<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 01:14:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 01:14:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرفتار پی ٹی آئی کارکنان کی بازیابی کی درخواست:’بغیر گرفتاری حبسِ بے جا میں رکھنے کے معاملے پر فیصلہ دوں گا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238370/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹریٹ پر چھاپے کے دوران گرفتار کارکنوں، خواتین اور ملازمین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے مناسب حکم نامہ جاری کرنے کا عندیہ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پر چھاپے کے دوران گرفتار کارکنوں،خواتین اور ملازمین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ گرفتار ہیں، کچھ رہتے ہیں، 2 خواتین اور 9 مرد گرفتار ہیں، 6 خواتین کو ذاتی مچلکوں پر چھوڑا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے وکیل علی بخاری سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کن کو اٹھایا گیا اور کسے چھوڑا گیا، علی بخاری نے بتایا کہ جن کو چھوڑا صبح کہیں چھوڑا ہے، دو خواتین اب تک لاپتا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت اس طرح کسی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کسی ثبوت کے بغیر کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں؟ پی ٹی آئی سیکریٹریٹ میں بیٹھے تمام لوگوں کو گرفتار کیا جانا لازم تھا؟ سیکریٹریٹ کے باہر کوئی شخص کسی کا انتظار کر رہا ہوتا تو اسے بھی گرفتار کر لیتے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید سوالات اٹھائے کہ کیا تمام 32 لوگوں کی گرفتاری ڈالی گئی تھی؟ میں اپنی عدالت کے دروازے بند کر دوں اور کسی آرڈر کے بغیر آپ کو باہر نہ جانے دوں تو یہ اغوا نہیں ہے؟ جن 21 لوگوں کو دس گھنٹے رکھ کر چھوڑ دیا گیا ان کا اسٹیٹس کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے نے کہا کہ لوگوں کے موبائل ہمارے پاس ہیں واپس کر دیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیےکیا ایف آئی اے کے پاس کوئی وکیل ہے؟ مشورہ کرتے ہیں؟ مشورہ لیا تھا؟ اگر وکیل نے مشورہ دیا ہو تو میں اس کا لائسنس تو منسوخ کروں نا، جن لوگوں کی جو چیزیں ہیں واپس کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ پولیس اسٹیٹ بن گئی ہے، بغیر گرفتاری حبسِ بے جا میں رکھنے کے معاملے پر فیصلہ دوں گا، اس پر مناسب حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹریٹ پر چھاپہ مارا تھا اور سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن اور متعدد کارکنان کو گرفتار کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پولیس پی ٹی آئی سیکریٹریٹ سےکمپیوٹر اور دیگر سامان ساتھ لے گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹریٹ پر چھاپے کے دوران گرفتار کارکنوں، خواتین اور ملازمین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے مناسب حکم نامہ جاری کرنے کا عندیہ دے دیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پر چھاپے کے دوران گرفتار کارکنوں،خواتین اور ملازمین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔</p>
<p>دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ گرفتار ہیں، کچھ رہتے ہیں، 2 خواتین اور 9 مرد گرفتار ہیں، 6 خواتین کو ذاتی مچلکوں پر چھوڑا گیا ہے۔</p>
<p>عدالت نے وکیل علی بخاری سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کن کو اٹھایا گیا اور کسے چھوڑا گیا، علی بخاری نے بتایا کہ جن کو چھوڑا صبح کہیں چھوڑا ہے، دو خواتین اب تک لاپتا ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت اس طرح کسی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کسی ثبوت کے بغیر کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں؟ پی ٹی آئی سیکریٹریٹ میں بیٹھے تمام لوگوں کو گرفتار کیا جانا لازم تھا؟ سیکریٹریٹ کے باہر کوئی شخص کسی کا انتظار کر رہا ہوتا تو اسے بھی گرفتار کر لیتے؟</p>
<p>انہوں نے مزید سوالات اٹھائے کہ کیا تمام 32 لوگوں کی گرفتاری ڈالی گئی تھی؟ میں اپنی عدالت کے دروازے بند کر دوں اور کسی آرڈر کے بغیر آپ کو باہر نہ جانے دوں تو یہ اغوا نہیں ہے؟ جن 21 لوگوں کو دس گھنٹے رکھ کر چھوڑ دیا گیا ان کا اسٹیٹس کیا ہوگا؟</p>
<p>ایف آئی اے نے کہا کہ لوگوں کے موبائل ہمارے پاس ہیں واپس کر دیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیےکیا ایف آئی اے کے پاس کوئی وکیل ہے؟ مشورہ کرتے ہیں؟ مشورہ لیا تھا؟ اگر وکیل نے مشورہ دیا ہو تو میں اس کا لائسنس تو منسوخ کروں نا، جن لوگوں کی جو چیزیں ہیں واپس کر دیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ پولیس اسٹیٹ بن گئی ہے، بغیر گرفتاری حبسِ بے جا میں رکھنے کے معاملے پر فیصلہ دوں گا، اس پر مناسب حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹریٹ پر چھاپہ مارا تھا اور سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن اور متعدد کارکنان کو گرفتار کرلیا تھا۔</p>
<p>پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پولیس پی ٹی آئی سیکریٹریٹ سےکمپیوٹر اور دیگر سامان ساتھ لے گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238370</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jul 2024 20:44:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/232005589e88fb5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/232005589e88fb5.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
