<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 05:51:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 05:51:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مخصوص نشستوں کا معاملہ: الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1239460/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ  الیکشن کمیشن نے قانونی ٹیم کو نظر ثانی اپیل کی تیاری کی ہدایت کر دی ہے، الیکشن کمیشن آئندہ ایک سے دو روز میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ  الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، اپنے اختیارات کا سپریم کورٹ میں دفاع کرے گا،  کمیشن آزاد ارکان کو 15 دن کا وقت دینے پر اعتراض عائد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کمیشن کے مطابق آئین میں آزاد امیدواروں کو 3 دن دیے گئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں 15 دن کا وقت دیا، ریٹرننگ افسران کو پارٹی ٹکٹ جمع نہ کرانے والے امیدوار کیسے تحریک انصاف کے ہو سکتے ہیں؟ صرف کاغذات نامزدگی میں تحریک انصاف  لکھنے سے کوئی  پارٹی کا امیدوار نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں ابہام بھی اپیل کا حصہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237813"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی دستخط اتھارٹی سے متعلق ابہام دور کرنے کے لیے پہلے ہی سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ابہام پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا، الیکشن کمیشن نے آزاد اراکین کے بیان حلفی اور پارٹی وابستگی فارم کی اسکروٹنی بھی شروع کر دی ہے، اسپیشل سیکریٹری کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی اسکروٹنی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آزاد ارکان کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی کے دستخط کا جائزہ لیا جائے گا، ضرورت پڑنے پر کمیٹی آزاد ارکان کو بیان حلفی کی تصدیق کے لیے طلب کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1237585"&gt;12 جولائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1237813"&gt;15 جولائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر سپریم کورٹ میں دائر کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پارلیمانی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظر ثانی درخواست کو جلد مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی، مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناع دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استدعا کی گئی ہے کہ مخصوص نشستوں کی پی ٹی آئی کو الاٹمنٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کے حصول کی استدعا ہی نہیں کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1238322"&gt;23 جولائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو پیپلز پارٹی نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ سپریم کورٹ  میں چیلنج کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ  الیکشن کمیشن نے قانونی ٹیم کو نظر ثانی اپیل کی تیاری کی ہدایت کر دی ہے، الیکشن کمیشن آئندہ ایک سے دو روز میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے گا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ  الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، اپنے اختیارات کا سپریم کورٹ میں دفاع کرے گا،  کمیشن آزاد ارکان کو 15 دن کا وقت دینے پر اعتراض عائد کرے گا۔</p>
<p>ذرائع کمیشن کے مطابق آئین میں آزاد امیدواروں کو 3 دن دیے گئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں 15 دن کا وقت دیا، ریٹرننگ افسران کو پارٹی ٹکٹ جمع نہ کرانے والے امیدوار کیسے تحریک انصاف کے ہو سکتے ہیں؟ صرف کاغذات نامزدگی میں تحریک انصاف  لکھنے سے کوئی  پارٹی کا امیدوار نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں ابہام بھی اپیل کا حصہ ہو گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237813"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی دستخط اتھارٹی سے متعلق ابہام دور کرنے کے لیے پہلے ہی سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے ابہام پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا، الیکشن کمیشن نے آزاد اراکین کے بیان حلفی اور پارٹی وابستگی فارم کی اسکروٹنی بھی شروع کر دی ہے، اسپیشل سیکریٹری کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی اسکروٹنی کر رہی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق آزاد ارکان کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی کے دستخط کا جائزہ لیا جائے گا، ضرورت پڑنے پر کمیٹی آزاد ارکان کو بیان حلفی کی تصدیق کے لیے طلب کرے گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1237585">12 جولائی</a></strong> سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1237813">15 جولائی</a></strong> کو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر سپریم کورٹ میں دائر کر دی تھی۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پارلیمانی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔</p>
<p>نظر ثانی درخواست کو جلد مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی، مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے۔</p>
<p>درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناع دیا جائے۔</p>
<p>استدعا کی گئی ہے کہ مخصوص نشستوں کی پی ٹی آئی کو الاٹمنٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کے حصول کی استدعا ہی نہیں کی تھی۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1238322">23 جولائی</a></strong> کو پیپلز پارٹی نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ سپریم کورٹ  میں چیلنج کردیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1239460</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Aug 2024 11:27:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/071117053c29c83.png?r=111717" type="image/png" medium="image" height="482" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/071117053c29c83.png?r=111717"/>
        <media:title>سپریم کورٹ—فائل/فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
