<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 19:32:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 19:32:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 39 ارکان اسمبلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238534/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن  آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی)کے 39 ارکان قومی اسمبلی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کا رکن قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان  کے نام اپنی ویب سائٹ پر شائع کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن  کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کے جن 39 ارکان قومی اسمبلی کو تحریک انصاف کا رکن قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے انہوں نے ایس آئی سی کے سرٹیفیکیٹ سے قبل پی ٹی آئی کا ٹکٹ کمیشن میں جمع کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، قومی اسمبلی  میں پی ٹی آئی کے سابق چیف وہپ عامر ڈوگر اور شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی سمیت 39اراکین قومی اسمبلی کے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے علاوہ شاندانہ گلزار، زرتاج گل، جنید اکبر، شہرام خان، عاطف خان اور لطیف کھوسہ کے نوٹیفیکیشن بھی الیکشن کمیشن نے جاری کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://%20https://www.dawnnews.tv/news/1237585/"&gt;12 جولائی کو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی فل بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا تھا، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14مارچ کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ  کے فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست شامل تھی، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان میں امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی، انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی، خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی، اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل کو بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے علی محمد خان، شہریارآفریدی ،انیقہ مہدی، احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز، عمیر خان نیازی، ثنا اللہ خان مستی خیل کو آزاد ارکان قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن  آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی)کے 39 ارکان قومی اسمبلی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کا رکن قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان  کے نام اپنی ویب سائٹ پر شائع کردیے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن  کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کے جن 39 ارکان قومی اسمبلی کو تحریک انصاف کا رکن قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے انہوں نے ایس آئی سی کے سرٹیفیکیٹ سے قبل پی ٹی آئی کا ٹکٹ کمیشن میں جمع کروایا تھا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، قومی اسمبلی  میں پی ٹی آئی کے سابق چیف وہپ عامر ڈوگر اور شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی سمیت 39اراکین قومی اسمبلی کے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں۔</p>
<p>ان کے علاوہ شاندانہ گلزار، زرتاج گل، جنید اکبر، شہرام خان، عاطف خان اور لطیف کھوسہ کے نوٹیفیکیشن بھی الیکشن کمیشن نے جاری کردیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://%20https://www.dawnnews.tv/news/1237585/">12 جولائی کو</a></strong> سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔</p>
<p>چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی فل بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا تھا، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھا گیا تھا۔</p>
<p>جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ تھے۔</p>
<p>14مارچ کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔</p>
<p>سپریم کورٹ  کے فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست شامل تھی، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان میں امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی، انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار شامل ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی، خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی، اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل کو بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیا تھا۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے علی محمد خان، شہریارآفریدی ،انیقہ مہدی، احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز، عمیر خان نیازی، ثنا اللہ خان مستی خیل کو آزاد ارکان قرار دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238534</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jul 2024 17:48:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/25174149180e438.png?r=174204" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/25174149180e438.png?r=174204"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
