<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 17:58:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 17:58:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2024 کے پہلے چھ ماہ میں لاپتا افراد کے 197 نئے کیسز رپورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1236780/</link>
      <description>&lt;p&gt;سال 2024 کے پہلے چھ ماہ میں لاپتا افراد کے 197 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لاپتا افراد کے کمیشن نے چھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ جس کے مطابق جنوری میں 55، فروری میں 42 اور مارچ میں لاپتا ہونے کے 18 کیسز رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اپریل میں 15، مئی میں 20 اور جون میں لاپتا افراد کے 47 کیسز سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاپتا افراد کمیشن کے پاس گزشتہ تیرہ سالوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار 285 کیسز رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231477"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے اب تک 6 ہزار 464 لاپتا افراد کا سراغ لگایا ہے جبکہ 2 ہزار 270 کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تیرہ سالوں میں 4 ہزار 514 لاپتا افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹے جبکہ 2011 سے 2024 تک 277 لاپتا افراد کی لاشیں ملیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں سال 23 اپریل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ لاپتا افراد کا معاملہ آسان نہیں، اس کی بہت سی جہتیں ہیں، ہمیں اس کا سیاسی حل نکالنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی اس مسئلے کو حل کرنے کے عزم میں کوئی کمی نہیں، لیکن یہ 4 دہائیوں پر محیط معاملہ ہے جو جلد بازی یا سوشل میڈیا سے یا عدالتی احکامات سے بھی ایک رات میں حل نہیں ہوسکتا، اگر آپ بات کریں کہ حکومتی ادارے اس میں ملوث ہیں تو اس کو ایک دم مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن دیکھنا ہے کہ اس پر کوئی شواہد موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سال 2024 کے پہلے چھ ماہ میں لاپتا افراد کے 197 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لاپتا افراد کے کمیشن نے چھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔</p>
<p>رپورٹ جس کے مطابق جنوری میں 55، فروری میں 42 اور مارچ میں لاپتا ہونے کے 18 کیسز رپورٹ ہوئے۔</p>
<p>اسی طرح اپریل میں 15، مئی میں 20 اور جون میں لاپتا افراد کے 47 کیسز سامنے آئے۔</p>
<p>لاپتا افراد کمیشن کے پاس گزشتہ تیرہ سالوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار 285 کیسز رپورٹ ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231477"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمیشن نے اب تک 6 ہزار 464 لاپتا افراد کا سراغ لگایا ہے جبکہ 2 ہزار 270 کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔</p>
<p>گزشتہ تیرہ سالوں میں 4 ہزار 514 لاپتا افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹے جبکہ 2011 سے 2024 تک 277 لاپتا افراد کی لاشیں ملیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں سال 23 اپریل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ لاپتا افراد کا معاملہ آسان نہیں، اس کی بہت سی جہتیں ہیں، ہمیں اس کا سیاسی حل نکالنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کی اس مسئلے کو حل کرنے کے عزم میں کوئی کمی نہیں، لیکن یہ 4 دہائیوں پر محیط معاملہ ہے جو جلد بازی یا سوشل میڈیا سے یا عدالتی احکامات سے بھی ایک رات میں حل نہیں ہوسکتا، اگر آپ بات کریں کہ حکومتی ادارے اس میں ملوث ہیں تو اس کو ایک دم مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن دیکھنا ہے کہ اس پر کوئی شواہد موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1236780</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jul 2024 22:23:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/012217217ec15f5.jpg?r=222248" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/012217217ec15f5.jpg?r=222248"/>
        <media:title>کمیشن نے اب تک 6 ہزار 464 لاپتا افراد کا سراغ لگایا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
