<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:52:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:52:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک حساس معلومات چین بھیجتا ہے، امریکی حکومت کا عدالت میں جواب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1239211/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی حکومت نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف دائر عدالتی کیس میں اپنے دستاویزات جمع کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹک ٹاک حساس موضوعات پر صارفین کی معلومات چین بھیجتا ہے اور ممکنہ طور پر مذکورہ معلومات تک چینی حکام کی رسائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-bytedance-censorship-us-data-240e11d9bb6212b0c9b1adab821e5005#"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی جانب سے اپریل میں دائر کردہ درخواست پر اپنا تحریری جواب جمع کرادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں امریکی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹک ٹاک، مذہب، فائرنگ کے واقعات، اسقاط حمل اور متنازع جنسی رجحانات جیسا کہ ہم جنس پرستی جیسے موضوعات پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر معلومات حاصل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228463"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک مذکورہ معلومات اپنے سرورز کو بھیجتا ہے، جس پر اس کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے ملازمین کو بھی رسائی حاصل ہے اور خدشہ ہے کہ مذکورہ معلومات تک چینی حکام کی بھی رسائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے اپنے تحریری جواب میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ٹک ٹاک چینی حکومت کے مطالبے پر ہی دوسرے ممالک میں مواد پر پابندیاں بھی لگاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کے تحریری جواب میں خفیہ ایجنسیوں کی رائے بھی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق ٹک ٹاک بڑے پیمانے پر چینی حکومت کے ساتھ معاونت کرکے جمہوریت کے منافی اقدام بھی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ٹک ٹاک نے جون میں 100 صفحات پر مشتمل اپنی قانونی اپیل بھی اسی عدالت میں جمع کروائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے ٹک ٹاک پر قومی سلامتی کے خطرے کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ صارفین کے حقوق پر ڈاکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی عدالت میں ٹک ٹاک نے اپریل 2024 میں اپنی ممکنہ پابندی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازں جون میں ٹک ٹاک نے مذکورہ عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا اور اب امریکی حکومت نے بھی جواب جمع کروادیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی عدالتی قوانین کے تحت جب بھی دو فریقین میں ٹرائل ہوتا ہے، وہاں پہلے دونوں فریقین کو قانونی اپیلیں، دستاویزات اور ایک دوسرے کے الزامات کے دلائل تحریری طور پر پہلے ہی جمع کروانے پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دونوں فریقین 15 اگست تک ایک دوسرکے کے خلاف اپنے تحریری دلائل عدالت میں جمع کرائیں گے، جس کے بعد ستمبر میں مذکورہ ٹرائل کا آغاز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h6&gt;امریکی حکومت اور ٹک ٹاک کی جنگ&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف امریکا کے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس نے 20 اپریل جب کہ سینیٹ نے 24 اپریل کو بل منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ایوانوں سے بل کے منظور ہونے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 25 اپریل کو بل پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد وہ قانون بن گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے تحت ٹک ٹاک کو آئندہ 9 ماہ یعنی جنوری 2025 تک کسی امریکی شخص یا امریکی کمپنی کو فروخت کیا جانا لازمی ہوگا، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے تحت امریکی صدر چاہیں تو ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی مدت میں 9 ماہ کے بعد مزید تین ماہ کا اضافہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کے قانون کے بعد ٹک ٹاک نے گزشتہ ہفتے 7 مئی کو امریکی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 14 جولائی کو امریکی ٹک ٹاک صارفین اور کانٹینٹ کریئیٹرز نے بھی پابندی کے خلاف اسی عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور اب عدالت میں ستمبر میں ٹرائل شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوبائیڈن سے قبل گزشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت بھی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن نے امریکی عدالتوں سے رجوع کیا تھا اور اپنے حق میں فیصلہ حاصل کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی حکومت نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف دائر عدالتی کیس میں اپنے دستاویزات جمع کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹک ٹاک حساس موضوعات پر صارفین کی معلومات چین بھیجتا ہے اور ممکنہ طور پر مذکورہ معلومات تک چینی حکام کی رسائی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-bytedance-censorship-us-data-240e11d9bb6212b0c9b1adab821e5005#"><strong>اے پی</strong></a>) کے مطابق امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی جانب سے اپریل میں دائر کردہ درخواست پر اپنا تحریری جواب جمع کرادیا۔</p>
<p>جواب میں امریکی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹک ٹاک، مذہب، فائرنگ کے واقعات، اسقاط حمل اور متنازع جنسی رجحانات جیسا کہ ہم جنس پرستی جیسے موضوعات پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر معلومات حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228463"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جواب میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک مذکورہ معلومات اپنے سرورز کو بھیجتا ہے، جس پر اس کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے ملازمین کو بھی رسائی حاصل ہے اور خدشہ ہے کہ مذکورہ معلومات تک چینی حکام کی بھی رسائی ہے۔</p>
<p>امریکی حکومت نے اپنے تحریری جواب میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ٹک ٹاک چینی حکومت کے مطالبے پر ہی دوسرے ممالک میں مواد پر پابندیاں بھی لگاتا ہے۔</p>
<p>امریکی حکومت کے تحریری جواب میں خفیہ ایجنسیوں کی رائے بھی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق ٹک ٹاک بڑے پیمانے پر چینی حکومت کے ساتھ معاونت کرکے جمہوریت کے منافی اقدام بھی کرتا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ٹک ٹاک نے جون میں 100 صفحات پر مشتمل اپنی قانونی اپیل بھی اسی عدالت میں جمع کروائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے ٹک ٹاک پر قومی سلامتی کے خطرے کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ صارفین کے حقوق پر ڈاکا ہے۔</p>
<p>امریکی عدالت میں ٹک ٹاک نے اپریل 2024 میں اپنی ممکنہ پابندی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>بعد ازں جون میں ٹک ٹاک نے مذکورہ عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا اور اب امریکی حکومت نے بھی جواب جمع کروادیا ہے۔</p>
<p>امریکی عدالتی قوانین کے تحت جب بھی دو فریقین میں ٹرائل ہوتا ہے، وہاں پہلے دونوں فریقین کو قانونی اپیلیں، دستاویزات اور ایک دوسرے کے الزامات کے دلائل تحریری طور پر پہلے ہی جمع کروانے پڑتے ہیں۔</p>
<p>اب دونوں فریقین 15 اگست تک ایک دوسرکے کے خلاف اپنے تحریری دلائل عدالت میں جمع کرائیں گے، جس کے بعد ستمبر میں مذکورہ ٹرائل کا آغاز ہوگا۔</p>
<h6>امریکی حکومت اور ٹک ٹاک کی جنگ</h6>
<p>خیال رہے کہ امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف امریکا کے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس نے 20 اپریل جب کہ سینیٹ نے 24 اپریل کو بل منظور کیا تھا۔</p>
<p>دونوں ایوانوں سے بل کے منظور ہونے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 25 اپریل کو بل پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد وہ قانون بن گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قانون کے تحت ٹک ٹاک کو آئندہ 9 ماہ یعنی جنوری 2025 تک کسی امریکی شخص یا امریکی کمپنی کو فروخت کیا جانا لازمی ہوگا، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>قانون کے تحت امریکی صدر چاہیں تو ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی مدت میں 9 ماہ کے بعد مزید تین ماہ کا اضافہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی حکومت کے قانون کے بعد ٹک ٹاک نے گزشتہ ہفتے 7 مئی کو امریکی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں 14 جولائی کو امریکی ٹک ٹاک صارفین اور کانٹینٹ کریئیٹرز نے بھی پابندی کے خلاف اسی عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور اب عدالت میں ستمبر میں ٹرائل شروع ہوگا۔</p>
<p>جوبائیڈن سے قبل گزشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت بھی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن نے امریکی عدالتوں سے رجوع کیا تھا اور اپنے حق میں فیصلہ حاصل کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1239211</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Aug 2024 19:45:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/0318441892b2672.jpg?r=184554" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/0318441892b2672.jpg?r=184554"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
