<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 10:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک اور پاکستانی خاتون کوہ پیما نے کے ٹو چوٹی سرکرلی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238846/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستانی کی ایک اور خاتون نے دنیا کی دوسری بلند چوٹی کو سر کرلیا، سلطانہ بی بی کے ٹو سر کرنے والی تیسری پاکستانی خاتون ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وادی ہنزہ کے گاؤں شمشال سے تعلق رکھنے والی سلطانہ بی بی نے پیر کی صبح 8 ہزار 611  میٹر بلند چوٹی کو سر کیا،  جس کے بعد وہ کے ٹو کو سر کرنے والی تیسری پاکستانی خاتون بن گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلطانہ بی بی سے قبل ثمینہ بیگ اور نائلہ کیانی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1838537"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی خواتین کی ٹیم اگلے ماہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی کوشش کریں گے، اس ٹیم کے ارکان نے سدپارہ کوہ پیماہ اسکول میں اپنی ایک ہفتہ کی تربیت مکمل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظمین کے مطابق خواتین کی 6 رکنی ٹیم میں لاہور سے انعم عزیر، شمشال سے شمع باقر اور بی بی سلطانہ، ہنزہ کے گلمت سے افزوم اور گھانچے سے دو بہنیں صدیقہ حنیف اور آمنہ حنیف شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/07/301137081387486.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ٹو کے لیے خواتین کی پہلی مہم کا اہتمام فورس کمانڈ آف ناردرن ایریاز (ایف سی این اے) نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف سی این اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی موجود یہ چوٹیاں نوجوان خواتین ایتھلیٹس کے لیے کوہ پیمائی میں بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان باصلاحیت ایتھلیٹس کو محدود وسائل کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،  جو ان کی صلاحیت کو مکمل طور پر ظاہر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں، تاہم اس معاملے میں ایف سی این اے ان کی معاونت کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستانی کی ایک اور خاتون نے دنیا کی دوسری بلند چوٹی کو سر کرلیا، سلطانہ بی بی کے ٹو سر کرنے والی تیسری پاکستانی خاتون ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وادی ہنزہ کے گاؤں شمشال سے تعلق رکھنے والی سلطانہ بی بی نے پیر کی صبح 8 ہزار 611  میٹر بلند چوٹی کو سر کیا،  جس کے بعد وہ کے ٹو کو سر کرنے والی تیسری پاکستانی خاتون بن گئیں۔</p>
<p>سلطانہ بی بی سے قبل ثمینہ بیگ اور نائلہ کیانی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرچکی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1838537">رپورٹ</a></strong> میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی خواتین کی ٹیم اگلے ماہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی کوشش کریں گے، اس ٹیم کے ارکان نے سدپارہ کوہ پیماہ اسکول میں اپنی ایک ہفتہ کی تربیت مکمل کی۔</p>
<p>منتظمین کے مطابق خواتین کی 6 رکنی ٹیم میں لاہور سے انعم عزیر، شمشال سے شمع باقر اور بی بی سلطانہ، ہنزہ کے گلمت سے افزوم اور گھانچے سے دو بہنیں صدیقہ حنیف اور آمنہ حنیف شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/07/301137081387486.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کے ٹو کے لیے خواتین کی پہلی مہم کا اہتمام فورس کمانڈ آف ناردرن ایریاز (ایف سی این اے) نے کیا۔</p>
<p>ایف سی این اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی موجود یہ چوٹیاں نوجوان خواتین ایتھلیٹس کے لیے کوہ پیمائی میں بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>تاہم، ان باصلاحیت ایتھلیٹس کو محدود وسائل کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،  جو ان کی صلاحیت کو مکمل طور پر ظاہر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں، تاہم اس معاملے میں ایف سی این اے ان کی معاونت کررہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238846</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jul 2024 11:37:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/30113705e614602.jpg?r=113749" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/30113705e614602.jpg?r=113749"/>
        <media:title>فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
