<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 23 May 2026 20:36:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 23 May 2026 20:36:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بیپ پاکستان‘ کا واٹس ایپ سے موازنہ نہ کیا جائے، حکومت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1238987/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ جلد ہی متعارف کرائی جانے والی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن  ’بیپ پاکستان‘ کا واٹس ایپ سے موازنہ نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بیپ پاکستان‘ کو نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) نے بنایا تھا اور اگست 2023 میں اس وقت کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے اس کی آزمائش کا افتتاح کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال سے مذکورہ ایپلی کیشن وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سرکاری افسران اور ماہرین کے استعمال میں ہے اور تاحال اس پر آزمائش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور واٹس ایپ چلانے میں مشکلات کی شکایات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ حکومت واٹس ایپ کے متبادل کے طو پر بیپ پاکستان نامی ایپلی کیشن متعارف کرانے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209257"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کا عوامی متبادل نہیں البتہ اسے حکومتی سطح پر واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے عرب نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2024/7/30/pakistan-to-launch-home-grown-messaging-app-amid-internet-disruptions"&gt;&lt;strong&gt;الجزیرہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ بیپ پاکستان کو واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر سمجھنا یا اس سے موازنہ کرنا غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ بیپ پاکستان کو تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن کے متبادل کے طور پر متعارف کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت کے مطابق بیپ پاکستان کی تاحال وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آزمائش جاری ہے، دوسرے مرحلے میں اس کی آزمائش مزید وفاقی وزارتوں تک بڑھائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے بتایا کہ بیپ پاکستان کو سرکاری انسٹنٹ ایپلی کیشن کے طور پر متعارف کرایا جائے گا، حکومت اپنی پرائیویسی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی، اس لیے مذکورہ ایپ کو حکومتی امور کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیپ پاکستان مقبول ایپ واٹس ایپ کی طرح ہی کام کرے گی اور اس کے سروس اور تمام ڈیٹا حکومت پاکستان کی دسترس میں ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت پاکستان نے حال ہی میں وزارتوں اور اداروں میں الیکٹرانک اور ای سسٹم نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے تاکہ وقت اور کاغذ پر پیسوں کے اخراجات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ جلد ہی متعارف کرائی جانے والی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن  ’بیپ پاکستان‘ کا واٹس ایپ سے موازنہ نہ کیا جائے۔</p>
<p>’بیپ پاکستان‘ کو نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) نے بنایا تھا اور اگست 2023 میں اس وقت کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے اس کی آزمائش کا افتتاح کیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال سے مذکورہ ایپلی کیشن وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سرکاری افسران اور ماہرین کے استعمال میں ہے اور تاحال اس پر آزمائش جاری ہے۔</p>
<p>حال ہی میں ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور واٹس ایپ چلانے میں مشکلات کی شکایات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ حکومت واٹس ایپ کے متبادل کے طو پر بیپ پاکستان نامی ایپلی کیشن متعارف کرانے جا رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209257"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم اب وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کا عوامی متبادل نہیں البتہ اسے حکومتی سطح پر واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے عرب نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2024/7/30/pakistan-to-launch-home-grown-messaging-app-amid-internet-disruptions"><strong>الجزیرہ</strong></a> سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ بیپ پاکستان کو واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر سمجھنا یا اس سے موازنہ کرنا غلط ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ بیپ پاکستان کو تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن کے متبادل کے طور پر متعارف کرائے۔</p>
<p>وزیر مملکت کے مطابق بیپ پاکستان کی تاحال وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آزمائش جاری ہے، دوسرے مرحلے میں اس کی آزمائش مزید وفاقی وزارتوں تک بڑھائی جائے گی۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے بتایا کہ بیپ پاکستان کو سرکاری انسٹنٹ ایپلی کیشن کے طور پر متعارف کرایا جائے گا، حکومت اپنی پرائیویسی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی، اس لیے مذکورہ ایپ کو حکومتی امور کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>بیپ پاکستان مقبول ایپ واٹس ایپ کی طرح ہی کام کرے گی اور اس کے سروس اور تمام ڈیٹا حکومت پاکستان کی دسترس میں ہی ہوگا۔</p>
<p>حکومت پاکستان نے حال ہی میں وزارتوں اور اداروں میں الیکٹرانک اور ای سسٹم نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے تاکہ وقت اور کاغذ پر پیسوں کے اخراجات سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1238987</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Jul 2024 23:11:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/07/312039336bccb08.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/07/312039336bccb08.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: پی ٹی اے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
