<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:29:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:29:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 24-2023: ملکی برآمدات بڑھ کر 30 ارب 70 کروڑ ڈالر ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1236903/</link>
      <description>&lt;p&gt;مالی سال 24-2023 کے دوران پاکستان کی اشیا کی برآمدات 10.54 فیصد اضافے کے بعد 30 ارب 64 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جن کا حجم گزشتہ برس 27 ارب 72 کروڑ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1843496/exports-increase-to-307bn-in-2023-24"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جولائی 2023 سے برآمدات میں بتدریج اضافہ شروع ہوا، جو جنوری میں منفی ہوگیا اور یہ رجحان اپریل تک جاری رہا، تاہم عارضی بنیادوں پر کمی کے بعد اضافے کا رجحان مئی میں دوبارہ شروع ہو کر جون میں بھی جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی تاریخ کی بُلند ترین 31 ارب 78 کروڑ ڈالر کی برآمدات مالی سال 22-2021  میں ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم اس کے بعد برآمدات گر کر 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران حکومت نے متعدد اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں برآمدات بڑھ کر 30 ارب 65 کروڑ ڈالر تک جاپہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں برآمدات 7.34 فیصد اضافے کے بعد 2 ارب 53 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 2 ارب 35 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم سا میں ماہانہ بنیادوں پر 10.92 فیصد کی گراوٹ آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ بجٹ 25-2024 میں لاگو کردہ ٹیکس اقدامات کے منفی نتائج برآمد ہوں گے، انہیں یقین ہے کہ ان اقدامات سے ملک کی برآمدات میں کمی واقع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کا خدشہ ہے کہ برآمدات کنندگان ٹیکس ادائیگیاں کم کرنے کے لیے برآمدات کی کم قدر کو ظاہر کریں گے، مزید برآں، انڈر انوائسنگ کے اس عمل کے نتیجے میں دوسرے ممالک کو برآمدات سے ہونے والی غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے میں نقصان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران درآمدات 0.84 فیصد تنزلی کے بعد 54 ارب 73 کروڑ ڈالر پر آگئیں، جن کا حجم مالی سال 2023 کے دوران 55 ارب 19 کروڑ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جون میں درآمدات 17.43 فیصد اضافے کے بعد 4 ارب 91 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 4 ارب 18 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 میں درآمدات کا ہدف 57 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی خسارہ جون میں 30.39 فیصد بڑھ کر 2 ارب 39 کروڑ ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال کے اسی مہینے میں ایک ارب 83 کروڑ ڈالر رہا تھا، تاہم مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ کم ہو کر 24 ارب 8 کروڑ ڈالر رہ گیا، جس کا حجم گزشتہ برس 27 ارب 47 کروڑ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مالی سال 24-2023 کے دوران پاکستان کی اشیا کی برآمدات 10.54 فیصد اضافے کے بعد 30 ارب 64 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جن کا حجم گزشتہ برس 27 ارب 72 کروڑ ڈالر رہا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1843496/exports-increase-to-307bn-in-2023-24"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جولائی 2023 سے برآمدات میں بتدریج اضافہ شروع ہوا، جو جنوری میں منفی ہوگیا اور یہ رجحان اپریل تک جاری رہا، تاہم عارضی بنیادوں پر کمی کے بعد اضافے کا رجحان مئی میں دوبارہ شروع ہو کر جون میں بھی جاری رہا۔</p>
<p>ملک کی تاریخ کی بُلند ترین 31 ارب 78 کروڑ ڈالر کی برآمدات مالی سال 22-2021  میں ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم اس کے بعد برآمدات گر کر 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں۔</p>
<p>نگران حکومت نے متعدد اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں برآمدات بڑھ کر 30 ارب 65 کروڑ ڈالر تک جاپہنچیں۔</p>
<p>جون میں برآمدات 7.34 فیصد اضافے کے بعد 2 ارب 53 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 2 ارب 35 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم سا میں ماہانہ بنیادوں پر 10.92 فیصد کی گراوٹ آئی۔</p>
<p>ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ بجٹ 25-2024 میں لاگو کردہ ٹیکس اقدامات کے منفی نتائج برآمد ہوں گے، انہیں یقین ہے کہ ان اقدامات سے ملک کی برآمدات میں کمی واقع ہوگی۔</p>
<p>اس بات کا خدشہ ہے کہ برآمدات کنندگان ٹیکس ادائیگیاں کم کرنے کے لیے برآمدات کی کم قدر کو ظاہر کریں گے، مزید برآں، انڈر انوائسنگ کے اس عمل کے نتیجے میں دوسرے ممالک کو برآمدات سے ہونے والی غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے میں نقصان ہوگا۔</p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران درآمدات 0.84 فیصد تنزلی کے بعد 54 ارب 73 کروڑ ڈالر پر آگئیں، جن کا حجم مالی سال 2023 کے دوران 55 ارب 19 کروڑ ڈالر رہا تھا۔</p>
<p>تاہم، جون میں درآمدات 17.43 فیصد اضافے کے بعد 4 ارب 91 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 4 ارب 18 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔</p>
<p>مالی سال 2025 میں درآمدات کا ہدف 57 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھا گیا ہے۔</p>
<p>تجارتی خسارہ جون میں 30.39 فیصد بڑھ کر 2 ارب 39 کروڑ ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال کے اسی مہینے میں ایک ارب 83 کروڑ ڈالر رہا تھا، تاہم مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ کم ہو کر 24 ارب 8 کروڑ ڈالر رہ گیا، جس کا حجم گزشتہ برس 27 ارب 47 کروڑ ڈالر رہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1236903</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jul 2024 11:34:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/03113021a4fbbbc.gif?r=113302" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/03113021a4fbbbc.gif?r=113302"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
