<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 10:06:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 10:06:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: تھانے میں مونٹیسوری کی دو بچیوں کے ریپ کے بعد عوام مشتعل، شدید احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240480/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر تھانے میں مونٹیسوری کی دو بچیوں کے ریپ کے بعد عوام نے شدید احتجاج کیا اور چھ گھنٹے تک احتجاج جاری رہنے والے احتجاج کے دوران ٹریفک اور ٹرین کی آمدورفت کو معطل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق تھانے کے ایک انگریزی میڈیم اسکول کے گرلز ٹوائلٹ میں ساڑھے تین اور چار سال کی مونٹیسوری کی دو بچیوں کا 16 اگست کو ریپ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور اسکول انتظامیہ نے پرنسپل کے ساتھ ساتھ کلاس ٹیچر اور نینی کو معطل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240417"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی خبر آناً فاناً پھیل گئی اور منگل کی صبح ہی تھانے اور پڑوسی شہر ممبئی سے لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر جمع ہو کر احتجاج شروع کردیا اور ٹریفک کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی آمدورفت روکتے ہوئے حکومت اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چھ گھنٹے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی اور آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے سبب مظاہرین فوری طور پر منتشر ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پولیس اسٹیشن کی دوسری جانب موجود مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے بعد اسٹیشن میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا لیکن اس موقع پر بھی پولیس کے لاٹھی چارج کے پیش نظر فوری طور پر منتشر ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا جب چند دن قبل ہی کولکتہ کے ہسپتال میں ٹرینی ڈاکٹر کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس نے عوام کو مزید مشتعل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران اپوزیشن کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ متاثرین خاندان کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پولیس نے انہیں 11 گھنٹے تک انتظار کرایا جس نے مشتعل مظاہرین کے جذبات پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240355"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہاراشٹر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر وجے واڈیٹور نے کہا کہ تھانے کے علاقے بدلہ پور میں رونما ہونے والا واقعہ کولکتہ ریپ سے بڑھ کر ہے کیونکہ بچیاں صرف چار سال کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین اور چار سال کی بچیوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور پولیس اسٹیشن میں جب وہ شکایت درج کرانے کی کوشش کر رہے تھے تو ان کے والدین کو 11 گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور کیا گیا، میں نے پولیس کمشنر سے بات کی اور ان سے کہا کہ اس تاخیر کے لیے ذمہ دار خاتون پولیس افسر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران پولیس انتظامیہ کی جانب سے غفلت برتنے کے انکشافات ہوئے ہیں جیسے گرلز ٹوائلٹ میں کوئی خاتون اٹینڈنٹ نہیں تھی جو ایک بنیادی ضرورت ہے جبکہ اسکول کے سی سی ٹی وی کیمرہ بھی کام نہیں کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیوندرا فیڈنیوس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خاتون آئی پی ایس افسر کی زیر سربراہی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر تھانے میں مونٹیسوری کی دو بچیوں کے ریپ کے بعد عوام نے شدید احتجاج کیا اور چھ گھنٹے تک احتجاج جاری رہنے والے احتجاج کے دوران ٹریفک اور ٹرین کی آمدورفت کو معطل کردیا۔</p>
<p>بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق تھانے کے ایک انگریزی میڈیم اسکول کے گرلز ٹوائلٹ میں ساڑھے تین اور چار سال کی مونٹیسوری کی دو بچیوں کا 16 اگست کو ریپ کیا گیا۔</p>
<p>واقعے میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور اسکول انتظامیہ نے پرنسپل کے ساتھ ساتھ کلاس ٹیچر اور نینی کو معطل کر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240417"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واقعے کی خبر آناً فاناً پھیل گئی اور منگل کی صبح ہی تھانے اور پڑوسی شہر ممبئی سے لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر جمع ہو کر احتجاج شروع کردیا اور ٹریفک کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی آمدورفت روکتے ہوئے حکومت اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔</p>
<p>تاہم چھ گھنٹے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی اور آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے سبب مظاہرین فوری طور پر منتشر ہو گئے۔</p>
<p>دوسری جانب پولیس اسٹیشن کی دوسری جانب موجود مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے بعد اسٹیشن میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا لیکن اس موقع پر بھی پولیس کے لاٹھی چارج کے پیش نظر فوری طور پر منتشر ہو گئے۔</p>
<p>یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا جب چند دن قبل ہی کولکتہ کے ہسپتال میں ٹرینی ڈاکٹر کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس نے عوام کو مزید مشتعل کردیا۔</p>
<p>اس دوران اپوزیشن کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ متاثرین خاندان کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پولیس نے انہیں 11 گھنٹے تک انتظار کرایا جس نے مشتعل مظاہرین کے جذبات پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240355"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مہاراشٹر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر وجے واڈیٹور نے کہا کہ تھانے کے علاقے بدلہ پور میں رونما ہونے والا واقعہ کولکتہ ریپ سے بڑھ کر ہے کیونکہ بچیاں صرف چار سال کی تھیں۔</p>
<p>انہوں نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین اور چار سال کی بچیوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور پولیس اسٹیشن میں جب وہ شکایت درج کرانے کی کوشش کر رہے تھے تو ان کے والدین کو 11 گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور کیا گیا، میں نے پولیس کمشنر سے بات کی اور ان سے کہا کہ اس تاخیر کے لیے ذمہ دار خاتون پولیس افسر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران پولیس انتظامیہ کی جانب سے غفلت برتنے کے انکشافات ہوئے ہیں جیسے گرلز ٹوائلٹ میں کوئی خاتون اٹینڈنٹ نہیں تھی جو ایک بنیادی ضرورت ہے جبکہ اسکول کے سی سی ٹی وی کیمرہ بھی کام نہیں کررہے تھے۔</p>
<p>مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیوندرا فیڈنیوس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خاتون آئی پی ایس افسر کی زیر سربراہی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240480</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Aug 2024 23:07:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/202305165c344d6.jpg?r=230530" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/202305165c344d6.jpg?r=230530"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
