<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:52:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:52:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خاتون سے صبح 4 بجے ملاقات: ڈاکٹر نے دھوپ میں جانے سے منع کیا ہے، خلیل الرحمٰن قمر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238262/</link>
      <description>&lt;p&gt;خلیل الرحمٰن قمر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نے مجھے 5 سال سے دھوپ میں جانے سے منع کیا ہے، اس لیے رات بھر کام کرتا ہوں اور ہمارے کام میں جنس کی تفریق نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں  ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں جا کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ مسلح افراد پہنچ گئے اور ملزمان نے سب کچھ لوٹ کر اے ٹی ایم سے پیسے نکلوائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملزمان نے کہا کہ ہمیں حکم ہے کہ تمہیں مار دیں جبکہ ایک اور شخص نے کہا کہ تم بہت بڑے آدمی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ڈی آئی جی عمران کشور نے بتایا کہ ملزمان نے خلیل الرحمٰن قمر کو بلیک میل کیا اور ڈرایا کہ یہ واقعہ کسی کے علم میں نہیں آنا چاہیے اور پھر نامعلوم مقام پر ننکانہ کے قریب ان کو چھوڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  وہاں سے خلیل الرحمٰن واپس لاہور آئے، یہ واقعہ 15 جولائی کو ہوا اور 20 جولائی کو رپورٹ ہوا، اس کے بعد سی آئی اے کو ان حوالے سے ٹاسک دیا گیا، لڑکی کی کوئی انفارمیشن ہمارے پاس نہیں تھی، خلیل الرحمن کے موبائل کا سارا ڈیٹا ختم کردیا گیا تھا، ہم نے انفارمیشن نکالی اور پھر ملزمہ کو گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ  واقعے کی مختلف پہلوؤں سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے،  ملزمہ گوجرانوالہ کی رہائشی ہے،  ملزمان نے خلیل الرحمن قمر کو 2 گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1238223/"&gt;21 جولائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو لاہور میں معروف ڈراما رائٹر خلیل الرحمٰن قمر کو ڈراما بنانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر اغوا اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ تشدد کرنے والے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ایف آئی آر کے متن میں مدعی خلیل الرحمٰن نے موقف اپنایا کہ 15 جولائی کو رات 12 بجے مجھے نامعلوم نمبر سے کال آئی اور جب فون اٹھایا تو خاتون نے اپنا نام آمنہ عروج بتاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں اور آپ کے ساتھ ڈراما بنا چاہتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ خاتون نے مجھے بحریہ ٹاؤن کی لوکیشن بھیجی تو میں رات 4 بجکر 40 منٹ پر وہاں پہنچا، خاتون آمنہ نے مجھے وہاں بٹھایا اور دروازے پر دستک کی آواز سن کر خود یہ کہہ کر دروازہ کھولنے چلی گئیں کہ کوئی ڈیلیوری دینے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دروازہ کھلتے ہی جدید اسلحے سے لیس تقریباً سات کے قریب لوگ اندر داخل ہوئے جنہوں نے مجھے کھڑا کر کے تلاشی لینا شروع کردی، میرا پرس لے لیا جس میں 6ہزار روپے نقد اور اے ٹی ایم کارڈ تھے جبکہ میرا ڈیڑھ لاکھ روپے مالیت کا موبائل بھی چھین لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں معروف ڈراما رائٹر نے موقف اپنایا کہ ان افراد نے مجھے زدوکوب کیا اور مجھے اے ٹی ایم لے جا کر گن پوائنٹ پر پاس ورڈ پوچھا اور اس میں سے 2لاکھ 67ہزار روپے نکلوالیے اور کہا کہ تمہیں مارنے کا حکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے مجھ سے ایک کروڑ روپے کا تقاضا کیا اور جب میں نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں تو مجھے اغوا کر کے ایک فلیٹ پر لے گئے جہاں پر مزید 5 مسلح افراد کھڑے تھے جنہوں نے مجھے زبردستی گاڑی میں ڈالا اور گاڑی میں لے کر نکل پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رقم کے تقاضے پر میں نے ان سے کہا کہ میں کسی دوست یا رشتے دار سے رابطہ کر کے بندوبست کرتا ہوں، ایک دوست کو کال کر کے 10 لاکھ روپے مانگے لیکن اس نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میرے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں ہیں، پھر کچھ دیر گاڑی میں گھمانے کے بعد ایک ویران جگہ پر گاڑی سے دھکا دے کر فرار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ  ملزمہ ہائی پروفائل افراد کو جھانسہ دیکر رقم بٹورتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خلیل الرحمٰن قمر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نے مجھے 5 سال سے دھوپ میں جانے سے منع کیا ہے، اس لیے رات بھر کام کرتا ہوں اور ہمارے کام میں جنس کی تفریق نہیں ہوتی۔</p>
<p>لاہور میں  ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں جا کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ مسلح افراد پہنچ گئے اور ملزمان نے سب کچھ لوٹ کر اے ٹی ایم سے پیسے نکلوائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملزمان نے کہا کہ ہمیں حکم ہے کہ تمہیں مار دیں جبکہ ایک اور شخص نے کہا کہ تم بہت بڑے آدمی ہو۔</p>
<p>اس موقع پر ڈی آئی جی عمران کشور نے بتایا کہ ملزمان نے خلیل الرحمٰن قمر کو بلیک میل کیا اور ڈرایا کہ یہ واقعہ کسی کے علم میں نہیں آنا چاہیے اور پھر نامعلوم مقام پر ننکانہ کے قریب ان کو چھوڑ دیا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  وہاں سے خلیل الرحمٰن واپس لاہور آئے، یہ واقعہ 15 جولائی کو ہوا اور 20 جولائی کو رپورٹ ہوا، اس کے بعد سی آئی اے کو ان حوالے سے ٹاسک دیا گیا، لڑکی کی کوئی انفارمیشن ہمارے پاس نہیں تھی، خلیل الرحمن کے موبائل کا سارا ڈیٹا ختم کردیا گیا تھا، ہم نے انفارمیشن نکالی اور پھر ملزمہ کو گرفتار کیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ  واقعے کی مختلف پہلوؤں سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے،  ملزمہ گوجرانوالہ کی رہائشی ہے،  ملزمان نے خلیل الرحمن قمر کو 2 گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1238223/">21 جولائی</a></strong> کو لاہور میں معروف ڈراما رائٹر خلیل الرحمٰن قمر کو ڈراما بنانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر اغوا اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ تشدد کرنے والے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واقعے کی ایف آئی آر کے متن میں مدعی خلیل الرحمٰن نے موقف اپنایا کہ 15 جولائی کو رات 12 بجے مجھے نامعلوم نمبر سے کال آئی اور جب فون اٹھایا تو خاتون نے اپنا نام آمنہ عروج بتاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں اور آپ کے ساتھ ڈراما بنا چاہتی ہوں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ خاتون نے مجھے بحریہ ٹاؤن کی لوکیشن بھیجی تو میں رات 4 بجکر 40 منٹ پر وہاں پہنچا، خاتون آمنہ نے مجھے وہاں بٹھایا اور دروازے پر دستک کی آواز سن کر خود یہ کہہ کر دروازہ کھولنے چلی گئیں کہ کوئی ڈیلیوری دینے آیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دروازہ کھلتے ہی جدید اسلحے سے لیس تقریباً سات کے قریب لوگ اندر داخل ہوئے جنہوں نے مجھے کھڑا کر کے تلاشی لینا شروع کردی، میرا پرس لے لیا جس میں 6ہزار روپے نقد اور اے ٹی ایم کارڈ تھے جبکہ میرا ڈیڑھ لاکھ روپے مالیت کا موبائل بھی چھین لیا۔</p>
<p>ایف آئی آر میں معروف ڈراما رائٹر نے موقف اپنایا کہ ان افراد نے مجھے زدوکوب کیا اور مجھے اے ٹی ایم لے جا کر گن پوائنٹ پر پاس ورڈ پوچھا اور اس میں سے 2لاکھ 67ہزار روپے نکلوالیے اور کہا کہ تمہیں مارنے کا حکم ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے مجھ سے ایک کروڑ روپے کا تقاضا کیا اور جب میں نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں تو مجھے اغوا کر کے ایک فلیٹ پر لے گئے جہاں پر مزید 5 مسلح افراد کھڑے تھے جنہوں نے مجھے زبردستی گاڑی میں ڈالا اور گاڑی میں لے کر نکل پڑے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رقم کے تقاضے پر میں نے ان سے کہا کہ میں کسی دوست یا رشتے دار سے رابطہ کر کے بندوبست کرتا ہوں، ایک دوست کو کال کر کے 10 لاکھ روپے مانگے لیکن اس نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میرے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں ہیں، پھر کچھ دیر گاڑی میں گھمانے کے بعد ایک ویران جگہ پر گاڑی سے دھکا دے کر فرار ہو گئے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ  ملزمہ ہائی پروفائل افراد کو جھانسہ دیکر رقم بٹورتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238262</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jul 2024 21:29:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/221434007f8b0da.png?r=143415" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/221434007f8b0da.png?r=143415"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
