<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 02:58:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 02:58:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس ادائیگی میں ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو پیچھے چھوڑ دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1239247/</link>
      <description>&lt;p&gt;مالی سال 2024 میں تنخواہ دار طبقے نے ٹیکسٹائل سیکٹر شعبے کے 111.23  ارب کے مقابلے میں 367.8 روپے ٹیکس ادا کیے ہیں، جو کہ بینکوں کی ٹیکس ادائیگیوں کی مد میں  946  ارب روپے اور  پیٹرولیم مصنوعات کے 413.48  ارب روپے سے قریب تر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1849969/salaried-class-overtakes-textile-exporters-in-income-tax-payments"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مالی سال 2024 میں تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس جمع کرنے میں ملک کا تیسرے بڑے شراکت دار  کے طور پر سامنے آیا، جو کہ بینکوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے قریب ہے ،  لیکن اس نے ملک کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو   پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ شعبے نے مالی سال 2024 میں  انکم ٹیکس آمدنی میں  946.08  ارب روپے کا اضافہ کیا ، جو مالی سال 2023 کے 568.68  ارب روپے کے مقابلے 66 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان بتاتا ہے کہ بینکوں کے زیادہ منافع کی وجہ سے ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے  لیکن ، اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بینکس کسٹم کی وصولی ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں بہت کم حصہ ڈالتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مال سالی 2024 میں تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس آمدنی میں  367.8 ارب روپے کا  حصہ ڈالا، جو مالی سال 2023 کے 263.8  ارب روپے کے مقابلے میں 39.42  فیصد زیادہ ہے، مزید برآں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ رقم  ٹیکساٹائل برآمدکنندگان  کے جمع کردہ ٹیکس  276.57 ارب سے زیادہ ہے ، جنہوں نے  مالی سال 2024 میں 16.655  ارب ڈالرز  مالیت کا سامان بھی بر آمد کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسائل کے شعبے نے مالی سال 2024 میں ٹیکس محصولات میں 111.23  ارب روپے کا حصہ ڈالا ہے ، جو گزشتہ مالی سال کے 103.56  ارب روپے کے مقابلے میں 7.4  فیصد زیادہ ہے ،  اس کے علاوہ برآمد کنندگان کے لیے حکومت نے مقررہ ٹیکس نظام میں ترمیم کے ساتھ ساتھ بجٹ میں ان کی شرح میں اضافہ بھی کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم مصنوعات وفاقی محصولات  میں  اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں ، جس نے  مالی سال 2024 میں ٹیکس آمدنی میں  11.95  کھرب روپے ادا کیے، یہ رقم  پچھلے  سال کے 11.38  کھرب روپے سے 5  فیصد زیادہ ہے، اس شعبے کے اندر ، انکم ٹیکس کی آمدنی  6 فیصد سے بڑھ کر  413.48   ارب تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے دوران 388.75  ارب روپے تھی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم اشیا سے وصول کیے جانے والے سیلز ٹیکس کی آمدنی 457.88  ارب رہی،جو  گزشتہ مالی سال کے 447.71  ارب روپے کے مقابلے 2.27 فیصد زیادہ ہے، پی او ایل سے حاصل کی جانے والی کسٹم آمدنی میں 310.62   ارب روپے کا اضافہ دیکھنے کو ملا ، جو پچھلے مالی سال کے 289.89  ارب روپے کے مقابلے میں 7.1  فیصد زیادہ ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے، پیٹرولیم مصنوعات پر  ٹیکسز کے علاوہ ، حکومت ان پر  پیٹرولیم لیوی بھی وصول کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور سیکٹر ایک اور  ایسا شعبہ ہے جو ایف بی آر کے لیے کثیر آمدنی والے شعبے  کے طور پر سامنے آیا ہے، پاور سیکٹر سے حاصل کی جانے والی محصولات  مالی سالی 2024 میں  38.7  فیصد بڑھ کر  640.61  ارب روپے ہو گئی  جو پچھلے سال کے 461.95  ارب روپے سےزیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے میں سب سے زیادہ وصولی سیلز ٹیکس سے حاصل کی گئی ، جس کی کل رقم 411.005  ارب روپے تک ہے جو گزشتہ مالی سال کے 293.18  ارب روپے کے مقابلے میں 40  فیصد زیادہ ہے ، اس کے ساتھ اس شعبے میں  مالی سال 2024 میں انکم ٹیکس کی وصولی 46. 2   فیصد اضافے کے ساتھ 219.39 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے ، جو پچھلے مالی سال میں  150.06  ارب روپے رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید ازاں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر زیادہ ٹیکسز لگانے سے عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے ، جس کے نتیجے میں بلوں اور گاڑیوں کے اخراجات  میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے، ان عوامل نے ملک میں افراط زر کی مجموعی شرح کو بڑھانے میں  نمایاں کردار ادا کیا ہے  جو مالی سال 24 میں 23.41 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کا شعبہ ، جس کی زیادہ تر ملکیت سیاسی اشرافیہ کی ہے ، اس نے محصولات میں بہت کم حصہ ڈالا ہے، راوں سال  اس شعبے سے حاصل کی جانی والی کل محصولات 30  فیصد اضافے کے ساتھ  135.24 ارب روپے رہی، جو پچھلے مالی سال میں 135.24  ارب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ، اس اضافے کا بڑا حصہ  صارفین سے سیلز ٹیکس کی زیادہ وصولی کو قرار دیا جاسکتا ہے ، جو پچھلے  سال کے 89.07   ارب روپے کے مقابلے 29.56  فیصد اضافے کے ساتھ 115.39  ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کے شعبے کا انکم ٹیکس میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، جو پچھلے سال کے 12.43  ارب روپے کے مقابلے رواں سال 25.02  فیصد اضافے کے ساتھ 15.54  ارب روپے تک ہے ، مزید ازاں گزشتہ سال، ملرز کو مقامی فروخت سے پیسے کمانے  کے علاوہ چینی برآمد کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی کام ترقی کرتا ہوا ایک  اور  شعبہ ہے ، جس کی کل آمدنی گزشتہ مالی سال 2023کے 160.30  ارب روپے کے مقابلے 16.8  فیصد اضافے کے ساتھ 187.19  ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، اس شعبے سے رواں سال انکم ٹیکس کی آمدنی  نمایاں  اضافے کے ساتھ گزشتہ سال کے 126.49  ارب روپے کے مقابلے 14.11  فیصد اضافے ساتھ 144.35  ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، اس میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی شامل ہے، جس میں ٹیلی کام کمپنیاں موبائل فون کارڈز اور ڈیٹا کے استعمال پر انکم ٹیکس کے لیے ود ہولڈنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس کی وصولی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون کارڈز پر ود ہولڈنگ ٹیکس ہے ، جس میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوائیوں کا شعبہ، جو کہ ترقی کررہا ہے ، اس کی ٹیکس وصولی مالی سال 2024 میں 2.5  فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ  100.63  ارب رہی ہے  ، جو کہ مالی سال 2023 میں  98.15  ارب روپے  تھی، تاہم ، مالی سال 2024 میں اس شعبے سے انکم ٹیکس کی وصولی درحقیقت 2.5  فیصد کی کمی کے ساتھ 46.61  ارب روپے رہ گئی ہے ، جو پچھلے سال  47.81  ارب روپے تھی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اربوں ڈالرز کی دوا ساز صنعت  ملک سے مصنوعات برآمد کرنے اور صارفین سے زیادہ گھریلو قیمتیں وصول کرنے کے باجود انکم ٹیکس میں کم حصہ ڈالتی ہے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مالی سال 2024 میں تنخواہ دار طبقے نے ٹیکسٹائل سیکٹر شعبے کے 111.23  ارب کے مقابلے میں 367.8 روپے ٹیکس ادا کیے ہیں، جو کہ بینکوں کی ٹیکس ادائیگیوں کی مد میں  946  ارب روپے اور  پیٹرولیم مصنوعات کے 413.48  ارب روپے سے قریب تر ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1849969/salaried-class-overtakes-textile-exporters-in-income-tax-payments">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مالی سال 2024 میں تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس جمع کرنے میں ملک کا تیسرے بڑے شراکت دار  کے طور پر سامنے آیا، جو کہ بینکوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے قریب ہے ،  لیکن اس نے ملک کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو   پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>بینکنگ شعبے نے مالی سال 2024 میں  انکم ٹیکس آمدنی میں  946.08  ارب روپے کا اضافہ کیا ، جو مالی سال 2023 کے 568.68  ارب روپے کے مقابلے 66 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ رجحان بتاتا ہے کہ بینکوں کے زیادہ منافع کی وجہ سے ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے  لیکن ، اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بینکس کسٹم کی وصولی ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں بہت کم حصہ ڈالتے ہیں ۔</p>
<p>مال سالی 2024 میں تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس آمدنی میں  367.8 ارب روپے کا  حصہ ڈالا، جو مالی سال 2023 کے 263.8  ارب روپے کے مقابلے میں 39.42  فیصد زیادہ ہے، مزید برآں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ رقم  ٹیکساٹائل برآمدکنندگان  کے جمع کردہ ٹیکس  276.57 ارب سے زیادہ ہے ، جنہوں نے  مالی سال 2024 میں 16.655  ارب ڈالرز  مالیت کا سامان بھی بر آمد کیا ہے ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹیکسائل کے شعبے نے مالی سال 2024 میں ٹیکس محصولات میں 111.23  ارب روپے کا حصہ ڈالا ہے ، جو گزشتہ مالی سال کے 103.56  ارب روپے کے مقابلے میں 7.4  فیصد زیادہ ہے ،  اس کے علاوہ برآمد کنندگان کے لیے حکومت نے مقررہ ٹیکس نظام میں ترمیم کے ساتھ ساتھ بجٹ میں ان کی شرح میں اضافہ بھی کیا ہے ۔</p>
<p>پیٹرولیم مصنوعات وفاقی محصولات  میں  اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں ، جس نے  مالی سال 2024 میں ٹیکس آمدنی میں  11.95  کھرب روپے ادا کیے، یہ رقم  پچھلے  سال کے 11.38  کھرب روپے سے 5  فیصد زیادہ ہے، اس شعبے کے اندر ، انکم ٹیکس کی آمدنی  6 فیصد سے بڑھ کر  413.48   ارب تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے دوران 388.75  ارب روپے تھی ۔</p>
<p>پیٹرولیم اشیا سے وصول کیے جانے والے سیلز ٹیکس کی آمدنی 457.88  ارب رہی،جو  گزشتہ مالی سال کے 447.71  ارب روپے کے مقابلے 2.27 فیصد زیادہ ہے، پی او ایل سے حاصل کی جانے والی کسٹم آمدنی میں 310.62   ارب روپے کا اضافہ دیکھنے کو ملا ، جو پچھلے مالی سال کے 289.89  ارب روپے کے مقابلے میں 7.1  فیصد زیادہ ہے ۔</p>
<p>واضح رہے، پیٹرولیم مصنوعات پر  ٹیکسز کے علاوہ ، حکومت ان پر  پیٹرولیم لیوی بھی وصول کرتی ہے۔</p>
<p>پاور سیکٹر ایک اور  ایسا شعبہ ہے جو ایف بی آر کے لیے کثیر آمدنی والے شعبے  کے طور پر سامنے آیا ہے، پاور سیکٹر سے حاصل کی جانے والی محصولات  مالی سالی 2024 میں  38.7  فیصد بڑھ کر  640.61  ارب روپے ہو گئی  جو پچھلے سال کے 461.95  ارب روپے سےزیادہ ہے۔</p>
<p>بجلی کے شعبے میں سب سے زیادہ وصولی سیلز ٹیکس سے حاصل کی گئی ، جس کی کل رقم 411.005  ارب روپے تک ہے جو گزشتہ مالی سال کے 293.18  ارب روپے کے مقابلے میں 40  فیصد زیادہ ہے ، اس کے ساتھ اس شعبے میں  مالی سال 2024 میں انکم ٹیکس کی وصولی 46. 2   فیصد اضافے کے ساتھ 219.39 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے ، جو پچھلے مالی سال میں  150.06  ارب روپے رہی تھی۔</p>
<p>مزید ازاں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر زیادہ ٹیکسز لگانے سے عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے ، جس کے نتیجے میں بلوں اور گاڑیوں کے اخراجات  میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے، ان عوامل نے ملک میں افراط زر کی مجموعی شرح کو بڑھانے میں  نمایاں کردار ادا کیا ہے  جو مالی سال 24 میں 23.41 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چینی کا شعبہ ، جس کی زیادہ تر ملکیت سیاسی اشرافیہ کی ہے ، اس نے محصولات میں بہت کم حصہ ڈالا ہے، راوں سال  اس شعبے سے حاصل کی جانی والی کل محصولات 30  فیصد اضافے کے ساتھ  135.24 ارب روپے رہی، جو پچھلے مالی سال میں 135.24  ارب تھی۔</p>
<p>تاہم ، اس اضافے کا بڑا حصہ  صارفین سے سیلز ٹیکس کی زیادہ وصولی کو قرار دیا جاسکتا ہے ، جو پچھلے  سال کے 89.07   ارب روپے کے مقابلے 29.56  فیصد اضافے کے ساتھ 115.39  ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>چینی کے شعبے کا انکم ٹیکس میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، جو پچھلے سال کے 12.43  ارب روپے کے مقابلے رواں سال 25.02  فیصد اضافے کے ساتھ 15.54  ارب روپے تک ہے ، مزید ازاں گزشتہ سال، ملرز کو مقامی فروخت سے پیسے کمانے  کے علاوہ چینی برآمد کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔</p>
<p>ٹیلی کام ترقی کرتا ہوا ایک  اور  شعبہ ہے ، جس کی کل آمدنی گزشتہ مالی سال 2023کے 160.30  ارب روپے کے مقابلے 16.8  فیصد اضافے کے ساتھ 187.19  ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، اس شعبے سے رواں سال انکم ٹیکس کی آمدنی  نمایاں  اضافے کے ساتھ گزشتہ سال کے 126.49  ارب روپے کے مقابلے 14.11  فیصد اضافے ساتھ 144.35  ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، اس میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی شامل ہے، جس میں ٹیلی کام کمپنیاں موبائل فون کارڈز اور ڈیٹا کے استعمال پر انکم ٹیکس کے لیے ود ہولڈنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرتی ہیں۔</p>
<p>انکم ٹیکس کی وصولی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون کارڈز پر ود ہولڈنگ ٹیکس ہے ، جس میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
<p>دوائیوں کا شعبہ، جو کہ ترقی کررہا ہے ، اس کی ٹیکس وصولی مالی سال 2024 میں 2.5  فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ  100.63  ارب رہی ہے  ، جو کہ مالی سال 2023 میں  98.15  ارب روپے  تھی، تاہم ، مالی سال 2024 میں اس شعبے سے انکم ٹیکس کی وصولی درحقیقت 2.5  فیصد کی کمی کے ساتھ 46.61  ارب روپے رہ گئی ہے ، جو پچھلے سال  47.81  ارب روپے تھی ۔</p>
<p>تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اربوں ڈالرز کی دوا ساز صنعت  ملک سے مصنوعات برآمد کرنے اور صارفین سے زیادہ گھریلو قیمتیں وصول کرنے کے باجود انکم ٹیکس میں کم حصہ ڈالتی ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1239247</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Aug 2024 12:54:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/04125244d2d00d6.jpg?r=125336" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/04125244d2d00d6.jpg?r=125336"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
