<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:51:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 08:51:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: کارساز حادثے کے زخمی عبدالسلام کی حالت تشویشناک، 48 گھنٹے اہم قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240726/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں کارساز حادثے میں زخمی ہونے والے عبدالسلام کی زندگی کے لیے ڈاکٹرز نے  آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق زخمی عبد السلام کی حالت تشویش ناک ہے  اور انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہل خانہ کے مطابق حادثے کے بعد زخمی عبدالسلام کو جناح ہسپتال لایا گیا تھا تاہم وہاں 8 گھنٹے سے زائد بے یارو مددگار پڑے رہنے کے بعد انہیں ہل پارک کے قریب نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ہے کہ اب تک ان سے کسی بھی حکومتی ادارے کے نمائندے نے رابطہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد عبدالسلام کتابوں کی سپلائی کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے وقت عبدالسلام معمول کے مطابق کتابوں کی سپلائی کے لیے نکلے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://"&gt;19 اگست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو کارساز کے قریب تیز رفتار لگژری جیپ سوار خاتون نے کار اور موٹر سائیکلوں سواروں کو کچل دیا تھا، اس حادثے میں باپ بیٹی جاں بحق اور 5 افراد زخمی، 4 افراد معمولی زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک شخص کی حالت تشویشناک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے بعد مشتعل افراد نے خاتون ڈرائیور کو گھیر لیا تھا اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر جیپ چلانے والی خاتون نتاشا کو حراست میں لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اگلے روز (20 اگست) کو ملزمہ نتاشا کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ملزمہ کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت ان کے وکیل ایڈووکیٹ عامر منصوب نے ٹریفک حادثہ کی ذمہ دار ملزمہ نتاشا کو نفسیاتی قرار دیتے ہوئے انہیں ائسولیشن وارڈ میں رکھنے کی تجویز دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارساز ٹریفک حادثہ کیس کے تفتیشی افسر انسپکٹر عامر الطاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی ہے اور ہسپتال انتظامیہ نے ملزمہ کو ایڈمٹ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے وہاں سے فرار ہو گئی تھی اور فرار ہونے کے بعد خاتون نے اسی روڈ پر آگے جا کر موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی کو ہٹ کیا تھا  جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں کارساز حادثے میں زخمی ہونے والے عبدالسلام کی زندگی کے لیے ڈاکٹرز نے  آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دے دیے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق زخمی عبد السلام کی حالت تشویش ناک ہے  اور انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کردیا ہے۔</p>
<p>اہل خانہ کے مطابق حادثے کے بعد زخمی عبدالسلام کو جناح ہسپتال لایا گیا تھا تاہم وہاں 8 گھنٹے سے زائد بے یارو مددگار پڑے رہنے کے بعد انہیں ہل پارک کے قریب نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ہے کہ اب تک ان سے کسی بھی حکومتی ادارے کے نمائندے نے رابطہ نہیں کیا۔</p>
<p>تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد عبدالسلام کتابوں کی سپلائی کا کام کرتے ہیں۔</p>
<p>حادثے کے وقت عبدالسلام معمول کے مطابق کتابوں کی سپلائی کے لیے نکلے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے <strong><a href="https://">19 اگست</a></strong> کو کارساز کے قریب تیز رفتار لگژری جیپ سوار خاتون نے کار اور موٹر سائیکلوں سواروں کو کچل دیا تھا، اس حادثے میں باپ بیٹی جاں بحق اور 5 افراد زخمی، 4 افراد معمولی زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک شخص کی حالت تشویشناک تھی۔</p>
<p>حادثے کے بعد مشتعل افراد نے خاتون ڈرائیور کو گھیر لیا تھا اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر جیپ چلانے والی خاتون نتاشا کو حراست میں لے لیا تھا۔</p>
<p>اس کے اگلے روز (20 اگست) کو ملزمہ نتاشا کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ملزمہ کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔</p>
<p>دوران سماعت ان کے وکیل ایڈووکیٹ عامر منصوب نے ٹریفک حادثہ کی ذمہ دار ملزمہ نتاشا کو نفسیاتی قرار دیتے ہوئے انہیں ائسولیشن وارڈ میں رکھنے کی تجویز دی تھی۔</p>
<p>کارساز ٹریفک حادثہ کیس کے تفتیشی افسر انسپکٹر عامر الطاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی ہے اور ہسپتال انتظامیہ نے ملزمہ کو ایڈمٹ کرلیا ہے۔</p>
<p>حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے وہاں سے فرار ہو گئی تھی اور فرار ہونے کے بعد خاتون نے اسی روڈ پر آگے جا کر موٹر سائیکل سوار باپ بیٹی کو ہٹ کیا تھا  جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240726</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Aug 2024 11:20:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/24105736f6aa413.png?r=105902" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/24105736f6aa413.png?r=105902"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
