<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 20 May 2026 21:45:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 20 May 2026 21:45:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کو پارلیمنٹ کے اندر بھی ہراساں کیا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240565/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے دعویٰ کیا ہے کہ خواتین کو پارلیمنٹ کے اندر بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی چینل ’جیو نیوز‘ کے  پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں خواتین کے لباس پر اعتراض اور ہراساں کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار، پیپلزپارٹی کی سحر کامران اور تحریک انصاف کی سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے مل کر قانون سازی پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.geo.tv/latest/376705-"&gt;&lt;strong&gt;گفتگو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہوئے سحر کامران نے دعویٰ کیا کہ خواتین کو پارلیمنٹ کے اندر بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کے لباس پر تنقیدکرے، ہراسانی پارلیمنٹ میں ہے، قائمہ کمیٹیوں میں بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240186"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشین افتخار کا کہنا تھا کہ خاتون کے لباس سے متعلق اقبال آفریدی کے بیان پر افسوس ہوا، اقبال آفریدی کو اگر لباس پر اعتراض تھا تو مجھ سے شکایت کرتے، اقبال آفریدی کو میڈیا میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سوک ایجوکیشن کا بل 2018 میں منظور ہوا لیکن عمل درآمد نہیں ہو رہا، خواتین کو ہر سرگرمی میں حصہ لینےکا اتنا ہی حق ہے جتنا مرد کو ہے، آج کے معاشرے میں خواتین کو ہراسانی کا زیادہ سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی و رکن کمیٹی اقبال آفریدی نے ’کے الیکٹرک‘ کی نمائندہ خاتون کے لباس پر اعتراض عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ کے الیکٹرک کی خاتون جس لباس میں اجلاس میں شریک تھیں وہ قابل اعتراض ہے، اس طرح کے لباس میں اجلاس میں شرکت نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال آفریدی نے لباس پر اعتراض کمیٹی سے خاتون کے واپس جانے کے بعد ان کی عدم موجودگی میں اٹھایا تھا، جبکہ چیئرمین کمیٹی نے اقبال آفریدی کے معاملے پر معذرت کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے خاتون کے لباس پر اعتراض کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے دعویٰ کیا ہے کہ خواتین کو پارلیمنٹ کے اندر بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔</p>
<p>نجی چینل ’جیو نیوز‘ کے  پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں خواتین کے لباس پر اعتراض اور ہراساں کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار، پیپلزپارٹی کی سحر کامران اور تحریک انصاف کی سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے مل کر قانون سازی پر اتفاق کیا۔</p>
<p>پروگرام میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.geo.tv/latest/376705-"><strong>گفتگو</strong></a> کرتے ہوئے سحر کامران نے دعویٰ کیا کہ خواتین کو پارلیمنٹ کے اندر بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کے لباس پر تنقیدکرے، ہراسانی پارلیمنٹ میں ہے، قائمہ کمیٹیوں میں بھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240186"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نوشین افتخار کا کہنا تھا کہ خاتون کے لباس سے متعلق اقبال آفریدی کے بیان پر افسوس ہوا، اقبال آفریدی کو اگر لباس پر اعتراض تھا تو مجھ سے شکایت کرتے، اقبال آفریدی کو میڈیا میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سوک ایجوکیشن کا بل 2018 میں منظور ہوا لیکن عمل درآمد نہیں ہو رہا، خواتین کو ہر سرگرمی میں حصہ لینےکا اتنا ہی حق ہے جتنا مرد کو ہے، آج کے معاشرے میں خواتین کو ہراسانی کا زیادہ سامنا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی و رکن کمیٹی اقبال آفریدی نے ’کے الیکٹرک‘ کی نمائندہ خاتون کے لباس پر اعتراض عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ کے الیکٹرک کی خاتون جس لباس میں اجلاس میں شریک تھیں وہ قابل اعتراض ہے، اس طرح کے لباس میں اجلاس میں شرکت نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>اقبال آفریدی نے لباس پر اعتراض کمیٹی سے خاتون کے واپس جانے کے بعد ان کی عدم موجودگی میں اٹھایا تھا، جبکہ چیئرمین کمیٹی نے اقبال آفریدی کے معاملے پر معذرت کر لی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے خاتون کے لباس پر اعتراض کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240565</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Aug 2024 23:24:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/212324082aad2f0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/212324082aad2f0.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
