<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 22 May 2026 02:00:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 22 May 2026 02:00:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے ٹو سر کرنے کی مہم میں بیمار پڑنے والی کوہ پیما ثمینہ بیگ کو بیس کیمپ سے نکال لیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1237219/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے۔ٹو کو سر کرنے کی مہم کے دوران بیمار پڑنے والی پاکستان کی ریکارڈ ساز معروف کوہ پیما ثمینہ بیگ کو ہفتے کے روز بیمار ہونے کے بعد بیس کیمپ سے نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1844355"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وادی شمشال سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ اور کے۔ٹو کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ نانگا پربت کے ساتھ ساتھ سات براعظموں میں سات چوٹیاں سر کرنے کا بھی دعویٰ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1007589"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال، ثمینہ بیگ پاکستان اور اٹلی کی خواتین کی آٹھ رکنی کے۔ٹو مہم کا حصہ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگوسٹینا دا پولینزا اور ثمینہ بیگ کی زیر قیادت ٹیم میں دونوں ممالک سے چار چار ارکان شامل ہیں اور اس مہم کے لیے یہ ٹیم 28 جون کو کے ٹو بیس کیمپ پہنچی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثمینہ بیگ کے بھائی محبوب علی نے ڈان کو بتایا کہ ٹیم کے ارکان بیس کیمپ میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کی بہن شدید بیمار ہوگئیں اور انہیں سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اطالوی ڈاکٹروں نے ثمینہ کا علاج کیا اور انہیں دوائیاں دیں لیکن اس کے باوجود ان کی حالت بگڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محبوب علی نے بتایا کہ مہم کے منتظمین نے آرمی ایوی ایشن حکام سے درخواست کی کہ وہ ثمینہ کو اسکردو لے جانے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر فراہم کریں کیونکہ بیس کیمپ سے اسکردو تک ایک ہفتے کا سفر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم تین دن تک ہیلی کاپٹر کا انتظار کرتے رہے تاکہ انخلا یقینی بنایا جا سکے، پاکستان میں سروس فراہم کرنے والا واحد ادارہ عسکری ایوی ایشن انخلا کے لیے تمام تقاضے پورے کرنے کے باوجود موسمی حالات کی وجہ سے ریسکیو آپریشن نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایک ڈاکٹر نے ثمینہ بیگ کی حالت کا جائزہ لیا اور بتایا کہ ان کی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف کوہ پیما کے بھائی نے کہا کہ ٹیم کو انسانی مدد اور گھوڑے کی معاونت سے اس مقام سے نکالنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ثمینہ کو سانس لینے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بوتل بند آکسیجن فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹیم ہفتہ کو کنکورڈیا پہنچی اور توقع ہے کہ وہ اتوار کو پیو پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محبوب علی نے مزید بتایا کہ عام طور پر اسکردو پہنچنے میں ایک ہفتہ لگتا ہے لیکن ٹیم دن رات پیدل چل رہی ہے تاکہ ثمینہ بیگ کو جلد از جلد طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے۔ٹو کو سر کرنے کی مہم کے دوران بیمار پڑنے والی پاکستان کی ریکارڈ ساز معروف کوہ پیما ثمینہ بیگ کو ہفتے کے روز بیمار ہونے کے بعد بیس کیمپ سے نکال لیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1844355">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وادی شمشال سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ اور کے۔ٹو کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں۔</p>
<p>وہ نانگا پربت کے ساتھ ساتھ سات براعظموں میں سات چوٹیاں سر کرنے کا بھی دعویٰ کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1007589"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فی الحال، ثمینہ بیگ پاکستان اور اٹلی کی خواتین کی آٹھ رکنی کے۔ٹو مہم کا حصہ تھیں۔</p>
<p>ایگوسٹینا دا پولینزا اور ثمینہ بیگ کی زیر قیادت ٹیم میں دونوں ممالک سے چار چار ارکان شامل ہیں اور اس مہم کے لیے یہ ٹیم 28 جون کو کے ٹو بیس کیمپ پہنچی تھی۔</p>
<p>ثمینہ بیگ کے بھائی محبوب علی نے ڈان کو بتایا کہ ٹیم کے ارکان بیس کیمپ میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کی بہن شدید بیمار ہوگئیں اور انہیں سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اطالوی ڈاکٹروں نے ثمینہ کا علاج کیا اور انہیں دوائیاں دیں لیکن اس کے باوجود ان کی حالت بگڑ گئی۔</p>
<p>محبوب علی نے بتایا کہ مہم کے منتظمین نے آرمی ایوی ایشن حکام سے درخواست کی کہ وہ ثمینہ کو اسکردو لے جانے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر فراہم کریں کیونکہ بیس کیمپ سے اسکردو تک ایک ہفتے کا سفر ہے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم تین دن تک ہیلی کاپٹر کا انتظار کرتے رہے تاکہ انخلا یقینی بنایا جا سکے، پاکستان میں سروس فراہم کرنے والا واحد ادارہ عسکری ایوی ایشن انخلا کے لیے تمام تقاضے پورے کرنے کے باوجود موسمی حالات کی وجہ سے ریسکیو آپریشن نہیں کر سکا۔</p>
<p>جمعہ کو ایک ڈاکٹر نے ثمینہ بیگ کی حالت کا جائزہ لیا اور بتایا کہ ان کی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔</p>
<p>معروف کوہ پیما کے بھائی نے کہا کہ ٹیم کو انسانی مدد اور گھوڑے کی معاونت سے اس مقام سے نکالنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ثمینہ کو سانس لینے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بوتل بند آکسیجن فراہم کی گئی۔</p>
<p>یہ ٹیم ہفتہ کو کنکورڈیا پہنچی اور توقع ہے کہ وہ اتوار کو پیو پہنچ جائے گی۔</p>
<p>محبوب علی نے مزید بتایا کہ عام طور پر اسکردو پہنچنے میں ایک ہفتہ لگتا ہے لیکن ٹیم دن رات پیدل چل رہی ہے تاکہ ثمینہ بیگ کو جلد از جلد طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1237219</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jul 2024 19:29:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمیل نگری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/07173902324f131.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/07173902324f131.png"/>
        <media:title>پاکستان کی ریکارڈ ساز معروف کوہ پیما ثمینہ بیگ— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
