<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:42:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 12:42:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: کلکتہ میں خاتون ڈاکٹر کے ریپ، قتل کیخلاف ہسپتالوں میں ہڑتال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1239860/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی کئی ریاستوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طبی سرگرمیاں  غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو مغربی بنگال کلکتہ کی ریاست کے زیر انتظام ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کرنے والی 31 سالہ خاتون کی متعدد زخموں کے نشانات کے ساتھ تشدد زدہ لاش ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی تشدد اور قتل کی تصدیق ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے، جو مذکورہ ہسپتال میں مریضوں کی مدد کرنے کا کام کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب،  انصاف اور بہتر حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کرنے والے احتجاجی  ڈاکٹرز نے ابتدا میں کلکتہ میں مظاہرے شروع کیے تھے جو اب ملک کے دیگر حصوں میں پھیل چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد ایک عام مسئلہ ہے اور 2022 میں ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی والے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر 90 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ انہیں کام کے دوران مریضوں کے ناراض لواحقین کو بری خبر سنائے جانے کے بعد  تشدد  کے اضافی خطرات کا  سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید آزاں، فیڈریشن آف ریزی ڈینٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے سرویش پانڈے نے بتایا کہ ہسپتالوں میں سخت حفاظتی اقدامات ہونے چاہیئں اور سی سی ٹی وی کیمروں کو نصب کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطالبات میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو دوران ملازمت تشدد سے بچانے کے لیے خصوصی قانون بنائے جانے کا مطالبہ بھی شامل ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جہاں ڈاکٹروں پر حملے کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق بھارت میں 75 فیصد ڈاکٹروں کو کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی کئی ریاستوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طبی سرگرمیاں  غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو مغربی بنگال کلکتہ کی ریاست کے زیر انتظام ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کرنے والی 31 سالہ خاتون کی متعدد زخموں کے نشانات کے ساتھ تشدد زدہ لاش ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی تشدد اور قتل کی تصدیق ہوئی تھی۔</p>
<p>مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے، جو مذکورہ ہسپتال میں مریضوں کی مدد کرنے کا کام کرتا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب،  انصاف اور بہتر حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کرنے والے احتجاجی  ڈاکٹرز نے ابتدا میں کلکتہ میں مظاہرے شروع کیے تھے جو اب ملک کے دیگر حصوں میں پھیل چکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد ایک عام مسئلہ ہے اور 2022 میں ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی والے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر 90 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ انہیں کام کے دوران مریضوں کے ناراض لواحقین کو بری خبر سنائے جانے کے بعد  تشدد  کے اضافی خطرات کا  سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>مزید آزاں، فیڈریشن آف ریزی ڈینٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے سرویش پانڈے نے بتایا کہ ہسپتالوں میں سخت حفاظتی اقدامات ہونے چاہیئں اور سی سی ٹی وی کیمروں کو نصب کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطالبات میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو دوران ملازمت تشدد سے بچانے کے لیے خصوصی قانون بنائے جانے کا مطالبہ بھی شامل ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جہاں ڈاکٹروں پر حملے کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق بھارت میں 75 فیصد ڈاکٹروں کو کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1239860</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Aug 2024 15:04:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/12140338dd31715.png?r=144441" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/12140338dd31715.png?r=144441"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
