<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 19:35:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 19:35:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ مسلسل دوسری بار یورو کپ کے فائنل میں پہنچ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1237499/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپیئن چیمپیئن شپ (یورو) 2024ء کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے نتیجے میں نیدرلینڈز کو 1-2 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار یورو کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے دونوں ٹیمیں مدمقابل آئیں تو ابتدائی 7 منٹ میں ہی نیدرلینڈز کے چاوی سیمنز نے گول باکس کے باہر سے شاندار گول اسکور کیا جس سے نیدرلینڈز کو 0-1 کی برتری حاصل ہوئی لیکن یہ برتری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14ویں منٹ میں موو بناتے ہوئے کپتان ہیری کین کو نیدرلینڈز کے ڈمفریس نے گرادیا جس کے بعد انگلینڈ کو پینلٹی کِک کا موقع ملا جس پر ہیری کین نے گول اسکور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے ہاف کے اختتام پر میچ 1-1 سے برابر تھا اور یہ اسکور میچ کے اختتامی لمحات تک قائم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کا ڈرامائی موڑ کوچ گیرتھ ساؤتھ گیٹ کی جانب سے 80 منٹ گزر جانے کے بعد کی جانے والی اہم تبدیلی ثابت ہوئی، انہوں نے فل فوڈن کے متبادل کے طور پر کول پالمر جبکہ کپتان ہیری کین کے متبادل کے طور پر اولی واٹکنس کو میدان میں اتارا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقررہ وقت ختم ہونے اور اسکور برابر ہونے کی صورت میں لگ رہا تھا کہ اب ایکسٹرا ٹائم کھیلا جائے گا لیکن متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے واٹکنس نے 1+90 منٹ میں پالمر کے اسسٹ کی بدولت ایک شاندار گول اسکور کرکے انگلینڈ کو 1-2 سے فیصلہ کُن برتری دلوائی جس کے ساتھ ہی نیدرلینڈز کا یورو کا سفر تمام ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/SonyLIV/videos/500856725833704" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیدرلینڈز صرف ایک بار ہی کوئی بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر پائی ہے اور وہ 1988ء کا یورو کپ تھا جبکہ دوسری جانب انگلینڈ آج تک کوئی یورو ٹورنامنٹ جیت نہیں پائی اور اس نے ایک ہی بین الاقوامی اعزاز حاصل کیا ہے جوکہ 1966ء کا فٹبال ورلڈ کپ (جسے اس وقت جولس ریمٹ کہا جاتا تھا) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری لمحات میں گول کی وجہ سے انگلینڈ کے اولی واٹکنس پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ نے مسلسل دوسری بار یورو کے فائنل میں رسائی حاصل کی، اس سے قبل 2020ء کے یورو کپ میں انگلینڈ سیمی فائنل میں ڈنمارک کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا تھا اور یہ وہی موقع تھا جب انگلش فٹبال شائقین کی جانب سے ’اِٹس کمنگ ہوم‘ کے نعرے لگائے گئے لیکن فائنل میں پینلٹی شوٹ آؤٹ میں انگلینڈ کو اٹلی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/07/11095720e3965b8.jpg'  alt='&amp;mdash;تصویر: ایکس' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—تصویر: ایکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں یورو کپ میں ایک اور بار اس نعرے کی گونج اس وقت سنائی دی کہ جب انگلینڈ نے پری کوارٹر فائنل میں سلوواکیہ کو شکست دی اور اب فائنل میں رسائی حاصل کرنے کے بعد انگلینڈ شائقین پُرامید ہیں کہ یہ کپ وہی جیتیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ سے قبل نارنجی لباس میں ملبوس دسیوں ہزاروں کی تعداد میں ڈچ شائقین نے جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں اسٹیڈیم تک مارچ کیا جبکہ یہ پہلا موقع تھا کہ انگلینڈ جس کے شائقین ہمیشہ اسٹیڈیم میں بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، نیدرلینڈز کے شائقین کی تعداد ان پر بازی لے گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/07/11100345a47fbc9.jpg'  alt='نیدرلینڈز کے شائقین نے اسٹیڈیم کی جانب مارچ کیا&amp;mdash;تصویر: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نیدرلینڈز کے شائقین نے اسٹیڈیم کی جانب مارچ کیا—تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 جون سے شروع ہونے والے یورو ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں کا فیصلہ ہوچکا ہے، اسپین اور انگلینڈ کے درمیان یورو 2024ء کا فائنل اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے جرمنی کے شہر برلن میں کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپیئن چیمپیئن شپ (یورو) 2024ء کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے نتیجے میں نیدرلینڈز کو 1-2 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار یورو کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔</p>
<p>جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے دونوں ٹیمیں مدمقابل آئیں تو ابتدائی 7 منٹ میں ہی نیدرلینڈز کے چاوی سیمنز نے گول باکس کے باہر سے شاندار گول اسکور کیا جس سے نیدرلینڈز کو 0-1 کی برتری حاصل ہوئی لیکن یہ برتری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔</p>
<p>14ویں منٹ میں موو بناتے ہوئے کپتان ہیری کین کو نیدرلینڈز کے ڈمفریس نے گرادیا جس کے بعد انگلینڈ کو پینلٹی کِک کا موقع ملا جس پر ہیری کین نے گول اسکور کیا۔</p>
<p>پہلے ہاف کے اختتام پر میچ 1-1 سے برابر تھا اور یہ اسکور میچ کے اختتامی لمحات تک قائم رہا۔</p>
<p>میچ کا ڈرامائی موڑ کوچ گیرتھ ساؤتھ گیٹ کی جانب سے 80 منٹ گزر جانے کے بعد کی جانے والی اہم تبدیلی ثابت ہوئی، انہوں نے فل فوڈن کے متبادل کے طور پر کول پالمر جبکہ کپتان ہیری کین کے متبادل کے طور پر اولی واٹکنس کو میدان میں اتارا۔</p>
<p>مقررہ وقت ختم ہونے اور اسکور برابر ہونے کی صورت میں لگ رہا تھا کہ اب ایکسٹرا ٹائم کھیلا جائے گا لیکن متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے واٹکنس نے 1+90 منٹ میں پالمر کے اسسٹ کی بدولت ایک شاندار گول اسکور کرکے انگلینڈ کو 1-2 سے فیصلہ کُن برتری دلوائی جس کے ساتھ ہی نیدرلینڈز کا یورو کا سفر تمام ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/SonyLIV/videos/500856725833704" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>نیدرلینڈز صرف ایک بار ہی کوئی بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر پائی ہے اور وہ 1988ء کا یورو کپ تھا جبکہ دوسری جانب انگلینڈ آج تک کوئی یورو ٹورنامنٹ جیت نہیں پائی اور اس نے ایک ہی بین الاقوامی اعزاز حاصل کیا ہے جوکہ 1966ء کا فٹبال ورلڈ کپ (جسے اس وقت جولس ریمٹ کہا جاتا تھا) ہے۔</p>
<p>آخری لمحات میں گول کی وجہ سے انگلینڈ کے اولی واٹکنس پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔</p>
<p>انگلینڈ نے مسلسل دوسری بار یورو کے فائنل میں رسائی حاصل کی، اس سے قبل 2020ء کے یورو کپ میں انگلینڈ سیمی فائنل میں ڈنمارک کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا تھا اور یہ وہی موقع تھا جب انگلش فٹبال شائقین کی جانب سے ’اِٹس کمنگ ہوم‘ کے نعرے لگائے گئے لیکن فائنل میں پینلٹی شوٹ آؤٹ میں انگلینڈ کو اٹلی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/07/11095720e3965b8.jpg'  alt='&mdash;تصویر: ایکس' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—تصویر: ایکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>رواں یورو کپ میں ایک اور بار اس نعرے کی گونج اس وقت سنائی دی کہ جب انگلینڈ نے پری کوارٹر فائنل میں سلوواکیہ کو شکست دی اور اب فائنل میں رسائی حاصل کرنے کے بعد انگلینڈ شائقین پُرامید ہیں کہ یہ کپ وہی جیتیں گے۔</p>
<p>میچ سے قبل نارنجی لباس میں ملبوس دسیوں ہزاروں کی تعداد میں ڈچ شائقین نے جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں اسٹیڈیم تک مارچ کیا جبکہ یہ پہلا موقع تھا کہ انگلینڈ جس کے شائقین ہمیشہ اسٹیڈیم میں بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، نیدرلینڈز کے شائقین کی تعداد ان پر بازی لے گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/07/11100345a47fbc9.jpg'  alt='نیدرلینڈز کے شائقین نے اسٹیڈیم کی جانب مارچ کیا&mdash;تصویر: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نیدرلینڈز کے شائقین نے اسٹیڈیم کی جانب مارچ کیا—تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>15 جون سے شروع ہونے والے یورو ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں کا فیصلہ ہوچکا ہے، اسپین اور انگلینڈ کے درمیان یورو 2024ء کا فائنل اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے جرمنی کے شہر برلن میں کھیلا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1237499</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jul 2024 10:22:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/11101043b37a3be.jpg?r=101603" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/11101043b37a3be.jpg?r=101603"/>
        <media:title>اولمر واٹکنس گول اسکور کرنے کے بعد، ان کے پیچھے نیدرلینڈز کے کپتان وین ڈائک ہیں—تصویر: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
