<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 07:05:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 07:05:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسی کو عدالتی فیصلے کے حوالے سے قتل کا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں، وزیر قانون</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238798/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ  کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی قتل کا فتویٰ یا جان کا فتویٰ جاری کرے، ریاست کے اندر ریاست بنانے اور فتوے جاری کرنے کی روایت کی ہم سب کو مل کر مذمت کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اس معاملے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے بعد ملک میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور پاکستان کا سماجی چہرہ بہت حد تک تبدیل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک بڑا چیلنج دہشت گردی کے حوالے سے آیا، اس کے ساتھ ہی سماجی اور مذہبی حوالے سے عدم برداشت کے رویے آئےہمارے درمیان، انہوں نے ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے اور فتوے جاری کرنے کی روایت کی ہم سب کو مل کر مذمت کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اس معاملے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کے حوالے سے جو خبریں سامنے آئیں کہ ایک گروہ نے اپنا قانون مسلط کرنے کی کوشش کی اور فتویٰ جاری کیا ہے، وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکلہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہے، اس پر مقدمہ درج ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ اس حوالے سے جلد آپ کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے، اور  اس معاملے میں گرفتاریاں بھی ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس پر ریاست کی زیرو ٹالیرنس ہوں گی، اس لیے کہ ہر چیز کی ایک حد ہے، ریاست انسانی حقوق یا اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں کسی کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ  اس کے منہ میں جو آئے، وہ کہہ دے، جہاں پر قانون کی حد عبور ہوگی، اس کی خلاف ورزی ہوگی، جرم کا ارتکاب ہوگا یا جرم کا ارتکاب کرنے کی دھمکی یا کوشش ہوگی، ریاست اسے اپنی طاقت سے مسترد کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے لیکن ہمارے دین ہی ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ کون سے کام ریاست کے کرنے والے ہیں اور کون سے کام افراد کے کرنے والے ہیں،  ہمیں اس سبق کو نہیں بھولنا چاہیے، کسی کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ریاستی امور اپنے ہاتھ میں لے یا کسی کی جان و مال کے بارے میں فتوی جاری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238778"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں اپنے نصاب میں بھی اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم وہ نسل تیار کریں جو اس ملک کو واپس امن و آتشی کی ڈگر پر لے کر آئے اور ہمیں ان بدعتوں اور تفرقات سے نکالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر پاکستان کی حفاظت حکومت اور ریاست کی ذمے داری ہے،  قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے والا کوئی شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور نہ کرے، اس طرح کے حساس معاملات پر بات کرنا بہت جرات مندانہ بات ہوتی ہے، لیکن ہمیں اس خاموشی کو توڑنا ہے اور اب یہ بات سے آگے نکل کر عمل تک آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان بڑے نیک نام جج ہیں، وہ بہت  اصول پسند جج ہیں،  وہ پاکستانی آئین، قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے دیتے ہیں، ہم توقع رکھتے ہیں کہ تمام جج صاحبان کے فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہوں گے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی قتل کا فتویٰ یا جان کا فتویٰ جاری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ  اس پر حکومت اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہے، ہم صوبائی حکومتوں سے بھی رابطے میں ہیں، میں سمجتا ہوں کہ یہ ایک پوری مہم ہے جسے ہمیں روکنا ہے، اس تکلیف دہ، اس تفرقے سے، اس مصیبت سے ملک کو نکالنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اعظم نذیر تارڑ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل ہی چیف جسٹس کو دھمکی دینے کے معاملے پر پولیس نے نائب امیر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ظہیر الحسن شاہ کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ ظہیر الحسن شاہ کو اوکاڑہ سے گرفتار کیا گیا، وہ شہر میں نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے تھے، ان کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے پر لاہور کے تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، مذہبی منافرت، فساد پھیلانے، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے، اعلی عدلیہ کو دھمکی،کار سرکار میں مداخلت اور قانونی فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پریس کلب کے باہر احتجاج سے پیر ظہیر الحسن نے اعلی عدلیہ کے خلاف نفرت پھیلائی، ٹی ایل پی کے نائب امیرسمیت 1500 کارکن پر مقدمہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) حماد حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس معاملے پر آج وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں مذہب کے نام پر خون خرابے کی کوشش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں وضاحت کر چکی ہے مگر جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا بدستور جاری ہے، ہم کابینہ کی جانب سے سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر خدا نخواستہ ریاست نے یہ کھلی چھوٹ دی تو ریاست کا شیرازہ بکھر جائے گا، سوشل میڈیا میں عوام کو قتل پر اکسانے کی کوشش کی جارہی ہے اور انتہا پسندانہ پوسٹس سوشل میڈیا پر لگائی جارہی ہے، آپ ﷺ پر ہمارا ایمان ہے کہ وہ رحمت اللعالمین ہیں اور وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے اور یہ رحمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا جب تک کائنات قائم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ  کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی قتل کا فتویٰ یا جان کا فتویٰ جاری کرے، ریاست کے اندر ریاست بنانے اور فتوے جاری کرنے کی روایت کی ہم سب کو مل کر مذمت کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اس معاملے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔</p>
<p>اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے بعد ملک میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور پاکستان کا سماجی چہرہ بہت حد تک تبدیل ہوگیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک بڑا چیلنج دہشت گردی کے حوالے سے آیا، اس کے ساتھ ہی سماجی اور مذہبی حوالے سے عدم برداشت کے رویے آئےہمارے درمیان، انہوں نے ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے اور فتوے جاری کرنے کی روایت کی ہم سب کو مل کر مذمت کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اس معاملے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کے حوالے سے جو خبریں سامنے آئیں کہ ایک گروہ نے اپنا قانون مسلط کرنے کی کوشش کی اور فتویٰ جاری کیا ہے، وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکلہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہے، اس پر مقدمہ درج ہوچکا ہے۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ اس حوالے سے جلد آپ کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے، اور  اس معاملے میں گرفتاریاں بھی ہوں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس پر ریاست کی زیرو ٹالیرنس ہوں گی، اس لیے کہ ہر چیز کی ایک حد ہے، ریاست انسانی حقوق یا اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں کسی کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ  اس کے منہ میں جو آئے، وہ کہہ دے، جہاں پر قانون کی حد عبور ہوگی، اس کی خلاف ورزی ہوگی، جرم کا ارتکاب ہوگا یا جرم کا ارتکاب کرنے کی دھمکی یا کوشش ہوگی، ریاست اسے اپنی طاقت سے مسترد کرے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے لیکن ہمارے دین ہی ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ کون سے کام ریاست کے کرنے والے ہیں اور کون سے کام افراد کے کرنے والے ہیں،  ہمیں اس سبق کو نہیں بھولنا چاہیے، کسی کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ریاستی امور اپنے ہاتھ میں لے یا کسی کی جان و مال کے بارے میں فتوی جاری کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238778"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں اپنے نصاب میں بھی اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم وہ نسل تیار کریں جو اس ملک کو واپس امن و آتشی کی ڈگر پر لے کر آئے اور ہمیں ان بدعتوں اور تفرقات سے نکالے۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر پاکستان کی حفاظت حکومت اور ریاست کی ذمے داری ہے،  قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے والا کوئی شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور نہ کرے، اس طرح کے حساس معاملات پر بات کرنا بہت جرات مندانہ بات ہوتی ہے، لیکن ہمیں اس خاموشی کو توڑنا ہے اور اب یہ بات سے آگے نکل کر عمل تک آچکی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان بڑے نیک نام جج ہیں، وہ بہت  اصول پسند جج ہیں،  وہ پاکستانی آئین، قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے دیتے ہیں، ہم توقع رکھتے ہیں کہ تمام جج صاحبان کے فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہوں گے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی قتل کا فتویٰ یا جان کا فتویٰ جاری کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ  اس پر حکومت اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہے، ہم صوبائی حکومتوں سے بھی رابطے میں ہیں، میں سمجتا ہوں کہ یہ ایک پوری مہم ہے جسے ہمیں روکنا ہے، اس تکلیف دہ، اس تفرقے سے، اس مصیبت سے ملک کو نکالنا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اعظم نذیر تارڑ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل ہی چیف جسٹس کو دھمکی دینے کے معاملے پر پولیس نے نائب امیر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ظہیر الحسن شاہ کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ ظہیر الحسن شاہ کو اوکاڑہ سے گرفتار کیا گیا، وہ شہر میں نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے تھے، ان کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے پر لاہور کے تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، مذہبی منافرت، فساد پھیلانے، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے، اعلی عدلیہ کو دھمکی،کار سرکار میں مداخلت اور قانونی فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔</p>
<p>ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پریس کلب کے باہر احتجاج سے پیر ظہیر الحسن نے اعلی عدلیہ کے خلاف نفرت پھیلائی، ٹی ایل پی کے نائب امیرسمیت 1500 کارکن پر مقدمہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) حماد حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اس معاملے پر آج وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں مذہب کے نام پر خون خرابے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں وضاحت کر چکی ہے مگر جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا بدستور جاری ہے، ہم کابینہ کی جانب سے سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر خدا نخواستہ ریاست نے یہ کھلی چھوٹ دی تو ریاست کا شیرازہ بکھر جائے گا، سوشل میڈیا میں عوام کو قتل پر اکسانے کی کوشش کی جارہی ہے اور انتہا پسندانہ پوسٹس سوشل میڈیا پر لگائی جارہی ہے، آپ ﷺ پر ہمارا ایمان ہے کہ وہ رحمت اللعالمین ہیں اور وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے اور یہ رحمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا جب تک کائنات قائم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238798</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2024 17:17:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/29165551c2f72bc.png?r=165702" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/29165551c2f72bc.png?r=165702"/>
        <media:title>فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
