متاثرہ میچوں میں نظرثانی شدہ ہدف دینے کے لیے باضاطہ طور پر 2001 میں اپنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ماہر شماریات اسٹیون اسٹرن نے اس سسٹم میں کچھ ترامیم کرکے اسے مزید بہتر کیا اور پھر 2014 میں اس کا نام تبدیل کرکے ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈک ورتھ اور لوئس دونوں کو 2010 میں برطانوی حکومت کی جانب سے ایم بی ای ایس ایوارڈ سے نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1017749"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایل میتھڈ نے ’بارش کے اصول‘ کی جگہ لے لی، جسے پہلے متاثرہ میچوں میں اہداف کا حساب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے سڈنی میں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان 1992 کے ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بدنامی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈک ورتھ 2014 تک آئی سی سی کے ساتھ بطور ماہر شماریات کام کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کرکٹ آپریشن کے جنرل مینیجر وسیم خان نے کہا کہ فرینک ایک بہترین ماہر شماریات تھے، جنہیں نہ صرف ان کے ساتھیوں بلکہ کرکٹ برادری کی جانب سے بھی سراہا گیا، ان کا بنایا گیا ڈی ایل ایس کا طریقہ اپنی جگہ موجود رہا اور ہم نے اسے انٹرنیشنل کرکٹ میں دو دہائیوں تک استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ میں فرینک کی شراکت بہت زیادہ رہی ہے اور کرکٹ کی دنیا ان کی موت پر افسردہ ہے،  ہم ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایل ایس کیسے کام کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر ڈک ورتھ لوئس اسٹرن ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ون ڈے انٹرنیشنل یا ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں بارش سے متاثرہ میچوں میں ایک فارمولے کے تحت نظرثانی شدہ ہدف دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1236310"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر اس فارمولے میں ہدف دیتے ہوئے، وقت کا تعین کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دونوں ٹیموں کے پاس موجود وکٹیں اور رنز کا تعین کرکے ایک فارمولے کے تحت نیا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، جس میں اوورز محدود کردیے جاتے ہیں اور کچھ رنز بھی کم کردیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹی20 ورلڈکپ 2024 کے دوران ڈی ایل ایس کے تحت متعدد میچوں کے فیصلے ہوئے، یہاں تک کہ افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے سپر ایٹ مرحلے کے آخری میچ کا فیصلہ بھی ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت ہوا، جس میں افغانستان نے تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی اور آسٹریلیا ایونٹ سے باہر ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کرکٹ میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن (ڈی ایل ایس) کے شریک موجد فرینک ڈک ورتھ 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔</p>
<p>کھیلوں کی ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.espncricinfo.com/story/frank-duckworth-co-inventor-of-dls-method-dies-at-the-age-of-84-1440876">رپورٹ</a></strong> کے مطابق فرینک ڈک ورتھ کا شمار  ان دو افراد میں ہوتا ہے، جنہوں نے کرکٹ میں میچ سے متاثرہ میچز کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک فارمولہ ڈک ورتھ لوئس (بعد میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن) ایجاد کیا، جسے عام طور پر ہم ڈک ورتھ لوئس سسٹم یا فارمولہ بھی کہتے ہیں۔</p>
<p>بنیادی طور پر یہ ڈک ورتھ لوئس کا اصل طریقہ کار انگریزی کے ماہر شماریات فرینک ڈک ورتھ اور ٹونی لیوس نے بنایا، اور اسے پہلے بار انٹرنیشنل کرکٹ میں 1997 میں استعمال کیا گیا، جب کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بارش سے متاثرہ میچوں میں نظرثانی شدہ ہدف دینے کے لیے باضاطہ طور پر 2001 میں اپنایا۔</p>
<p>آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ماہر شماریات اسٹیون اسٹرن نے اس سسٹم میں کچھ ترامیم کرکے اسے مزید بہتر کیا اور پھر 2014 میں اس کا نام تبدیل کرکے ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کردیا گیا۔</p>
<p>ڈک ورتھ اور لوئس دونوں کو 2010 میں برطانوی حکومت کی جانب سے ایم بی ای ایس ایوارڈ سے نوازا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1017749"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈی ایل میتھڈ نے ’بارش کے اصول‘ کی جگہ لے لی، جسے پہلے متاثرہ میچوں میں اہداف کا حساب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے سڈنی میں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان 1992 کے ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بدنامی ہوئی۔</p>
<p>ڈک ورتھ 2014 تک آئی سی سی کے ساتھ بطور ماہر شماریات کام کرتے رہے۔</p>
<p>آئی سی سی کرکٹ آپریشن کے جنرل مینیجر وسیم خان نے کہا کہ فرینک ایک بہترین ماہر شماریات تھے، جنہیں نہ صرف ان کے ساتھیوں بلکہ کرکٹ برادری کی جانب سے بھی سراہا گیا، ان کا بنایا گیا ڈی ایل ایس کا طریقہ اپنی جگہ موجود رہا اور ہم نے اسے انٹرنیشنل کرکٹ میں دو دہائیوں تک استعمال کیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ میں فرینک کی شراکت بہت زیادہ رہی ہے اور کرکٹ کی دنیا ان کی موت پر افسردہ ہے،  ہم ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کرتے ہیں۔</p>
<p>ڈی ایل ایس کیسے کام کرتا ہے؟</p>
<p>بنیادی طور پر ڈک ورتھ لوئس اسٹرن ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ون ڈے انٹرنیشنل یا ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں بارش سے متاثرہ میچوں میں ایک فارمولے کے تحت نظرثانی شدہ ہدف دیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1236310"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بنیادی طور پر اس فارمولے میں ہدف دیتے ہوئے، وقت کا تعین کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دونوں ٹیموں کے پاس موجود وکٹیں اور رنز کا تعین کرکے ایک فارمولے کے تحت نیا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، جس میں اوورز محدود کردیے جاتے ہیں اور کچھ رنز بھی کم کردیے جاتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹی20 ورلڈکپ 2024 کے دوران ڈی ایل ایس کے تحت متعدد میچوں کے فیصلے ہوئے، یہاں تک کہ افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے سپر ایٹ مرحلے کے آخری میچ کا فیصلہ بھی ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت ہوا، جس میں افغانستان نے تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی اور آسٹریلیا ایونٹ سے باہر ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1236399</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Jun 2024 12:04:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/06/261155319025978.jpg?r=120034" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/06/261155319025978.jpg?r=120034"/>
        <media:title>فوٹو: ای ایس پی این کرک انفو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
