<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:28:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 10:28:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنرل فیض کے خلاف الزامات پبلک ہونے کے بعد پروسیڈنگ کو بھی پبلک کیا جائے، شاہد خاقان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240335/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری اپنی نوعیت کا غیرمعمولی معاملہ ہے جسے فوج خود پروسیڈ کر رہی ہے، جنرل فیض کیخلاف الزامات پبلک کر دیے گئے، پروسیڈنگ کو بھی  پبلک کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر وِد نادیہ مرزا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی اقتدار سے بے دخلی سمیت ملک میں ماضی میں پیش ہونے والے واقعات کے اگر ہمیں جواب چاہئیں تو ٹروتھ کمیشن بنایا جائے، اس ملک میں جو کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے اس کو ڈاکیومنٹ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فیض حمید صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ہے، انہوں نے کیا کیا، کیا نہیں کیا مجھے اس کا علم نہیں ہے، باتیں بہت سی ہم نے بھی سنی ہیں، جب فیض صاحب پر لگے الزامات سامنے آئیں گے تو ہی بات ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239882"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا کہ ان پر ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے الزامات ہیں، اگر 9مئی کے واقعات میں ان کا کوئی کردار ہے تو اس کے لیے پراسیکیوشن بہت ضروری ہے کیونکہ یہ عام واقعہ نہیں ہے اور آپ نے بہت وقت ضائع کردیا ہے، 9 مہینے ہونے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 9 مئی میں جو بھی لوگ شامل تھے آپ کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، ان دنوں برطانیہ میں فسادات جاری ہیں لیکن انہوں نے پراسیکیوشن شروع کر کے سزائیں بھی دینا شروع کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب 9 مئی کا واقعہ ہوا تو جنرل فیض اس وقت فوج میں نہیں تھے تو اگر کچھ کیا ہے تو بطور ریٹائرڈ افسر کیا ہے، اگر وہ بھی کیا ہے تو فوج کے نظام کو دیکھتے ہوئے ان کا کورٹ مارشل وہ سکتا ہے، ابھی الزامات سامنے آنے دیں اور اس پر قیاس آرائیاں مناسب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر فوج میں چلائے جانے والے مقدمات کی سماعت کا احوال اور الزامات کی تفصیل سامنے نہیں آتی، آئی ایس پی آر کا بیان آ چکا ہے اور وزرا بھی اس پر باتیں کررہے ہیں تو یہ معاملہ کافی پیچیدہ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نکالا، اس ملک کا سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ بنا، چلتی ہوئی حکومت کے وزیراعظم کو اس بات پر نکالا کہ جب چھ سات سال پہلے وہ حکومت میں نہیں تھے تو وہ متحدہ عرب امارات میں ایک کمپنی کے ڈائریکٹر بنے اور وہ کمپنی ان کے بیٹے کی تھی، ویزہ لینے کے لیے آپ ڈائریکٹر شپ ظاہر کرتے ہیں تو ویزہ مل جاتا ہے، تو نواز شریف نے وہ ڈائریکٹر فیس انہوں نے نہیں لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240101"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وہ کمپنی اب ختم ہو چکی ہے لیکن سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ کمپنی ختم ہو چکی ہے، وہ فیس نہیں لی لیکن وہ آپ کا اثاثہ تھا جس کو آپ نے 2013 میں الیکشن لڑتے ہوئے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا گیا، نہ اس بات کو عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ قانون تسلیم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیض حمید کے حوالے سے رانا ثنااللہ کے دعوؤں پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرے یا رانا صاحب کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، فرق اس وقت پڑے گا جب آپ اس ترائل میں جا کر بطور گواہ پیش ہوں گے، اگر رانا ثنااللہ کے پاس کچھ معلومات ہیں تو وہ وہاں درخواست دے دیں کہ میں وہاں بطور گواہ پیش ہونا چاہتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی سے رابطہ ہونا یا بات ہونا کوئی جرم نہیں ہوتا، کیا بات کی وہ جرم ہوتا ہے، 9مئی کا اب تک کوئی ثبوت نہیں آیا بلکہ صرف الزامات آئے ہیں لیکن اگر 9مئی سازش ہے تو پراسیکیوشن حکومت کی ذمے داری بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 9مئی ایک غیرمعمولی واقعہ ہے اور اگر ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو اس کا مقدمہ چلانا ان کی ذمے داری ہے، اگر یہ سازش ہے، کسی نے منصوبہ بندی اور سہولت کاری کاری تو وہ سب اس مقدمے میں شامل ہو جائیں گے، اگر اس میں کوئی فوجی بھی شامل ہے تو اس بنیاد پر فوج بھی مقدمہ چلا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ہونے والی سماعتیں کا احوال سامنے نہیں آتا، میری رائے میں اب شاید ضروری ہو گیا ہے کہ ان معاملات کو عوام کے سامنے لایا جائے کیونکہ معاملہ عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری اپنی نوعیت کا غیرمعمولی معاملہ ہے جسے فوج خود پروسیڈ کر رہی ہے، جنرل فیض کیخلاف الزامات پبلک کر دیے گئے، پروسیڈنگ کو بھی  پبلک کیا جائے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر وِد نادیہ مرزا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی اقتدار سے بے دخلی سمیت ملک میں ماضی میں پیش ہونے والے واقعات کے اگر ہمیں جواب چاہئیں تو ٹروتھ کمیشن بنایا جائے، اس ملک میں جو کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے اس کو ڈاکیومنٹ کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فیض حمید صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ہے، انہوں نے کیا کیا، کیا نہیں کیا مجھے اس کا علم نہیں ہے، باتیں بہت سی ہم نے بھی سنی ہیں، جب فیض صاحب پر لگے الزامات سامنے آئیں گے تو ہی بات ہو سکے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239882"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا کہ ان پر ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے الزامات ہیں، اگر 9مئی کے واقعات میں ان کا کوئی کردار ہے تو اس کے لیے پراسیکیوشن بہت ضروری ہے کیونکہ یہ عام واقعہ نہیں ہے اور آپ نے بہت وقت ضائع کردیا ہے، 9 مہینے ہونے لگے ہیں۔</p>
<p>سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 9 مئی میں جو بھی لوگ شامل تھے آپ کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، ان دنوں برطانیہ میں فسادات جاری ہیں لیکن انہوں نے پراسیکیوشن شروع کر کے سزائیں بھی دینا شروع کردی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب 9 مئی کا واقعہ ہوا تو جنرل فیض اس وقت فوج میں نہیں تھے تو اگر کچھ کیا ہے تو بطور ریٹائرڈ افسر کیا ہے، اگر وہ بھی کیا ہے تو فوج کے نظام کو دیکھتے ہوئے ان کا کورٹ مارشل وہ سکتا ہے، ابھی الزامات سامنے آنے دیں اور اس پر قیاس آرائیاں مناسب نہیں ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر فوج میں چلائے جانے والے مقدمات کی سماعت کا احوال اور الزامات کی تفصیل سامنے نہیں آتی، آئی ایس پی آر کا بیان آ چکا ہے اور وزرا بھی اس پر باتیں کررہے ہیں تو یہ معاملہ کافی پیچیدہ بن جائے گا۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نکالا، اس ملک کا سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ بنا، چلتی ہوئی حکومت کے وزیراعظم کو اس بات پر نکالا کہ جب چھ سات سال پہلے وہ حکومت میں نہیں تھے تو وہ متحدہ عرب امارات میں ایک کمپنی کے ڈائریکٹر بنے اور وہ کمپنی ان کے بیٹے کی تھی، ویزہ لینے کے لیے آپ ڈائریکٹر شپ ظاہر کرتے ہیں تو ویزہ مل جاتا ہے، تو نواز شریف نے وہ ڈائریکٹر فیس انہوں نے نہیں لی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240101"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وہ کمپنی اب ختم ہو چکی ہے لیکن سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ کمپنی ختم ہو چکی ہے، وہ فیس نہیں لی لیکن وہ آپ کا اثاثہ تھا جس کو آپ نے 2013 میں الیکشن لڑتے ہوئے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا گیا، نہ اس بات کو عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ قانون تسلیم کرتا ہے۔</p>
<p>فیض حمید کے حوالے سے رانا ثنااللہ کے دعوؤں پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرے یا رانا صاحب کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، فرق اس وقت پڑے گا جب آپ اس ترائل میں جا کر بطور گواہ پیش ہوں گے، اگر رانا ثنااللہ کے پاس کچھ معلومات ہیں تو وہ وہاں درخواست دے دیں کہ میں وہاں بطور گواہ پیش ہونا چاہتا ہوں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی سے رابطہ ہونا یا بات ہونا کوئی جرم نہیں ہوتا، کیا بات کی وہ جرم ہوتا ہے، 9مئی کا اب تک کوئی ثبوت نہیں آیا بلکہ صرف الزامات آئے ہیں لیکن اگر 9مئی سازش ہے تو پراسیکیوشن حکومت کی ذمے داری بن جاتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 9مئی ایک غیرمعمولی واقعہ ہے اور اگر ان کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو اس کا مقدمہ چلانا ان کی ذمے داری ہے، اگر یہ سازش ہے، کسی نے منصوبہ بندی اور سہولت کاری کاری تو وہ سب اس مقدمے میں شامل ہو جائیں گے، اگر اس میں کوئی فوجی بھی شامل ہے تو اس بنیاد پر فوج بھی مقدمہ چلا سکتی ہے۔</p>
<p>سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ہونے والی سماعتیں کا احوال سامنے نہیں آتا، میری رائے میں اب شاید ضروری ہو گیا ہے کہ ان معاملات کو عوام کے سامنے لایا جائے کیونکہ معاملہ عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240335</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Aug 2024 00:34:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/1900304597ec495.png?r=003121" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/1900304597ec495.png?r=003121"/>
        <media:title>سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
