<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 18:47:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 18:47:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینائی بچانے والےآئی ڈراپس سمیت دیگر ادویات کی قلت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1237028/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت دیگر شہروں میں بینائی بچانے میں مددگار آئی ڈراپس (آنکھوں کے قطروں) سمیت دیگر ادویات کی شدید قلت کی شکایات سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں گلوکوما (Glaucoma)جسے عام طور پر کالا موتیا یا کالا پانی بھی کہا جاتا ہے، اس کے قطرے نایاب ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالا پانی یا کالا موتیا کے مریضوں کو آنکھوں کا انٹراوکولر پریشر (آنکھ کے اندر کا پریشر) نارمل رکھنے کے لیے لازمی طور پر صبح اور شام یا دن میں ایک بار قطرے ڈالنے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں گلوکوما (Glaucoma) کے مرض میں استعمال ہونے والے زیادہ تر آئی ڈراپس گزشتہ دو ہفتوں سے نایاب ہیں اور میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1119491"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بڑے میڈیکل اسٹورز پر بھی گلوکوکا کے آنکھوں کے قطرے نہیں مل رہے اور ایک سے زائد فارمولوں پر مبنی قطرے مارکیٹ میں نایاب ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالا پانی اور کالا موتیا کے مریضوں کو مسلسل آئی ڈراپس نہ ملنے سے ان کی آنکھوں کے اندر کا پریشر بڑھ جاتا ہے، جس وجہ سے انہیں آنکھوں اور سر میں درد سمیت ان کی بصارت کے کم ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالا پانی یا کالا موتیا ویسے بھی لاعلاج ہے لیکن ادویات اور خصوصی طور پر آئی ڈراپس کے ذریعے بیماری کو قابو کیا جاتا ہے لیکن گلوکوما کے آئی ڈراپس کی عدم دستیابی سے ایسے مریض مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ملک بھر میں اینٹی الرجی ادویات سمیت دیگر بیماریوں کی اہم ادویات بھی کمیاب ہونے کی خبریں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بعض میڈیکل اسٹورز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ کالا موتیا یا کالا پانی کے آئی ڈراپس کی قیمتیں بڑھا جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے کمپنیوں نے ان کی ترسیل روک دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذریعے نے بتایا کہ گلوکوما کے مریضوں کے آئی ڈراپ (ایلفا گان) کی قیمت 800 روپے سے بڑھا کر 1300 تک کی جا رہی ہے جب کہ (سنبرنزا) ڈراپ کی قیمت میں بھی 300 سے 500 روپے کا اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ دونوں آئی ڈراپس کے علاوہ حال ہی میں ادویات کمپنیوں نے گلوکوما کے آئی ڈراپس (زیلاکوم) اور (لمی گان) سمیت دیگر ڈراپس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گزشتہ چند سال سے وقتاً فوقتاً ادویات کی قلت کا ہونا معمول بن چکا ہے اور کچھ عرصے بعد ادویات مارکیٹ سے غائب ہونے کے بعد ان کی قیمتیں بڑھا کر انہیں فروخت کے لیے پیش کردیا جاتا ہے اور اس ضمن میں ریگولیٹر ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھر میں گزشتہ برس پیناڈول کی گولیاں کئی ماہ تک مارکیٹ سے غائب رہی تھیں، جس کے بعد انہیں مہنگا کرکے فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا اور ایک سال کے اندر پیناڈول کی دس گولیوں کے ایک پتے کی قیمت پر 15 روپے تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت دیگر شہروں میں بینائی بچانے میں مددگار آئی ڈراپس (آنکھوں کے قطروں) سمیت دیگر ادویات کی شدید قلت کی شکایات سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>کراچی میں گلوکوما (Glaucoma)جسے عام طور پر کالا موتیا یا کالا پانی بھی کہا جاتا ہے، اس کے قطرے نایاب ہوچکے ہیں۔</p>
<p>کالا پانی یا کالا موتیا کے مریضوں کو آنکھوں کا انٹراوکولر پریشر (آنکھ کے اندر کا پریشر) نارمل رکھنے کے لیے لازمی طور پر صبح اور شام یا دن میں ایک بار قطرے ڈالنے ہوتے ہیں۔</p>
<p>کراچی میں گلوکوما (Glaucoma) کے مرض میں استعمال ہونے والے زیادہ تر آئی ڈراپس گزشتہ دو ہفتوں سے نایاب ہیں اور میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1119491"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کراچی کے بڑے میڈیکل اسٹورز پر بھی گلوکوکا کے آنکھوں کے قطرے نہیں مل رہے اور ایک سے زائد فارمولوں پر مبنی قطرے مارکیٹ میں نایاب ہوچکے ہیں۔</p>
<p>کالا پانی اور کالا موتیا کے مریضوں کو مسلسل آئی ڈراپس نہ ملنے سے ان کی آنکھوں کے اندر کا پریشر بڑھ جاتا ہے، جس وجہ سے انہیں آنکھوں اور سر میں درد سمیت ان کی بصارت کے کم ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>کالا پانی یا کالا موتیا ویسے بھی لاعلاج ہے لیکن ادویات اور خصوصی طور پر آئی ڈراپس کے ذریعے بیماری کو قابو کیا جاتا ہے لیکن گلوکوما کے آئی ڈراپس کی عدم دستیابی سے ایسے مریض مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ملک بھر میں اینٹی الرجی ادویات سمیت دیگر بیماریوں کی اہم ادویات بھی کمیاب ہونے کی خبریں ہیں۔</p>
<p>کراچی کے بعض میڈیکل اسٹورز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ کالا موتیا یا کالا پانی کے آئی ڈراپس کی قیمتیں بڑھا جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے کمپنیوں نے ان کی ترسیل روک دی ہے۔</p>
<p>ایک ذریعے نے بتایا کہ گلوکوما کے مریضوں کے آئی ڈراپ (ایلفا گان) کی قیمت 800 روپے سے بڑھا کر 1300 تک کی جا رہی ہے جب کہ (سنبرنزا) ڈراپ کی قیمت میں بھی 300 سے 500 روپے کا اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>مذکورہ دونوں آئی ڈراپس کے علاوہ حال ہی میں ادویات کمپنیوں نے گلوکوما کے آئی ڈراپس (زیلاکوم) اور (لمی گان) سمیت دیگر ڈراپس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا۔</p>
<p>پاکستان میں گزشتہ چند سال سے وقتاً فوقتاً ادویات کی قلت کا ہونا معمول بن چکا ہے اور کچھ عرصے بعد ادویات مارکیٹ سے غائب ہونے کے بعد ان کی قیمتیں بڑھا کر انہیں فروخت کے لیے پیش کردیا جاتا ہے اور اس ضمن میں ریگولیٹر ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان بھر میں گزشتہ برس پیناڈول کی گولیاں کئی ماہ تک مارکیٹ سے غائب رہی تھیں، جس کے بعد انہیں مہنگا کرکے فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا اور ایک سال کے اندر پیناڈول کی دس گولیوں کے ایک پتے کی قیمت پر 15 روپے تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1237028</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jul 2024 23:38:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/042036387a23d8b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/042036387a23d8b.jpg"/>
        <media:title>: فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
