<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:57:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:57:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیس پائپ لائن سے متعلق ایران نے پاکستان کےخلاف ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1240938/</link>
      <description>&lt;p&gt;گیس پائپ لائن سے متعلق ایران نے  پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع  کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ایران نے پاکستان کو آخری نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا  اگلے ماہ ستمبر میں پائپ لائن سے متعلق  پیرس کی ثالثی عدالت  سے رجوع کرنے کا ارادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ایران کے پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کے معاملے پر پاکستان اور ایران سفارتی سطح پر رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع  نے بتایا   کہ ثالثی میں پاکستان کا کیس مضبوط ہے، تاہم نوٹس کےمندرجات کو معاہدے کی پابندی کی وجہ سے خفیہ رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع کے مطابق بعض میڈیا جرمانے کی رقم پر قیاس آرائیاں کرکے سنسنی پھیلا رہے ہیں، ایران نے بھی رقم کی کوئی بات نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ  بعض میڈیا پر چلنے والی خبروں کا پاکستان کےخلاف استعمال ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے ملک کے وسیع تر مفاد میں گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جو بھی معاملات ہیں ان کوسفارتی سطح پر دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209138"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/70730/pak-iran-gas-pipeline-inaugrated"&gt;11 مارچ 2013&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;  کو امریکا کی شدید مخالفت اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکی کے باوجود   آصف زرداری اور ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن کے پاکستانی حصے کی تعمیر کا افتتاح کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119051/"&gt;24 جنوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 2020 کو ایوان بالا (سینیٹ) میں وزارت توانائی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے رک گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1203423"&gt;18 مئی 2023&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل نہ کیا تو پاکستان کو 18 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1209138"&gt;7 اگست 2023&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو پاکستان نے ایران کو اربوں ڈالر کے ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے متعلق معاہدے کے تحت طے شدہ ذمہ داری کو معطل کرنے کے لیے ’فورس میجر اینڈ ایکسکیوزنگ ایونٹ‘ نوٹس جاری کیا تھا جس میں پاکستان کے قابو سے باہر بیرونی عوامل کا حوالہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادھے الفاظ میں پاکستان نے اس وقت تک منصوبہ آگے بڑھانے سے اپنی معذوری ظاہر کی ہے جب تک کہ ایران پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں یا امریکا کی جانب سے اسلام آباد کو منصوبے پر آگے بڑھنے کے لیے کوئی مثبت اشارہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ 24 کروڑ عوام کے جنوبی ایشیائی ملک میں توانائی کی شدید قلت کے باوجود تقریباً ایک دہائی سے سرد خانے میں پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1226171"&gt;23 فروری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 2024 کو کابینہ کی توانائی کمیٹی نے پاک ۔ ایران گیس پائپ منصوبے کے تحت 80 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 2009 میں معاہدہ طے پایا تھا کہ گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پاکستان کو فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت 1931 کلومیٹر پائپ لائن بچھائی جانی ہے جس میں 1150 کلومیٹر ایران اور 781 کلومیٹر پاکستان کے اندر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت پاکستان کو جنوری 2015 میں گیس کی سپلائی ہونی تھی تاہم اب تک منصوبہ مکمل نہ کیا جاسکا اور کب تک مکمل ہوگا اب تک یہ بھی واضح نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران منصوبے کے تحت پہلے ہی 900 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرچکا ہے، تاہم ایران کی جانب سے 250 کلومیٹر پائپ لائن کی تعمیر ہونا اب بھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1229115"&gt;21 مارچ 2024&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو جنوبی اور وسط ایشیا کے امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے کہا تھا کہ امریکا ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے کو روکنے کے مقصد پر کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گیس پائپ لائن سے متعلق ایران نے  پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع  کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ایران نے پاکستان کو آخری نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا  اگلے ماہ ستمبر میں پائپ لائن سے متعلق  پیرس کی ثالثی عدالت  سے رجوع کرنے کا ارادہ ہے۔</p>
<p>حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ایران کے پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کے معاملے پر پاکستان اور ایران سفارتی سطح پر رابطے میں ہیں۔</p>
<p>حکومتی ذرائع  نے بتایا   کہ ثالثی میں پاکستان کا کیس مضبوط ہے، تاہم نوٹس کےمندرجات کو معاہدے کی پابندی کی وجہ سے خفیہ رکھا گیا ہے۔</p>
<p>حکومتی ذرائع کے مطابق بعض میڈیا جرمانے کی رقم پر قیاس آرائیاں کرکے سنسنی پھیلا رہے ہیں، ایران نے بھی رقم کی کوئی بات نہیں کی ہے۔</p>
<p>حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ  بعض میڈیا پر چلنے والی خبروں کا پاکستان کےخلاف استعمال ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے ملک کے وسیع تر مفاد میں گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے ۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق جو بھی معاملات ہیں ان کوسفارتی سطح پر دیکھا جارہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209138"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/70730/pak-iran-gas-pipeline-inaugrated">11 مارچ 2013</a></strong>  کو امریکا کی شدید مخالفت اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکی کے باوجود   آصف زرداری اور ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن کے پاکستانی حصے کی تعمیر کا افتتاح کردیا گیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119051/">24 جنوری</a></strong> 2020 کو ایوان بالا (سینیٹ) میں وزارت توانائی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان-ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے رک گیا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1203423">18 مئی 2023</a></strong> کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل نہ کیا تو پاکستان کو 18 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1209138">7 اگست 2023</a></strong> کو پاکستان نے ایران کو اربوں ڈالر کے ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے متعلق معاہدے کے تحت طے شدہ ذمہ داری کو معطل کرنے کے لیے ’فورس میجر اینڈ ایکسکیوزنگ ایونٹ‘ نوٹس جاری کیا تھا جس میں پاکستان کے قابو سے باہر بیرونی عوامل کا حوالہ دیا گیا۔</p>
<p>سادھے الفاظ میں پاکستان نے اس وقت تک منصوبہ آگے بڑھانے سے اپنی معذوری ظاہر کی ہے جب تک کہ ایران پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں یا امریکا کی جانب سے اسلام آباد کو منصوبے پر آگے بڑھنے کے لیے کوئی مثبت اشارہ دیا جائے۔</p>
<p>یہ منصوبہ 24 کروڑ عوام کے جنوبی ایشیائی ملک میں توانائی کی شدید قلت کے باوجود تقریباً ایک دہائی سے سرد خانے میں پڑا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1226171">23 فروری</a></strong> 2024 کو کابینہ کی توانائی کمیٹی نے پاک ۔ ایران گیس پائپ منصوبے کے تحت 80 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 2009 میں معاہدہ طے پایا تھا کہ گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پاکستان کو فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>منصوبے کے تحت 1931 کلومیٹر پائپ لائن بچھائی جانی ہے جس میں 1150 کلومیٹر ایران اور 781 کلومیٹر پاکستان کے اندر ہوگی۔</p>
<p>منصوبے کے تحت پاکستان کو جنوری 2015 میں گیس کی سپلائی ہونی تھی تاہم اب تک منصوبہ مکمل نہ کیا جاسکا اور کب تک مکمل ہوگا اب تک یہ بھی واضح نہیں ہے۔</p>
<p>ایران منصوبے کے تحت پہلے ہی 900 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرچکا ہے، تاہم ایران کی جانب سے 250 کلومیٹر پائپ لائن کی تعمیر ہونا اب بھی باقی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1229115">21 مارچ 2024</a></strong> کو جنوبی اور وسط ایشیا کے امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے کہا تھا کہ امریکا ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے کو روکنے کے مقصد پر کام کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1240938</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Aug 2024 15:24:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/27151411d1e1946.jpg?r=151428" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/27151411d1e1946.jpg?r=151428"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
