<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 23:39:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 23:39:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزادی مارچ کے تناظر میں درج مقدمے میں عمران خان، شیخ رشید و دیگر کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238157/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد و دیگر کی آزادی مارچ کے تناظر میں درج مقدمے میں  بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری نے  رشید احمد اور دیگر کیخلاف تھانہ آبپارہ میں آزادی مارچ کے تناظر میں درج مقدمے میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید احمد، زرتاج گل، عامر محمود کیانی، سیف اللہ خان، اسد عمر، علی نواز اعوان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، شفقت محمود، فیصل جاوید اور دیگر کو بری قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے ڈی چوک پر چڑھائی کر رہے تھے، ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کو روکا گیا تاہم انہوں نے پولیس پر حملہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1235423"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، گرین بیلٹ پر آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ 50، 70 افراد کے حملے سے پولیس کا کوئی اہلکار زخمی نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں عمران خان اور دیگر کارکنوں کو پرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسانے کا الزام ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی اور دیگر قائدین کے خلاف کارکنوں کو اکسانے کے شواہد و نتائج فراہم نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ اے ایس آئی افتخار احمد کے الزامات کو سچ نہیں مانا جا سکتا، استغاثہ کی جانب سے قائم مقدمے میں شکوک و شبہات کے باعث ٹرائل چلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں فرد جرم عائد کرکے ٹرائل چلایا بھی گیا، تب بھی ملزمان کو سزا ہونے کا کوئی امکان نہیں، ملزمان کی جانب سے دائر بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید احمد، زرتاج گل، عامر محمود کیانی، سیف اللہ خان، اسد عمر، علی نواز اعوان کو بری قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، شفقت محمود، فیصل جاوید اور دیگر کو بھی بری قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ مئی 2022 میں اسلام آباد میں اختتام پذیر ہونے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے تناظر میں ملک بھر میں پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دفعہ 144 سمیت دیگر سنگین خلاف ورزیوں پر درجنوں مقدمات درج کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں دارالحکومت کی پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرنے اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے پر کم از کم 3 مقدمات درج کیے تھے، الزامات میں میٹرو بس اسٹیشنز کو آگ لگانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد و دیگر کی آزادی مارچ کے تناظر میں درج مقدمے میں  بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔</p>
<p>جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری نے  رشید احمد اور دیگر کیخلاف تھانہ آبپارہ میں آزادی مارچ کے تناظر میں درج مقدمے میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید احمد، زرتاج گل، عامر محمود کیانی، سیف اللہ خان، اسد عمر، علی نواز اعوان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، شفقت محمود، فیصل جاوید اور دیگر کو بری قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے ڈی چوک پر چڑھائی کر رہے تھے، ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کو روکا گیا تاہم انہوں نے پولیس پر حملہ کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1235423"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، گرین بیلٹ پر آگ لگا دی۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ 50، 70 افراد کے حملے سے پولیس کا کوئی اہلکار زخمی نہ ہوا۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں عمران خان اور دیگر کارکنوں کو پرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسانے کا الزام ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی اور دیگر قائدین کے خلاف کارکنوں کو اکسانے کے شواہد و نتائج فراہم نہیں کیے گئے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ اے ایس آئی افتخار احمد کے الزامات کو سچ نہیں مانا جا سکتا، استغاثہ کی جانب سے قائم مقدمے میں شکوک و شبہات کے باعث ٹرائل چلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں فرد جرم عائد کرکے ٹرائل چلایا بھی گیا، تب بھی ملزمان کو سزا ہونے کا کوئی امکان نہیں، ملزمان کی جانب سے دائر بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید احمد، زرتاج گل، عامر محمود کیانی، سیف اللہ خان، اسد عمر، علی نواز اعوان کو بری قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، شفقت محمود، فیصل جاوید اور دیگر کو بھی بری قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ مئی 2022 میں اسلام آباد میں اختتام پذیر ہونے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے تناظر میں ملک بھر میں پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دفعہ 144 سمیت دیگر سنگین خلاف ورزیوں پر درجنوں مقدمات درج کیے تھے۔</p>
<p>جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں دارالحکومت کی پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرنے اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے پر کم از کم 3 مقدمات درج کیے تھے، الزامات میں میٹرو بس اسٹیشنز کو آگ لگانا بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238157</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jul 2024 14:47:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/2014450098ada3e.png?r=144532" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/2014450098ada3e.png?r=144532"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
