<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 10:44:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 10:44:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: سابق فوجی افسر ضیاالاحسن کو 8 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240216/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا کی عدالت نے سابق فوجی افسر میجر جنرل ضیاالاحسن کو دارالحکومت کے نیو مارکیٹ کے علاقے میں 16 جولائی کو دکان کے ملازم کی ہلاکت کے معاملے میں درج مقدمے میں 8 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکا ٹریبیون کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dhakatribune.com/bangladesh/court/354957/ex-army-officer-ziaul-placed-on-8-day-remand"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عرفات الرقیب نے یہ حکم جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو مارکیٹ تھانے کے سب انسپکٹر اور کیس کے تفتیشی افسر محمد سجیب میاں نے انہیں عدالت میں پیش کیا اور سابق فوجی افسر میجر جنرل ضیاالاحسن سے تفتیش کے لیے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالاحسن کی وکیل نازنین نہار نے ریمانڈ کی منسوخی کی درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239500"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاالاحسن کی پیشی سے قبل عدالت کے احاطے میں فوج، بی جی بی اور اضافی پولیس اہلکار تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 7 اگست کو سابق انٹیلی جنس چیف میجر جنرل ضیا الاحسن کو ملک سے فرار ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ضیاالاحسن کو طیارے سے گرفتار کر کے ڈھاکا چھاؤنی منتقل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ڈھاکا ایئرپورٹ کے رن وے پر اُڑان کے لیے تیار طیارے کو ہنگامی طور پر رن وے سے واپس بورڈنگ برج لایا گیا اور تلاشی لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میجر جنرل ضیا الحسن کو اس سے ایک روز قبل ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، وہ مستعفی وزیراعظم حسینہ واجد کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ شیخ حسینہ واجد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیشی فوج کے اعلیٰ عہدوں میں اکھاڑ پچھاڑ کی گئی تھی جبکہ سابق وزیراعظم کے قریبی میجر جنرل ضیاالاحسن کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا کی عدالت نے سابق فوجی افسر میجر جنرل ضیاالاحسن کو دارالحکومت کے نیو مارکیٹ کے علاقے میں 16 جولائی کو دکان کے ملازم کی ہلاکت کے معاملے میں درج مقدمے میں 8 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔</p>
<p>ڈھاکا ٹریبیون کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dhakatribune.com/bangladesh/court/354957/ex-army-officer-ziaul-placed-on-8-day-remand"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عرفات الرقیب نے یہ حکم جاری کیا۔</p>
<p>نیو مارکیٹ تھانے کے سب انسپکٹر اور کیس کے تفتیشی افسر محمد سجیب میاں نے انہیں عدالت میں پیش کیا اور سابق فوجی افسر میجر جنرل ضیاالاحسن سے تفتیش کے لیے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی۔</p>
<p>ضیاالاحسن کی وکیل نازنین نہار نے ریمانڈ کی منسوخی کی درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239500"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ضیاالاحسن کی پیشی سے قبل عدالت کے احاطے میں فوج، بی جی بی اور اضافی پولیس اہلکار تعینات تھے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 7 اگست کو سابق انٹیلی جنس چیف میجر جنرل ضیا الاحسن کو ملک سے فرار ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا تھا۔</p>
<p>بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ضیاالاحسن کو طیارے سے گرفتار کر کے ڈھاکا چھاؤنی منتقل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ڈھاکا ایئرپورٹ کے رن وے پر اُڑان کے لیے تیار طیارے کو ہنگامی طور پر رن وے سے واپس بورڈنگ برج لایا گیا اور تلاشی لی گئی۔</p>
<p>میجر جنرل ضیا الحسن کو اس سے ایک روز قبل ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، وہ مستعفی وزیراعظم حسینہ واجد کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ شیخ حسینہ واجد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیشی فوج کے اعلیٰ عہدوں میں اکھاڑ پچھاڑ کی گئی تھی جبکہ سابق وزیراعظم کے قریبی میجر جنرل ضیاالاحسن کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240216</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Aug 2024 21:23:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/16211755306d896.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/16211755306d896.jpg"/>
        <media:title>ضیاالاحسن کی پیشی سے قبل عدالت کے احاطے میں فوج، بی جی بی اور اضافی پولیس اہلکار تعینات تھے — فوٹو: بنگلہ ٹریبیون
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
