<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 14:32:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 14:32:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور سابق صدر کچھ استثنیٰ حاصل ہے، امریکی سپریم کورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1236781/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی سپریم کورٹ نے عام انتخابات سے محض چند ماہ قبل پیر کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور سابق صدر استغاثہ سے کچھ استثنیٰ حاصل ہے جہاں اس فیصلے کے بعد 2020 الیکشن کے نتائج بدلنے کی سازش کے مقدمے کی کارروائی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ججوں نے نظریاتی خطوط پر 6-3 کے تناسب سے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سنایا گیا ہے جب امریکا میں ہونے والے عام انتخابات میں صرف چار ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے جس میں ٹرمپ کے مدمقابل ڈیموکریٹس کے امیدوار اور موجودہ صدر جو بائیڈن امیدوار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس جان رابرٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک صدر کو اپنے عہدے پر رہتے ہوئے سرکاری کارروائیوں کے لیے فوجداری مقدمے سے ’مکمل استثنیٰ‘ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری یا نجی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ہے اور کیس کو یہ کہہ کر زیریں عدالت میں بھیجا دیا کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ سابق صدر پر لگائے گئے الزامات میں سے کون سا سرکاری اور کونسا نجی نوعیت کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ججوں نے فیصلے سے اختلاف کیا اور جسٹس سونیا سوٹومائیر نے کہا کہ ہماری جمہوری تاریخ میں کبھی بھی کسی صدر کو اس بات پر یقین نہیں رہا کہ اگر وہ فوجداری قانون کی خلاف ورزی کے لیے اپنے دفتر کا استعمال کرتے ہیں تو وہ فوجداری مقدمے سے محفوظ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے اور اسی لیے میں فیصلے سے اختلاف کرتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کے کیس میں ٹرمپ کے مقدمے اصل تاریخ الیکشن سے کئی ماہ 4 مارچ کی مقرر تھی لیکن سپریم کورٹ میں موجود ججوں نے فروری میں صدارتی استثنیٰ کے لیے ان کی دلیل سننے پر اتفاق کیا جس کی وجہ سے کیس کی کارورائی تعطل کا شکار ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چار مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنے والے ٹرمپ کم از کم انتخابات کے بعد تک ٹرائل میں تاخیر کے لیے پر طرح کا حربہ استعمال کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 مئی کو نیویارک کی ایک عدالت نے ٹرمپ کو 2016 کی صدارتی مہم کے آخری مراحل میں جنسی اسکینڈل کو چھپانے کے لیے جھوٹے کاروباری ریکارڈ پیش کرنے کے الزام میں 34 سنگین الزامات میں مجرم ٹھہرایا تھا جس کے بعد ٹرمپ ایسے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے تھے جنہیں جرم کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کو اس کیس میں 11 جولائی کو سزا سنائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ٹرمپ جنوری 2025 میں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد ان کے خلاف جاری وفاقی ٹرائل بند کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی سپریم کورٹ نے عام انتخابات سے محض چند ماہ قبل پیر کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور سابق صدر استغاثہ سے کچھ استثنیٰ حاصل ہے جہاں اس فیصلے کے بعد 2020 الیکشن کے نتائج بدلنے کی سازش کے مقدمے کی کارروائی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ججوں نے نظریاتی خطوط پر 6-3 کے تناسب سے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سنایا گیا ہے جب امریکا میں ہونے والے عام انتخابات میں صرف چار ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے جس میں ٹرمپ کے مدمقابل ڈیموکریٹس کے امیدوار اور موجودہ صدر جو بائیڈن امیدوار ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس جان رابرٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک صدر کو اپنے عہدے پر رہتے ہوئے سرکاری کارروائیوں کے لیے فوجداری مقدمے سے ’مکمل استثنیٰ‘ حاصل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم ان کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری یا نجی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ہے اور کیس کو یہ کہہ کر زیریں عدالت میں بھیجا دیا کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ سابق صدر پر لگائے گئے الزامات میں سے کون سا سرکاری اور کونسا نجی نوعیت کا ہے۔</p>
<p>تین ججوں نے فیصلے سے اختلاف کیا اور جسٹس سونیا سوٹومائیر نے کہا کہ ہماری جمہوری تاریخ میں کبھی بھی کسی صدر کو اس بات پر یقین نہیں رہا کہ اگر وہ فوجداری قانون کی خلاف ورزی کے لیے اپنے دفتر کا استعمال کرتے ہیں تو وہ فوجداری مقدمے سے محفوظ رہیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے اور اسی لیے میں فیصلے سے اختلاف کرتی ہوں۔</p>
<p>الیکشن کے کیس میں ٹرمپ کے مقدمے اصل تاریخ الیکشن سے کئی ماہ 4 مارچ کی مقرر تھی لیکن سپریم کورٹ میں موجود ججوں نے فروری میں صدارتی استثنیٰ کے لیے ان کی دلیل سننے پر اتفاق کیا جس کی وجہ سے کیس کی کارورائی تعطل کا شکار ہو گئی۔</p>
<p>چار مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنے والے ٹرمپ کم از کم انتخابات کے بعد تک ٹرائل میں تاخیر کے لیے پر طرح کا حربہ استعمال کررہے ہیں۔</p>
<p>30 مئی کو نیویارک کی ایک عدالت نے ٹرمپ کو 2016 کی صدارتی مہم کے آخری مراحل میں جنسی اسکینڈل کو چھپانے کے لیے جھوٹے کاروباری ریکارڈ پیش کرنے کے الزام میں 34 سنگین الزامات میں مجرم ٹھہرایا تھا جس کے بعد ٹرمپ ایسے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے تھے جنہیں جرم کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔</p>
<p>ان کو اس کیس میں 11 جولائی کو سزا سنائی جائے گی۔</p>
<p>دوبارہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ٹرمپ جنوری 2025 میں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد ان کے خلاف جاری وفاقی ٹرائل بند کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1236781</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jul 2024 22:38:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/012229130013227.png?r=223723" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/012229130013227.png?r=223723"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/0122291499ff7a2.png?r=223723" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/0122291499ff7a2.png?r=223723"/>
        <media:title>الیکشن سے چند ماہ قبل سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
