<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:03:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:03:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>منکی پاکس کووڈ کی نئی قسم نہیں، عالمی ادارہ صحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240465/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ منکی پاکس کے نام سے مشہور وبا ’ایم پاکس‘ کووڈ کی نئی قسم نہیں اور ہم اس وائرس اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں پہلے ہی کافی کچھ جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے یورپ میں ڈائریکٹر ہنس کلوگ نے ​​کہا کہ گوکہ کلیڈ 1b وائرس کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ایم پاکس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایم پاکس نیا کووڈ نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ ایم پاکس کو کیسے کنٹرول کرنا ہے اور یورپی میں اس کی منتقلی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240271"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنس کلوگ نے جنیوا سے ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دو سال پہلے ہم نے سب سے زیادہ متاثرہ افراد کے ساتھ براہ راست رابطہ کر کے یورپ میں ایم اوکس کو کنٹرول کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہترین نگرانی جاری رکھی ہوئی ہے، ہم نے نئے کیسز کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کی چھان بین کی اور ہم نے صحت عامہ سے متعلق مفید مشورے فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رویوں میں تبدیلی، صحت عامہ کے حوالے سے بلاامتیاز اقدامات اور ایم پاکس ویکسی نیشن نے وبا پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار نے واضح الفاظ میں ​​کہا کہ عام آبادی کو زیادہ خطرات لاحق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240390"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا عالمی ادارہ صحت یورپ میں لاک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے، کیا یہ ایک اور کووڈ۔19 ہے جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کے زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ کا بنیادی راستہ جسمانی تعامل ہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنس کلوگ نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ایم پاکس انفیکشن کے شدید انفیکشن سے دوچار شخص گھر یا ہسپتالوں میں قریبی رابطے کے ذریعے وائرس منتقل کر سکتا ہے البتہ اس وائرس کی منتقلی کی وجوہات ابھی بھی قدرے غیر واضح ہیں اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جساریوچ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری میں ماسک کے استعمال یا بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی سفارش نہیں کر رہا البتہ ہم سب سے زیادہ خطرات سے دوچار افراد کے لیے ویکسین کے استعمال کی سفارش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او نے 14 اگست کو جمہوریہ کانگو میں کلیڈ 1 بی کے کیسز میں اضافے اور قریبی ممالک میں اس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جولائی 2022 میں بھی عالمی ادارہ صحت نے ایم پاکس کی دوسری قسم کلیڈ 2بی کے بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا لیکن مئی 2023 میں اس ایمرجنسی کو ختم کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ منکی پاکس کے نام سے مشہور وبا ’ایم پاکس‘ کووڈ کی نئی قسم نہیں اور ہم اس وائرس اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں پہلے ہی کافی کچھ جانتے ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے یورپ میں ڈائریکٹر ہنس کلوگ نے ​​کہا کہ گوکہ کلیڈ 1b وائرس کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ایم پاکس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایم پاکس نیا کووڈ نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ ایم پاکس کو کیسے کنٹرول کرنا ہے اور یورپی میں اس کی منتقلی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240271"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہنس کلوگ نے جنیوا سے ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دو سال پہلے ہم نے سب سے زیادہ متاثرہ افراد کے ساتھ براہ راست رابطہ کر کے یورپ میں ایم اوکس کو کنٹرول کیا تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہترین نگرانی جاری رکھی ہوئی ہے، ہم نے نئے کیسز کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کی چھان بین کی اور ہم نے صحت عامہ سے متعلق مفید مشورے فراہم کیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رویوں میں تبدیلی، صحت عامہ کے حوالے سے بلاامتیاز اقدامات اور ایم پاکس ویکسی نیشن نے وبا پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار نے واضح الفاظ میں ​​کہا کہ عام آبادی کو زیادہ خطرات لاحق نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240390"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا عالمی ادارہ صحت یورپ میں لاک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے، کیا یہ ایک اور کووڈ۔19 ہے جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کے زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ کا بنیادی راستہ جسمانی تعامل ہی ہے۔</p>
<p>ہنس کلوگ نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ایم پاکس انفیکشن کے شدید انفیکشن سے دوچار شخص گھر یا ہسپتالوں میں قریبی رابطے کے ذریعے وائرس منتقل کر سکتا ہے البتہ اس وائرس کی منتقلی کی وجوہات ابھی بھی قدرے غیر واضح ہیں اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جساریوچ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری میں ماسک کے استعمال یا بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی سفارش نہیں کر رہا البتہ ہم سب سے زیادہ خطرات سے دوچار افراد کے لیے ویکسین کے استعمال کی سفارش کررہے ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او نے 14 اگست کو جمہوریہ کانگو میں کلیڈ 1 بی کے کیسز میں اضافے اور قریبی ممالک میں اس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل جولائی 2022 میں بھی عالمی ادارہ صحت نے ایم پاکس کی دوسری قسم کلیڈ 2بی کے بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا لیکن مئی 2023 میں اس ایمرجنسی کو ختم کردیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240465</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Aug 2024 19:35:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/20193123840386a.jpg?r=193228" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/20193123840386a.jpg?r=193228"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
