<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 15:23:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 15:23:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: ٹی وی کے بعد ریڈیو فیس بھی لگانے کی تجویز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238518/</link>
      <description>&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں ٹی وی فیس کے بعد ریڈیو پاکستان کا خسارہ کم کرنے کیلئے بھی فیس رکھنے کی تجویز دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ریڈیو پاکستان  احمد سعید نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ ‏ریڈیو پاکستان کا خسارہ 2 ارب سے بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریڈیو پاکستان کا خسارہ کم کرنے  کے لیے فیس رکھنے کی تجویز دی، ان کی جانب سے موٹر ویز کے خارجی پوائنٹس پر فی گاڑی 5 روپے ریڈیو فیس رکھنے کی تجویز دی گئی جب کہ قائمہ کمیٹی نے ڈی جی ریڈیو کی تجاویز کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) بھی صارفین کے بجلی کے بلوں میں ٹی وی لائسنس  فیس وصول کرتا ہے اور اس نے اپنے ایک  &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119207"&gt;بیان میں کہا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; تھا کہ دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومت سپورٹ کرتی ہے تا کہ ان کے قومی بیانیے کی ترویج کی جائے اور اس وقت جو رقم وصول کی جارہی ہے وہ بہت معمولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومتیں ٹی وی لائسنس فیس کے ذریعے مدد کرتی ہیں تا کہ قومی بیانیے اور قومی ترقی، امن، سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے ضروری تعلیمی اور معلوماتی غیر تجارتی مواد کی ترویج کرسکیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ترکی جیسے ممالک ہر ماہ ٹی وی لائسنس فیس لیتے ہیں تا کہ بی بی سی، فرانس ٹی وی، ڈی ڈبلیو اور ٹی آر ٹی کو فنڈز دیے جائیں، اسی بین الاقوامی ماڈل پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی حکومت ہر ماہ صرف 35 روپے ٹی وی لائسنس فیس لیتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں ٹی وی فیس کے بعد ریڈیو پاکستان کا خسارہ کم کرنے کیلئے بھی فیس رکھنے کی تجویز دے دی گئی۔</p>
<p>ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ریڈیو پاکستان  احمد سعید نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ ‏ریڈیو پاکستان کا خسارہ 2 ارب سے بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ریڈیو پاکستان کا خسارہ کم کرنے  کے لیے فیس رکھنے کی تجویز دی، ان کی جانب سے موٹر ویز کے خارجی پوائنٹس پر فی گاڑی 5 روپے ریڈیو فیس رکھنے کی تجویز دی گئی جب کہ قائمہ کمیٹی نے ڈی جی ریڈیو کی تجاویز کو سراہا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) بھی صارفین کے بجلی کے بلوں میں ٹی وی لائسنس  فیس وصول کرتا ہے اور اس نے اپنے ایک  <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119207">بیان میں کہا</a></strong> تھا کہ دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومت سپورٹ کرتی ہے تا کہ ان کے قومی بیانیے کی ترویج کی جائے اور اس وقت جو رقم وصول کی جارہی ہے وہ بہت معمولی ہے۔</p>
<p>پی ٹی وی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومتیں ٹی وی لائسنس فیس کے ذریعے مدد کرتی ہیں تا کہ قومی بیانیے اور قومی ترقی، امن، سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے ضروری تعلیمی اور معلوماتی غیر تجارتی مواد کی ترویج کرسکیں‘۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ترکی جیسے ممالک ہر ماہ ٹی وی لائسنس فیس لیتے ہیں تا کہ بی بی سی، فرانس ٹی وی، ڈی ڈبلیو اور ٹی آر ٹی کو فنڈز دیے جائیں، اسی بین الاقوامی ماڈل پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی حکومت ہر ماہ صرف 35 روپے ٹی وی لائسنس فیس لیتی ہے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238518</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jul 2024 15:32:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/2515265837c63a6.jpg?r=152707" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/2515265837c63a6.jpg?r=152707"/>
        <media:title>—فائل فوٹو:ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
